Pages

Maulana Qasim Quraishi Banglore passed away Intaqal

Bade Ranj o Gham ke saath yeh Ittala di ja rahi hai ki 

MOULANA QASIM QURESHI SAHAB (Banglore)
 KA AAJ (23/07/2016) ASAR KI NAMAZ K BAAD
INTEQAAL HOGAYA HAI 
. _inna lillahi wa inna ilaahi razioon_

 بڑے ہی رنج وغم کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ شہربنگلور کرناٹک  کے معروف عالم دین حضرت مولانا قاسم قریشی صاحب کا بعد عصر انتقال ہو گیا ہے


إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ 

INNA LILLAHI WA INNA LILLAHI RAJEOON.............

داعئی کبیرحضرت مولانا قاسم قریشی صاحب ؒ جن کے وجود سے دعوت وتبلیغ میں جان پڑی اور کام کرنے والوں میں حقیقی جذبات پیداہوئے، جان، مال، وقت، لگانے کا اصل مفہوم آپکی زندگی سے سمجھ میں آیا، آپ کی ذات فنافی التبلیغ تھی، مرتے مرتے کرنا ہے، اور کرتے کرتے مرنا ہے کا آپ مصداق تھے، آپ کا وجود حلقۂ دعوت وتبلیغ میں خیرکا باعث تھا، آپ نے اپنی زندگی میں دعوت و تبلیغ کے لئے بہت دکھ اور تکلیف اٹھائے ہیں، ، آپکی تقریر واقعتاً انقلاب آفریں ہوتی تھی، جس سے ہزاروں کی زندگیاں بدلی ہیں، اللہ آپ کوجزائے خیرعطاءفرمائے، جنت الفردوس 
میں اعلی مقام عطاء فرمائے،
************************************************************************
میں بھی موجود تھا وہان
از : ع ز قاسمی

بزرگ عالم دین دعوت وتبلیغ کے امیر براے کرناٹک حضرت مولاناقاسم قریشی صاحب کی نماز جنازہ تیار تھی .سلطان شاہ کا اندرونی حصہ صوبہ اور بیرن صوبہ سے آے ہوے عقیدت مندوں کے جم غفیر سے کھچا کھچ بھرا تھا 
مین سلطان شاہ کے عقب مین واقع چھوٹے میدان مین تھا جہاں نماز جنازہ کے لیے صف بندی ہو رہی تھی
یہاں بھی تاحد نظر انسانوں کا ایک ٹھاٹے مارتا ہوا سمندر دکھائ دے رہا تھا  
مائک سے ایک بزرگ کچھ بیان فرما رہے تھے 
میرا خیال تھا کہ شاید وہ مولانا کی حیات و خدمات اور ان کے کار ناموں پر روشنی ڈال رہے ہوں گے 
دور دراز سے آے ہوے عقیدت مند جن کی آنکھین اپنے ایک عظیم قائد کے بچھڑ جانے سے اشک بار تھین ان کی اشک شوئ کر رہے ہوں گے 
ان کو دلاسہ دے رہے ہوں گے

مین نے کان لگاے تو مائک سے بلند ہونے والی صدائین کچھ اور کہ رہی تھین

لوگوں سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ آپ اپنی حیات مستعار کو خدا کے لیے وقف کردین 
چالیس دن اور چار مہینے کی تشکیل ہو رہی تھی 
لوگوں کو دعوت و تبلیغ کی اہمیت کو سمجھایا جارہا تھا 
گویا دعوت وتبلیغ کے مشن کو ایک لمحے کے لیے بھی فراموش نہیں کیا گیا تھا 
ایک دھن سوار تھی 
باھر کھڑے لوگ اشک بہا رہے تھے اور اندر کے حضرات سکون واطمنان کے ساتھ دعوت وتبلیغ سے متعلق سر گرمیوں مین مشغول تھے

مین کھڑا ہوا سوچ رہا تھا کہ دعوت وتبلیغ کی شاید انہی خوبیوں کی وجہ سے الله نے اس جماعت کو وہ مقام بخشا ہے کہ دنیا کا کوئ کونہ ایسا باقی نہیں ہے جہاں اس محنت سے لوگ نہ جڑے ہوں 
بس ایک جنوں ہے
ایک دیونگی ہے 
کہ لوگ ایک خدا سے روشناس کیسے ہو جائین
اور سرور کائنات حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل پیرا کیسے ہو جائین
دعوت وتبلیغ سے جڑے لوگوں مین جب تک یہ جنوں باقی ہے دنیا کی کوئ طاقت ان کا بال بانکا نہین کر سکتی      
       مفتی عیسی زاھد قاسمی




May Allah SWT forgive him, grant him the highest rank in Jannah give sabr to his family members. And Allah give us Best replacement (bahtareen Naemul badal ).

The journey of a Muslim believer (soul) after death 

Everyone has to die one day. Allah says in the Quran:
 
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ (الأنبياء: 35
 

“Everyone is going to taste death, and We shall make a trial of you with evil and with good, and to Us you will be returned.” Quran (Surah Al-Anbiya:21)
However, the return of every soul to the afterlife shall depend on its state of righteousness in this world. To the pious believers, it will be said (as stated in the Quran):

يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (الفجر: 27).
ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (الفجر: 28).
فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (الفجر: 29).
وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر: 30). 
 

