Pages

Avoiding little children’s going out at the time of sunset

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم
اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔

Avoiding little children’s going out at the time of sunset

Allah has made Prophet Muhammad’s (PBUH) sayings and acts example (a case in point) for all the humans to come till the Day of Judgment (as mentioned in the Holy Quran, “There is indeed a good model for you in the Messenger of Allah” (PBUH). We firmly believe that our success in both the worlds lies in nothing else but obeying the commandments of Prophet Muhammad (PBUH). At this point I want to raise an issue about something that is practiced by almost none, whether common people or uncommon, and that is avoiding little children’s going out at the time of sunset.

Prophet Muhammad (PBUH) said, “When the sun is about to set, stop your children from going out because at that time the devils let loose. Children can be allowed to go out when a part of night has passed.” (Sahih Bukhari)

Similarly Prophet Muhammad (PBUH) said, “Do not let your cattle and children go out at the time of sunset because at the time of sunset the devils come out. Let them go out when a portion of night is over.” (Sahih Muslim)

In the light of these two sayings of Prophet Muhammad (PBUH) recorded in Sahih Bukhari and Sahih Muslim and other sayings of Prophet Muhammad (PBUH)), right from the best of periods (the first Hijrah century) till the contemporary times, scholars of Hadeeth, commentators, and our respected Ulama have maintained that we should avoid letting our children go out from a little before sunset till a while after it is over. However, in the light of other sayings of Prophet Muhammad (PBUH) our respected Ulama have written that this instruction of Prophet Muhammad (PBUH) is to motivate us and not impose something. It means that Prophet Muhammad (PBUH) has motivated the people of his Ummah that around this time (around sunset) they should keep little children indoors.   

Mohammad Najeeb Qasmi (www.najeebqasmi.com)

आफताब के डूबने के वक़्त छोटे बच्चों का बाहर 

जाने से रोकना

अल्लाह तबारक व तआला ने हुज़ूर अकरम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम के क़ौल व अमल को क़यामत क़यामत तक आने वाले इंसानों के लिए उसवा यानी नमूना बनाया है। (लकद काना लकुम फी रसूलिल्लाहि उसवतुन हसना)। हमारा ईमान है कि हुज़ूर अकरम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम का हुकुम बजालाने में ही दोनों जहाँ की कामयाबी पोशीदा है। इस वक़्त एक ऐसे मसला का ज़िक्र करना चाहता हूँ जिस पर तकरीबन हर खास व आम का अमल खत्म हो गया है और वह है सूरज डूबने के वक़्त छोटे बच्चों को घर से बाहर निकलने से मना करना।
हुज़ूर अकरम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने इरशाद फरमाया ‘‘जब सूरज के डूबने का वक़्त आ जाए तो अपने बच्चों को बाहर निकलने से रोको क्योंकि उस वक़्त शैतान फैल जाते हैं। जब रात का कुछ हिस्सा गुज़र जाए तो बाहर जाने दिया जाए‘‘ (सही बुखारीकिताब बदउल इखालकबाब सुफ्फा इबलीस व जुनूदेहि 3280)
इसी तरह हुज़ूर अकरम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने इरशाद फरमाया ‘‘सूरज डूबने के वक़्त चैपायों और बच्चों को बाहर न भेजो क्योंकि सूरज डूबने के वक़्त शैतान फैल जाते हैं। जब रात का कुछ हिस्सा गुज़र जाए तो बाहर जाने दो‘‘ (सही मुस्लिमकिताबुल उशरिबा,बाबुल अमर बितगीतिल अनाए व ईकाए 3764)
सही बुखारी व सही मुस्लिम की इन दोनों अहादीस और इस मौज़ू पर दूसरे अहादीसे नबविया की रोशनी में खैरूल क़ुरून से अस्रे हाज़िर के मुहद्दिसीनमुफस्सेरीन और उलमा--किराम ने कहा है कि सूरज डूबने से कुछ पहले और सूरज डूबने के कुछ देर तक छोटे बच्चों को बाहर निकलने से रोकना चाहिए। लेकिन दूसरी अहादीसे नबविया की रोशनी में उलमा--किराम ने लिखा है कि हुज़ूर अकरम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम का यह हुकुम इल्ज़ामी नहीं है बल्कि तर्गीबी है यानी हुज़ूर अकरम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने अपनी उम्मत के अफराद को तर्गीब दी है कि उस वक़्त छोटे बच्चों को घर ही में रखें।
मुहम्मद नजीब क़ासमी (www.najeebqasmi.com)

Aqwal Zarrein Quotes in Urdu

 اقوال زریں  

1- سفرکا مزه لینا هو توساتھ میں سامان کم رکھیں.زندگی کا مزه لینا هو تودل کے ارمان کم رکھیں.