27. (It will be said to the pious): “O (you) the one in (complete) rest and satisfaction!.
28. “Come back to your Lord well-pleased (yourself) and well-pleasing (unto Him)!.
29. “Enter you then among My (honored) slaves,.
30. “And enter you My Paradise!”


Maut-ul-Alim, Maut-ul-Alam (Death of a scholar is a loss to the whole Universe)


He talk used to be Full of Akhlaqiat , manner, etiquette, Maashrat and remeberance of Akhirah (life after death) the eternal life after death.

May Allah SWT give him place in Janat-ul-firdaus (amin)..

حضرت حاجی عبد الوہاب صاحب Haji Abdul Wahab

 حاجیمحمد عبد الوہاب 
 ہمارے اندازہ میں ایسی شخصیت پوری دنیا میں کم ہوگی
کہ جس کا سوائے اللہ کے؛
کوئی آگے ہو نہ پیچھے، اور جس نے دین کے لیے سب کچھ چھوڑدیا ہو،
جس کی سوچ و بچار اور خیالات و فکر کا محور اور دائرہ؛ اُمت کی اصلاح و فکر ہو،
حاجی محمد عبد الوہاب ۱۹۲۳ء؁ کو دہلی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ اِبتدائی دِینی و عصری تعلیم حاصل کر کے اِسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے اور وہاں عصری علوم کی تکمیل کر کے تحصیل دار کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 
 مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی حیات ہی میں تبلیغی کام سے منسلک ہوکر فنا فی التبلیغ ہوگئے، یہاں تک کہ نوکری بھی چھوڑدی، اولاد کوئی تھی نہیں، اہلیہ کا کچھ عرصہ کے بعد اِنتقال ہوگیا، حق تعالیٰ نے ہر طرف سے آپ کو تبلیغ کے لیے عافیت عطا فرمادی، یوں آپ نے اپنے کو تبلیغ کے لیے وقف کردیا۔ ا۔
بیعت کا تعلق حضرت مولانا عبد القادر رائے پوریؒ سے قائم کیا اور خلافت سے سرفراز ہوئے اور ایک قول کے مطابق حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے بھی خلافت حاصل ہوئی۔ یوں اس وقت آپ ہر دو مشائخ کے آخری خلیفہ ہیں۔ آپ کی قریب قریب ایک صدی پر محیط پوری زندگی دعوت و عزیمت سے عبارت ہے، آپ نے مروجہ طریق پر درس نظامی کی کتب نہیں پڑھی ہیں چنانچہ آپ باقاعدہ عالم نہیں کہلاتے لیکن جب مجمع عام میں بیان کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی عطا فرمایا ہے۔
حضرت حاجی محمد عبد الوہاب صاحب اور ان جیسے دوسرے حضرات نے اس راہِ وفا میں جو تکلیفیں اُٹھائی ہیں اور جو تنگی و ترشی برداشت کی ہے اور جن مصائب و مشکلات سے گزرے ہیں، ہم جیسا اس کا تصوّر بھی نہیں کرسکتا، اللہ کے دین کے لیے پورا پورا دن بھوکا پیاسا پیدل چل چل کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا اور لوگوں کی باتیں، گالیاں سن کر ماریں کھاکر دین کی محنت ان پر کرنا ان کے لیے معمولی بات تھی۔ حق تعالیٰ ان کو اپنی شایانِ شان بدلہ عطا فرمائے۔

Shura Tablighi Jamaat Markaz Nizamuddin Raiwind Kakarayel India Pakistan Bangladesh


                  حضرت اقدس مولانا طلحہ صاحب دامت برکاتہم کی درد بھری صدا

الله جل جلاله تمام اہل الله علماء ربانی اور اہل حق کو حضرت اقدس مولانا طلحہ صاحب دامت برکاتہم کی درد بھری صدا پر لبیک کہنے اور اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے جان کھپانے والی کوشش اور جدو جہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور الله انکا حامی وناصر ہو ۔ ہم سب دعاؤں ، صدقہ ، اور آپس کی اجتماعیت اور محبت سے ان حضرات اہل حق کی مدد ونصرت کریں ۔
یہ کام پورے دین کو اور سارے دین کے شعبوں کو ذندہ کرنے کی ایک تحریک ہے جو الله پاک کا ایک عجیب وغریب اور خاص عطیہ ہے (لیکن بذات خود نہ یہ کامل دین ہے نہ کامل دین کی واحد محنت البتہ کامل دین اور کامل دین کی محنت کو ذندہ کرنے کی ایک تحریک ہے ۔ جیسا کہ حضرت مولانا الیاس نور الله مرقدہ نے فرمایا کہ ہماری چلت پھرت الف با تا ہے ، تقریباً مفہوم ۔ اور یہ بھی  فرمایا کے اس محنت سے ہزاروں خانقاہیں اور مدارس وجود میں آئینگے ) انتہائ عظیم نعمت ہے ۔  اہل باطل کا دیرینہ کھیل ہے اور سازشوں کا جال ہے ،
۔ اسکا علاج صرف یہ ہے جو حضرت مولانا طلحہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے فرمایا ہے
۔ یہ امت کی امانت ہے ۔ یہ "تبلیغ جماعت " نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر تحریک ہے ۔ الله ہم سبکو فہم سلیم عطا فرمائے اور واقعی اوّل اپنے لیے اور پھر درجہ بدرجہ امت کے تمام طبقات کے لیے آخرت کی فکر عطا فرمائے اور اور درد دل عطا فرمائے اور ہر مسلمان کی اسکے مرتبہ کے مطابق قدردانی کی توفیق عطا فرمائے اور  الله جل جلا له کی محبت کی بنیاد پر آپس میں محبت عطا فرمائے اور ہمارے پیارے محبوب نبی صلی علیہ وسلم کے درد و غم کی بنیاد پر اجتماعیت عطا فرمائے آمین آمین آمین آمین یا رب العالمین ۔

     مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل    
  
     اجتماعیت میں خیر ،اللہ پاک کی مدد اور فتنوں سے حفاظت ہے ۔                          
مرکز نظام الدین کی اجتماعی شوری16ٰ نومبر 2015میں 5 اکابر کی بنی ہے ۔۔ 
        مولانا سعد صاحب دامت برکاتهم          
مولانا ابراھیم صاحب دامت برکاتهم
 مولانا احمد لاٹ صاحب دامت برکاتهم
مولانا یعقوب صاحب دامت برکاتهم
 مولانا زھیر الحسن صاحب دامت برکاته

   تمام مسلمانشوریٰ کو تعاون دیں یعنی انفرادی رائے سے بچتے ہوئے شوریٰ کے اجتماعی مشورہ سے یکسوں ہوکر اللہ کیلئے جان مال وقت کی قربانی کیساتھ دین کی محنت کریں اور اپنی ہدایت اور سارے انسانیت کی ہدایت کی فکر کریں

نومبر ۲۰۱۵ میں رائیونڈ کے اجتماع کے موقع پر حاجی عبد الوہاب صاحب کی بذرگوں کی اتفاق رائے سے توسیع کی ہو ئ شوری 


Mashware ka Urdu Typing



English Translation: 


Allah Rabbul Izzat had in this era,  , without any apparent resources, for revival of deen in the whole world, And in accordance of the way of the Prophet (saw) rekindled the striving for deen using Maulana Muhammed Ilyas  (rah). Laying its foundation with struggle and sacrifice. 
Before his passing away and upon his own insistence, through the unanimous decision by Mashwara of convergent Ulmae Haq thinkers of the time, selected Hazratji Maulana Yousuf sahab (rah) as the Zimmedar . 
who, on the lines of Maulana Ilyas sahab (rah) and in the light of Qur’an, blessed Hadith, Seerat Nabawi (saw) and the blessed lives of the noble Sahabah (radh), explained the motives and method of the work. Thus firmly holding the scales of balance, he presented forth the detailed roadmap of the work before the ummah. And the work spread throughout the world. 
Upon the passing away of Maulana Yousuf sahab (rah)Shaikh ul Hadeeth Hazrat Maulana Muhammed Zakariyya (rah) through the mashwara of convergent Ahle Haq Ulema thinkers, ceded the responsibility of this blessed work to Hazratji Maulana Inamul Hasan sahab (rah) 
He did a lot of work, preserved the Nahaj (manner) of tableegh. And to guard the real Nahaj of the work which was now spread to faraway lands, with the Mashwara of his near ones, made the arrangement of ‘shura’ in different countries. 
At some places, an Ameer was made along with the Shura and elsewhere made arrangement to select an arbiter (Faisal) by turns, from amongst the people of Mashwara. 
Thus to supervise the work & its progress spreading the entire nation, he constituted a shura of ten people around himself who under the supervision of Hazratji (rah) took all the working shura & individuals from everywhere under its wings. 
After the demise of Hazratji (rah) the ‘shura’ remained working on the same nahaj on which the previous three Akabir had taken course. 
On November 2015, Nizamuddin, Raiwind, Bangladesh and old workers/ zimmedars from different nations felt the need to complete the shura established by Hazratji (rah) of which eight people had passed away and only two remained. Such that the nahaj and methodology of this work was preserved. 

And whenever the need for any additions or corrections was observed, it could be executed through the complete unanimity of the shura, such that collectivity was maintained. And that no practice would be initiated either at Nizamuddin, Raiwind or Kakarayel without the approval of this shura. 