2- مٹی کی پکڑ بہت مضبوط هوتی هے.سنگ مرمر پر تو پاؤں هی پھسلا کرتے هیں.

3- زندگی کو اتنا سیریس مت لو دنیا سے زنده کوئی بھی نهیں گیا.

4- جن کے پاس سکے تھےوه مزے سے بارش میں بھیگتےرهے.جن کے پاس نوٹ تھےوه چھت تلاش کرتے ره گیۓ.

5- پیسه انسان کو اوپر لیجا سکتا هےلیکن انسان پیسے کو کبھی اوپر لے کر نهیں جا سکتا.

6- کمائی چھوٹی یا بڑی هو سکتی هےلیکن روٹی کا سائز هر گھر میں ایک جیسا هی هوتا هے.

7- انسان کی چاهت هےکه اڑنے کو پر ملےاور پرندے کی چاهت هے رهنےکو گھر ملے.

8- چھوٹی چھوٹی باتیں دل میں رکھنےسے بڑے بڑے رشتے کمزور هو جاتے هیں.

9- پیٹھ پیچھے آپکی بات چلے تو گبھرانا مت کیونکہ بات انھیں کی هوتی هے جن میں کوئی بات هوتی هے..

Isha aur Fajir ki namaz salat Hadith sahih Muslim


✨��عشاء اور فجر کی جماعت کی فضیلت کا بیان✨��

��سیدنا عبدالرحمن بن ابی عمرہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللّٰه عنہ مغرب کے بعد مسجد میں آئے اور اکیلے بیٹھ گئے۔ میں ان کے پاس جا بیٹھا۔

��انہوں نے کہا کہ اے میرے بھتیجے! میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم فرماتے تھے کہ جس نے عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی
��تو گویا آدھی رات تک نفل پڑھتا رہا (یعنی ایسا ثواب پائے گا)
��اور جس نے صبح کی نماز جماعت سے پڑھی وہ گویا ساری رات نماز پڑھتا رہا۔
صحيح مسلم اردو),٠٦۔ المساجد,٠٨٨۔ عشاء اور فجر کی جماعت کی فضیلت کا بیان۔حدیث نمبر: 324


����عشاء اور فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا نہ کرنے پر سخت وعید��
��

��سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰه عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ نماز عشاء اور فجر منافقوں پر بہت بھاری ہیں

��اگر اس کا اجر جانتے تو گھٹنوں کے بل چل کر آتے۔ اور میں نے تو ارادہ کیا کہ نماز کا حکم دوں کہ (جماعت) نماز کھڑی کی جائے اور ایک شخص کو کہوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور چند لوگوں کے ساتھ ایک ڈھیر لکڑیوں کا لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو لوگ نماز میں نہیں آئے اور ان کے گھروں کو جلا دوں۔ اور ایک دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ہڈی فربہ جانور کی پائے تو ضرور آئے (یعنی نماز کو)۔
حدیث نمبر: 325

��سیدنا عبداللّٰه بن مسعود رضی اللّٰه عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وآله وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ جمعہ میں حاضر نہیں ہوتے،
��ان کے حق میں ارادہ کرتا ہوں کہ حکم کروں ایک شخص کو جو لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ان لوگوں کے گھروں کو جلا دوں جو جمعہ میں نہیں آئے۔
صحيح مسلم اردو),٠٦۔ المساجد,٠٨٩۔ عشاء اور فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا نہ کرنے پر سخت وعید۔حدیث نمبر:326

Deeni Madaris ki Qadr o Manzilat Mufti Taqi Usmani


 دینی مدارس کی قدر و منزلت 
از حضرت مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ


حضور اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم نے قرآن و حدیث کی تعلیم کا آغاز ایک ایسے چبوترے سے کیا تھا جس کے اوپر چھت بھی نہین تھی مطبخ تو بڑی بات ھے لوگ کھجور کے خوشے ایک جگہ آویزاں کردیا کرتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حسب ضرورت چند کھجوریں کھاکر باقی دوسروں کے لیئے چھوڑ دیا کرتے تھے۔۔  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنھ بعض اوقات شدت بھوک کی وجہ سے بیھوش ہوکر گر جایا کرتے تھےفرماتے ہین کہ  لوگ سمجھا کرتے تھے کہ مرگی کا دورہ پڑ گیا ھے جس کی وجہ سے لوگ میری گردن پر پاؤں رکھ کر گذرا کرتے تھے بطور علاج  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنھ  خود فرماتے ہین کہ خدا کی قسم مرگی نہین شدید بہوک کی وجہ سے بیھوشی طاری ہوا کرتی تہی۔۔۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ عظیم  قربانیاں دے کر دین ہم تک پہنچایا۔ یہی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنھ کہ انہین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طویل صحبت میسر نہین آئی 7 ہجری غزوۂ خیبر کے موقعہ پر مشرف بہ اسلام ہوئے اور سن 11 ہجری مین آفتاب نبوت ہو گیا۔۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنھ نے اس مختصر ترین مدت مین بہت زيادہ کسب فیض کیا  بلکہ کثرت روایت کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین مین نمایاں نظر آتے ہین،  مرویات ابوہریرہ رضی اللہ عنھ کی تعداد  5364 ھے جو سب سے زیادہ ہے۔۔ آج یہ سادہ سے مدارس جو نظر آرہے ہین اگر چہ بے رنگ ہون بیٹہنے کے لیئے بورے بھی میسر نہ ہون، لیکن ان مین بیٹھ کر علوم قرآن و حدیث حاصل کرنے سے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ جو ایک نسبت قائم ہوجاتی ھے یہ اتنی بڑی نعمت اور انعام خداوندی ہے کہ اس کا حق شکر ادا ہو نہین سکتا۔۔۔