In the course of absence of any shura member (by demise), the shura then has to fill the void through the consensus of minimum two third of the shura. Such that the existence of shura is maintained. This blessed work belongs to the ummah and is a collective responsibility. 
After discussions and taking opinions from old workers of every place, this shura including the names of Hazrat Haji Abdul Wahhab sahab (db) and Hazrat Maulana Muhammed Saad sahab (db) has added the following names. Insha Allah this shura in future shall be comprised of 13 individuals. 
1. Hazrat Haji Abdul Wahhab sahab (db) 
2.Hazrat Maulana Muhammed Saad sahab (db)
3.Hazrat Maulana Ibrahim Dewla (db) (Nizamuddin) 
4. Hazrat Maulana Yaqoob saharanpuri (db) (Nizamuddin) 
5. Hazrat Maulana Ahmed Laat (db) (Nizamuddin) 
6. Hazrat Maulana Zuhairul Hasan (db) (Nizamuddin) 
7. Hazrat Maulana Nazrur Rahman (Raiwind) 
8. Hazrat Maulana Abdur Rahman (Raiwind) 
9. Hazrat Maulana ubaidullah Khurshid (db) (Raiwind) 
10. Hazrat Maulana Zia ul Haq (db) (Raiwind) 

11.Hazrat Qari Zubair sahab (db) (kakarayel) 

11. Hazrat Maulana Rabeul Haq (Kakarayel) 

12. Bhai Wasif ul Islam (kakarayel) 



The five shura members in this shura from Nizamuddin would constitute the Mashwara at Nizamuddin and this Shura shall oversee the general functioning of Nizamuddin through Mashwara. 
4th Safar 1437 / 16th November 2015 


Undersigned 
(Hazrat Haji) Muhammed Abdul Wahhab sahab (db) 
(Hazrat) Maulana Ahmed laat sahab (db) 
(Hazrat) Maulana Tariq jameel sahab (db) 
(Hazrat) Dr Sanaullah sahab (db) 
(Hazrat) Maulana Muhammed Yaqoob sahab (db)
(Hazrat) Maulana Muhammed Ihsan ul Haq sahab (db) 

(Hazrat) Bhai Farooq sahab (db) 

(Hazrat) Dr Roohullah sahab (db) 
(Hazrat) Bhai Chaudhry Muhammed Rafeeq sahab (db) 
(Hazrat) Maulana Nazrur Rahman sahab (db) 
(Hazrat) Dr Muhammed Khalid Siddiqui sahab (db) 

(Hazrat) Bhai Bakht Muneer sahab (db) 

(Hazrat) Professor Abdur Rahman sahab (db) 

(Hazrat) Maulana Ismail Godhra sahab (db) 

Roza Zakat Aitakaf ke Masla Masael روزہ کے مسائل

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 8-9 ، جلد: 95 ‏، رمضان — شوال 1432 ہجری مطابق اگست — ستمبر 2011ء


احکام رمضان المبارک و مسائل زکوٰة

از:  حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ، سابق مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند      

                رمضان المبارک کے روزے رکھنا اسلام کا تیسرا فرض ہے۔ جو اس کے فرض ہونے کا انکار کرے مسلمان نہیں رہتا اور جو اس فرض کو ادا نہ کرے وہ سخت گناہ گار فاسق ہے۔
روزہ کی نیت:
                نیت کہتے ہیں دل کے قصد وارادہ کو، زبان سے کچھ کہے یا نہ کہے۔
                روزہ کے لیے نیت شرط ہے، اگر روزہ کا ارادہ نہ کیا اور تمام دن کچھ کھایا پیا نہیں تو روزہ نہ ہوگا۔
                مسئلہ: رمضان کے روزے کی نیت رات سے کرلینا بہتر ہے اور رات کو نہ کی ہوتو دن کو بھی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے تک کرسکتا ہے؛ بشرطیکہ کچھ کھایا پیا نہ ہو۔
جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے:
                (۱) کان اور ناک میں دوا ڈالنا، (۲) قصداً منہ بھر قے کرنا، (۳) کلی کرتے ہوئے حلق میں پانی چلا جانا، (۴) عورت کو چھونے وغیرہ سے انزال ہوجانا، (۵) کوئی ایسی چیز نگل جانا جو عادةً کھائی نہیں جاتی ، جیسے لکڑی، لوہا، کچا گیہوں کا دانہ وغیرہ، (۶) لوبان یا عود وغیرہ کا دھواں قصداً ناک یا حلق میں پہنچانا، بیڑی، سگریٹ، حقہ پینا اسی حکم میں ہیں، (۷) بھول کر کھاپی لیا اور یہ خیال کیا کہ اس سے روزہ ٹوٹ گیا ہوگا پھر قصداً کھاپی لیا، (۸) رات سمجھ کر صبح صادق کے بعد سحری کھالی، (۹) دن باقی تھا؛ مگر غلطی سے یہ سمجھ کر کہ آفتاب غروب ہوگیا ہے، روزہ افطار کرلیا۔
                تنبیہ: ان سب چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، مگر صرف قضا واجب ہوتی ہے، کفارہ لازم نہیں ہوتا۔
                (۱۰) جان بوجھ کر بدون بھولنے کے بی بی سے صحبت کرنے یا کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا بھی لازم ہوتی ہے اور کفارہ بھی۔
                کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے ورنہ ساٹھ روزے متواتر رکھے، بیچ میں ناغہ نہ ہو ورنہ پھر شروع سے ساٹھ روزے پورے کرنے پڑیں گے اور اگر روزہ کی بھی طاقت نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھرکر کھانا کھلاوے۔ آج کل شرعی غلام یا باندی کہیں نہیں ملتے؛ اس لیے آخری دو صورتیں متعین ہیں۔
وہ چیزیں جن سے روزہ ٹوٹتا نہیں؛ مگر مکروہ ہوجاتا ہے:
                (۱) بلاضرورت کسی چیز کو چبانا یا نمک وغیرہ چکھ کر تھوک دینا، ٹوتھ پیسٹ یا منجن یا کوئلہ سے دانت صاف کرنا بھی روزہ میں مکروہ ہیں۔
                (۲) تمام دن حالت جنابت میں بغیر غسل کیے رہنا۔
                (۳) فصد کرانا، کسی مریض کے لیے اپنا خون دینا جو آج کل ڈاکٹروں میں رائج ہے یہ بھی اس میں داخل ہے۔
                (۴) غیبت یعنی کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا یہ ہرحال میں حرام ہے، روزہ میں اس کا گناہ اور بڑھ جاتا ہے۔
                (۵) روزہ میں لڑنا جھگڑنا، گالی دینا خواہ انسان کو ہو یا کسی بے جان چیز کو یا جاندار کو، ان سے بھی روزہ مکروہ ہوجاتا ہے۔
وہ چیزیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور مکروہ بھی نہیں ہوتا!
                (۱) مسواک کرنا ۔ (۲) سر یا مونچھوں پر تیل لگانا۔ (۳) آنکھوں میں دوا، یا سُرمہ ڈالنا۔ (۴) خوشبو سونگھنا۔ (۵) گرمی اور پیاس کی وجہ سے غسل کرنا۔ (۶) کسی قسم کا انجکشن یا ٹیکہ لگوانا۔ (۷) بھول کر کھانا پینا۔ (۸) حلق میں پانی ڈالنا یا بلاقصد چلا جانا۔ (۱۰) خود بخود قے آجانا۔ (۱۱) سوتے ہوئے احتلام (غسل کی حاجت) ہوجانا۔ (۱۲) دانتوں میں سے خون نکلے؛ مگر حلق میں نہ جائے تو روزہ میں خلل نہیں آیا۔ (۱۳) اگر خواب میں یا صحبت سے غسل کی حاجت ہوگئی اور صبح صادق ہونے سے پہلے غسل نہیں کیا اور اسی حالت میں روزہ کی نیت کرلی تو روزہ میں خلل نہیں آیا۔
وہ عذر جن سے رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوتی ہے:
                (۱) بیماری کی وجہ سے روزہ کی طاقت نہ ہو، یا مرض بڑھنے کا شدید خطرہ ہوتو روزہ نہ رکھنا جائز ہے، بعد رمضان اس کی قضا لازم ہے۔
                (۲) جو عورت حمل سے ہو اور روزہ میں بچہ کو یا اپنی جان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتو روزہ نہ رکھے، بعد میں قضا کرے۔
                (۳) جو عورت اپنے یا کسی غیر کے بچہ کو دودھ پلاتی ہے، اگر روزہ سے بچہ کو دودھ نہیں ملتا، تکلیف پہنچتی ہے تو روزہ نہ رکھے پھر قضا کرے۔
                (۴) مسافر شرعی (جو کم از کم اڑتالیس میل کے سفر کی نیت پر گھر سے نکلا ہو) اس کے لیے اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھے، پھر اگر کچھ تکلیف ودقت نہ ہوتو افضل یہ ہے کہ سفر ہی میں روزہ رکھ لے اگر خود اپنے آپ کو یا اپنے ساتھیوں کو اس سے تکلیف ہوتو روزہ نہ رکھنا ہی افضل ہے۔
                (۵) بحالت روزہ سفر شروع کیا تو اس روزة کا پورا کرنا ضروری ہے اور اگر کچھ کھانے پینے کے بعد سفر سے وطن واپس آگیا تو باقی دن کھانے پینے سے احتراز کرے، اور اگر ابھی کچھ کھایا پیا نہیں تھا کہ وطن میں ایسے وقت واپس آگیا جب کہ روزہ کی نیت ہوسکتی ہو یعنی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل تو اس پر لازم ہے کہ روزہ کی نیت کرلے۔
                (۶) کسی کو قتل کی دھمکی دے کر روزہ توڑنے پر مجبور کیا جائے تو اس کے لیے توڑ دینا جائز ہے پھر قضا کرلے۔
                (۷) کسی بیماری یا بھوک پیاس کا اتنا غلبہ ہوجائے کہ کسی مسلمان دیندار ماہر طبیب یا ڈاکٹر کے نزدیک جان کا خطرہ لاحق ہوتو روزہ توڑدینا جائز؛ بلکہ واجب ہے اور پھر اس کی قضا لازم ہوگی۔
                (۸) عورت کے لیے ایام حیض میں اور بچہ کی پیدائش کے بعد جو خون آتا ہے یعنی نفاس اس کے دوران میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ ان ایام میں روزہ نہ رکھے بعد میں قضا کرے۔ بیمار، مسافر، حیض ونفاس والی عورت جن کے لیے رمضان میں روزہ رکھنا اور کھانا پینا جائز ہے ان کو بھی لازم ہے کہ رمضان کا احترام کریں، سب کے سامنے کھاتے پیتے نہ پھریں۔
روزہ کی قضا
                (۱) کسی عذر سے روزہ قضا ہوگیا تو جب عُذر جاتا رہے جلد ادا کرلینا چاہیے۔ زندگی اور طاقت کا بھروسہ نہیں، قضا روزوں میں اختیار ہے کہ متواتر رکھے یا ایک ایک دودو کرکے رکھے۔
                (۲) اگر مسافر سفر سے لوٹنے کے بعد یا مریض تندرست ہونے کے بعد اتنا وقت نہ پائے کہ جس میں قضا شدہ روزے ادا کرے تو قضا اس کے ذمہ لازم نہیں۔ سفر سے لوٹنے اور بیماری سے تندرست ہونے کے بعد جتنے دن ملیں، اتنے ہی کی قضا لازم ہوگی۔
سحری
                روزہ دار کو آخر رات میں صبحِ صادق سے پہلے پہلے سحری کھانا مسنون اور باعثِ برکت وثواب ہے۔ نصف شب کے بعد جس وقت بھی کھائیں سحری کی سنت ادا ہوجائے گی؛ لیکن بالکل آخر شب میں کھانا افضل ہے۔ اگر موٴذّن نے صبح سے پہلے اذان دے دی تو سحری کھانے کی ممانعت نہیں؛ جب تک صبح صادق نہ ہوجائے۔ سحری سے فارغ ہوکر روزہ کی نیت دل میں کرلینا کافی ہے اور زبان سے بھی یہ الفاظ کہہ لے تو اچھا ہے بِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ
اِفطاری
                آفتاب کے غروب ہونے کا یقین ہوجانے کے بعد افطار میں دیر کرنا مکروہ ہے، ہاں جب اَبر وغیرہ کی وجہ سے اشتباہ ہوتو دو چار منٹ انتظار کرلینا بہتر ہے اور تین منٹ کی احتیاط بہرحال کرنا چاہیے۔
                کھجور اور خرما سے افطار کرنا افضل ہے اور کسی دوسری چیز سے افطار کریں تو اس میں بھی کوئی کراہت نہیں، افطار کے وقت یہ دُعا مسنون ہے اَللّٰہُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ اور افطار کے بعد یہ دعا پڑھے ذَہَبَ الظَّمَاءُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ․
تراویح
                (۱)رمضان المبارک میں عشاء کے فرض اور سنت کے بعد بیس رکعت سنت موٴکدہ ہے۔
                (۲) تراویح کی جماعت سنت علی الکفایہ ہے۔ محلہ کی مسجد میں جماعت ہوتی ہواور کوئی شخص علیحدہ اپنے گھر میں اپنی تراویح پڑھ لے تو سنت ادا ہوگئی، اگرچہ مسجد اور جماعت کے ثواب سے محروم رہا اور اگر محلہ ہی میں جماعت نہ ہوئی تو سب کے سب ترک سنت کے گنہگار ہوں گے۔
                (۳) تراویح میں پورا قرآن مجید ختم کرنا بھی سنت ہے۔ کسی جگہ حافظِ قرآن سنانے والانہ ملے یا ملے؛ مگر سنانے پر اجرت ومعاوضہ طلب کرے تو چھوٹی سورتوں سے نماز تراویح ادا کریں، اُجرت دے کر قرآن نہ سنیں؛ کیوں کہ قرآن سنانے پر اجرت لینا اور دینا حرام ہے۔
                (۴) اگر ایک حافظ ایک مسجد میں بیس رکعت پڑھ چکا ہے، اس کو دوسری مسجد میں اسی رات تراویح پڑھنا درست نہیں۔
                (۵) جس شخص کی دوچار رکعت تراویح کی رہ گئی ہو تو جب امام وتر کی جماعت کرائے اس کو بھی جماعت میں شامل ہوجانا چاہیے، اپنی باقی ماندہ تراویح بعد میں پوری کرے۔
                (۶) قرآن کو اس قدر جلد پڑھنا کہ حروف کٹ جائیں بڑا گناہ ہے، اس صورت میں نہ امام کو ثواب ہوگا، نہ مقتدی کو۔ جمہور علماء کا فتویٰ یہ ہے کہ نابالغ کو تراویح میں امام بنانا جائز نہیں۔
اِعتکاف
                (۱) اعتکاف اس کو کہتے ہیں کہ اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں رہے اور سوائے ایسی حاجات ضروریہ کے جو مسجد میں پوری نہ ہوسکیں (جیسے پیشاب، پاخانہ کی ضرورت یا غسل واجب اور وضو کی ضرورت) مسجد سے باہر نہ جائے۔
                (۲) رمضان کے عشرئہ اخیر میں اعتکاف کرنا سنت موٴکدہ علی الکفایہ ہے۔ یعنی اگر بڑے شہروں کے محلہ میں اور چھوٹے دیہات کی پوری بستی میں کوئی بھی اعتکاف نہ کرے تو سب کے اوپر ترکِ سنت کا وبال رہتا ہے اور کوئی ایک بھی محلہ میں اعتکاف کرے تو سب کی طرف سے سنت ادا ہوجاتی ہے۔
                (۳) بالکل خاموش رہنا اعتکاف میں ضروری نہیں؛ بلکہ مکروہ ہے؛ البتہ نیک کلام کرنا اور لڑائی جھگڑے اور فضول باتوں سے بچنا چاہیے۔
                (۴) اعتکاف میں کوئی خاص عبادت شرط نہیں، نماز، تلاوت یا دین کی کتابوں کا پڑھنا پڑھانا یا جو عبادت دل چاہے کرتا رہے۔
                (۵) جس مسجد میں اعتکاف کیاگیا ہے، اگر اس میں جمعہ نہیں ہوتا، تو نماز جمعہ کے لیے اندازہ کرکے ایسے وقت مسجد سے نکلے جس میں وہاں پہنچ کر سنتیں ادا کرنے کے بعد خطبہ سن سکے۔ اگر کچھ زیادہ دیر جامع مسجد میں لگ جائے، جب بھی اعتکاف میں خلل نہیں آتا۔
                (۶) اگر بلا ضرورت طبعی شرعی تھوڑی دیر کو بھی مسجد سے باہر چلا جائے گا تو اعتکاف جاتا رہے گا، خواہ عمداً نکلے یا بھول کر۔ اس صورت میں اعتکاف کی قضا کرنا چاہیے۔
                (۷) اگر آخر عشرہ کا اعتکاف کرنا ہوتو ۲۰/تاریخ کو غروبِ آفتاب سے پہلے مسجد میں چلا جائے اور جب عید کا چاند نظر آجائے تب اعتکاف سے باہر ہو۔
                (۸) غسلِ جمعہ یا محض ٹھنڈک کے لیے غسل کے واسطے مسجد سے باہر نکلنا مُعتکف کو جائز نہیں۔
شبِ قدر
                چونکہ اس امت کی عمریں بہ نسبت پہلی امتوں کے چھوٹی ہیں؛ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک رات ایسی مقرر فرمادی ہے کہ جس میں عبادت کرنے کا ثواب ایک ہزار مہینہ کی عبادت سے بھی زیادہ ہے؛ لیکن اس کو پوشیدہ رکھا؛ تاکہ لوگ اس کی تلاش میں کوشش کریں اور ثواب بے حساب پائیں۔ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شبِ قدر ہونے کا زیادہ احتمال ہے یعنی ۲۱ ویں، ۲۳ ویں، ۲۵ویں، ۲۷ویں، ۲۹ویں شب۔ اور ۲۷ویں شب میں سب سے زیادہ احتمال ہے۔ ان راتوں میں بہت محنت سے عبادت اور توبہ واستغفار اور دعا میں مشغول رہنا چاہیے۔ اگر تمام رات جاگنے کی طاقت یا فرصت نہ ہوتو جس قدر ہوسکے جاگے اور نفل نماز یا تلاوتِ قرآن یا ذکر وتسبیح میں مشغول رہے اور کچھ نہ ہوسکے تو عشاء اور صبح کی نماز جماعت سے ادا کرنے کا اہتمام کرے، حدیث میں آیا ہے کہ یہ بھی رات بھر جاگنے کے حکم میں ہوجاتا ہے، ان راتوں کو صرف جلسوں تقریروں میں صرف کرکے سوجانا بڑی محرومی ہے، تقریریں ہر رات ہوسکتی ہیں، عبادت کا یہ وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا۔
                البتہ جولوگ رات بھر عبادت میں جاگنے کی ہمت کریں، وہ شروع میں کچھ وعظ سن لیں، پھر نوافل اور دعا میں لگ جائیں تو دُرست ہے۔
ترکیب نمازِ عید
                اول زبان یا دل سے نیت کرو کہ دو رکعت نمازِ عید واجب مع چھ زائد تکبیروں کے پیچھے اس امام کے۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لو اور سُبْحَانَکَ اللّٰہم پڑھو پھر دوسری اور تیسری تکبیر میں ہاتھ کانوں تک اٹھاکر چھوڑ دو اور چوتھی میں باندھ لو اور جس طرح ہمیشہ نماز پڑھتے ہوپڑھو۔ دوسری رکعت میں سورت کے بعد جب امام تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہہ کر پہلی، دوسری اور تیسری دفعہ میں ہاتھ کانوں تک اٹھاکر چھوڑ دو اور چوتھی تکبیر کہہ کر بلاہاتھ اُٹھائے رکوع میں چلے جاؤ۔ باقی نماز حسب دستور تمام کرو۔ خطبہ سُن کر واپس جاؤ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ․
مسائل زکوٰة
وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّکوٰةَ
                مسئلہ: اگر کسی کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا ہے یا اس میں سے کسی ایک کی قیمت کے برابر روپیہ یا نوٹ ہے تو اس پر زکوٰة فرض ہے۔ نقد روپیہ بھی سونے چاندی کے حکم میں ہے (شامی) اور سامانِ تجارت اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس پر بھی زکوٰة فرض ہے۔
                مسئلہ: کارخانے اور مِل وغیرہ کی مشینوں پر زکوٰة فرض نہیں؛ لیکن ان میں جو مال تیار ہوتا ہے اس پر زکوٰة فرض ہے ، اسی طرح جو خام مال کارخانہ میں سامان تیار کرنے کے لیے رکھا ہے اس پر بھی زکوٰة فرض ہے (درمختار وشامی)
                مسئلہ: سونے چاندی کی ہر چیز پر زکوٰة واجب ہے، زیور، برتن؛ حتی کہ سچاگوٹہ، ٹھپہ، اصلی زری، سونے چاندی کے بٹن، ان سب پر زکوٰة فرض ہے، اگرچہ ٹھپہ گوٹہ اور زری کپڑے میں لگے ہوئے ہوں۔
                مسئلہ: کسی کے پاس کچھ روپیہ، کچھ سونا یا چاندی اور کچھ مالِ تجارت ہے؛ لیکن علیحدہ علیحدہ بقدر نصاب ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں ہے تو سب کو ملاکر دیکھیں اگر اس مجموعہ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہوجائے توزکوٰة فرض ہوگی اور اگر اس سے کم رہے تو زکوٰة فرض نہیں (ہدایہ)
                مسئلہ: مِلوں اور کمپنیوں کے شیئرز پر بھی زکوٰة فرض ہے؛ بشرطیکہ شیئرز کی قیمت بقدر نصاب ہو یا اس کے علاوہ دیگر مال مِل کر شیئرہولڈر مالک نصاب بن جاتا ہو؛ البتہ کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں؛ چونکہ مشینری اور مکان اور فرنیچر وغیرہ کی لاگ بھی شامل ہوتی ہے جو درحقیقت زکوٰة سے مستثنیٰ ہے؛ اس لیے اگر کوئی شخص کمپنی سے دریافت کرکے جس قدر رقم اس کی مشینری اور مکان اور فرنیچر وغیرہ میں لگی ہوئی ہے، اُس کو اپنے حصے کے مطابق شیئرز کی قیمت میں سے کم کرکے باقی کی زکوٰة دے تو یہ بھی جائز اور درست ہے۔ سال کے ختم پر جب زکوٰة دینے لگے اس وقت جو شیئرز کی قیمت ہوگی وہی لگے گی۔ (درمختار وشامی)
                مسئلہ: پراویڈنٹ فنڈ جو ابھی وصول نہیں ہوا اُس پر بھی زکوٰة فرض ہے؛ لیکن ملازمت چھوڑنے کے بعد جب اس فنڈ کا روپیہ وصول ہوگا، اس وقت اس روپیہ پر زکوٰة فرض ہوگی، بشرطیکہ یہ رقم بقدرِ نصاب ہو یا دیگر مال کے ساتھ مل کر بقدر نصاب ہوجاتی ہو وصولیابی سے قبل کی زکوٰة پراویڈنٹ کی رقم پر واجب نہیں، یعنی پچھلے سالوں کی زکوٰة فرض نہیں ہوگی۔
                مسئلہ: صاحب نصاب اگر کسی سال کی زکوٰة پیشگی دے دے تو یہ بھی جائز ہے؛ البتہ اگر بعد میں سال پورا ہونے کے اندر مال بڑھ گیا تو اس بڑھے ہوئے مال کی زکوٰة علیحدہ دینا ہوگی۔ (درمختار وشامی)
                جس قدر مال ہے اس کا چالیسواں حصہ(۴۰---۱) دینا فرض ہے یعنی ڈھائی فیصد مال دیا جائے گا۔ سونے، چاندی اور مال تجارت کی ذات پر زکوٰة فرض ہے اس کا ۴۰---۱ دے اگر قیمت دے تو یہ بھی جائز ہے؛ مگر قیمتِ خرید نہ لگے گی، زکوٰة واجب ہونے کے وقت جو قیمت ہوگی اس کا ۴۰---۱دینا ہوگا (درمختار،ج:۲)
                مسئلہ: ایک ہی فقیر کو اتنا مال دے دینا کہ جتنے مال پر زکوٰة فرض ہوتی ہے، مکروہ ہے؛ لیکن اگر دے دیا تو زکوٰة ادا ہوگئی اور اس سے کم دینا بغیر کراہت کے جائز ہے۔ (ہدایہ ج۱)
                مسئلہ: زکوٰة ادا ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ جو رقم کسی مستحقِ زکوٰة کو دی جائے وہ اس کی کسی خدمت کے معاوضہ میں نہ ہو۔
                مسئلہ: ادائیگی زکوٰة کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ زکوٰة کی رقم کسی مستحق زکوٰة کو مالکانہ طور پر دے دی جائے، جس میں اس کو ہر طرح کا اختیار ہو، اس کے مالکانہ قبضہ کے بغیرزکوٰة ادا نہ ہوگی۔