دین ہم تک کیسے پہنچا۔

دین ہم تک اس طرح پہنچا ھے کہ ہر کسی نے با ادب ہوکر زانوئے تلمذ طے کرکے ان اساتذہ سے سیکھا جن کی سند رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک متصل ھے ایک کتاب کا آپ خود مطالعہ کرلیجئے ایک کتاب کسی کامل استاذ سے پڑھ لیجئے جس کا سلسلہ سند حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہو دونون مین زمین و آسمان کا فرق ہوگا۔۔۔ آج کل اسٹڈی (مطالعہ) کرنے کا رواج اور وبا پھیلی ہوئی ھے مطالعہ کرنے کا بڑا شوق ھے۔۔ نتیجہ یہ ہے کہ اجتہادات کا ایک بازار گرم ھے تو یاد رکھیئے اگر علم کا حاصل ہونا صرف مطالعہ کے ذریعے بغیر کسی استاذ کے ممکن ہوتا تو آسمانی کتابوں کے ساتھ کسی رسول کو بھیجنے کی حاجت نہ تھی۔۔ اللہ تعالی کے لئیے کوئی مشکل نہ تھا کہ کسی رات ہر مسلمان کے سر ہانے قرآن پاک کا ایک ایک عمدہ نسخہ اور خوبصورت جلد مین مجلد رکھ دیا جاتا اور غیب سے یہ آواز لگادی جاتی کہ اسے پڑھو اور اس پر عمل کرو!....... لیکن ایسا نہین ہوا بلکہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کے ساتھ شارح قرآن حضو ر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا ’ یعلمہم الکتاب ‘ تاکہ وہ پیغمبر کتاب کی ان کو  تعلیم دین ایسے ہی اللہ تعالی نے ہر کتاب کے ساتھ ایک ایک پیغمبر بھیجے ہین۔۔ ایسا تو ہوا ھے کہ انبیاء علیہ السلام تشریف لائے مگر  کتاب نہین تھی لیکن ایسا کبھی نہین ہوا کہ کتاب بغیر صاحب کے نازل ہوئی ہو۔۔ وجہ یہ ہے کہ کتاب بغیر معلم و مربی کے انسان کی ہدایت کے لیئے کافی نہین ھے اگر انسان کتاب کا خود مطالعہ کرتا توجب اسے مطلب سمجھ نہ آتا تو گمراه ہو جاتا۔۔۔  اس کی مثال تو ایسے ہے کے ایک آدمی علم طب پر لکھی ہوئی کتب کا خود مطالعہ کرکے مطب کھول کر بیٹھ جائے تو سوائے اس کہ کے وہ قبرستان آباد کرے۔  انسانیت کی کوئی خدمت انجام دے نہین سکتا۔۔۔ کسی ڈاکٹر سے یہ علم حاصل کرنا پڑے گا  اس کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے پڑیں گے وگرنہ حکومت بھی اس کی اجازت نہیں دیگی۔۔۔ یہی معاملہ دین کا بھی ہے کہ اسے سیکھنے کے لیئے کسی کامل مربی و معلم کے پاس رہنا ہوگا وگرنہ گمراہی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو گا۔۔۔ ان مدارس کی قدر پہچانیئے!! ان کی بدولت اللہ تعالی کا کلمہ بلند ہے اور دین اپنی اصل شکل میں محفوظ  ہے۔۔۔ ان ممالک میں جاکر دیکہئے جہاں یہ مدارس ختم کردیئے گئے ان کا بیج ماردیا گیا۔۔ وہاں بے دینی کا سیلاب امڈ رہا ہے اور کوئی بند باندھنے والا نہین۔۔ بقول ہمارے حضرت علی میاں رحمہ اللہ کہ  ردة ولا ابا بکر لھا....... کہ ارتداد کا بازار گرم ہے لیکن کوئی ابوبکر رضی اللہ عنہ نہین۔۔۔۔

اللہ تعالی نے مجھے بیشتر اسلامی ممالک میں جانے اور وہاں کے اہل علم اور دینی حلقوں سے ملاقات کا موقعہ عطاء فرمایا، پہلے تو تقلید اً یہ  بات سمجھتا تھا کہ یہ دینی مدارس جن کا تعلق حضرات علمائے دیوبند سے ھے ہمارے لیئے بہت بڑی نعمت ہیں لیکن ان ممالک میں حالات دیکھنے کے بعد تحقیقاً یہ سمجھتا ہوں
کہ دین کی حفاظت و تحفظ کا ذریعہ اللہ تعالی نے ان دینی مدارس کو بنایا ہوا ہے، خواہ بظاہر یہ کتنے ہی سادہ کیوں نہ ہوں، معاشرے پر ان کی برکات و اثرات  الحمدللہ  آج بھی نمایاں ہین، جہاں یہ مدارس نہین ہین وہاں بے عملی و بے راہ روی کی عجیب و غریب شکلیں و مناظر دیکھنے میں آئے۔۔۔ یہ مناظر بھی دیکھے گئے کہ منہ میں سگریٹ  گلے میں ٹائی کلین شیو اور انگریزی لباس زیب تن کیے  ہوئے ایک آدمی بخاری شریف پڑہارہا ہے یہ مناظر بھی دیکھے گئے کہ درس بخاری ہورہا ہے اور نمازپڑھنے کا سوال ہی نہیں۔۔۔ یہ منظر بھی دیکھا گیا کہ مرد وزن باہمی مخلوط بیٹھے ہیں اور اسلامی تعلیمات کا درس ہورہا ہے۔۔۔ کیا کیا بتاؤں یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔۔

آج سے کچھ عرصہ قبل مجھے عراق جانا ہوا۔ آج تو وہاں ایک طوفان برپا ہے۔ وہاں میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ اگر کوئی پرانی طرز کا عالم ہو تواس کی زیارت کو جی چاہتا ہے، یہ تقاضا اس لیئے پیدا ہوا کہ وہاں ایسے علماء وصلحا کا بیج ماردیا گیا ھے، تو کسی نے بتایا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے مزار کے قریب ایک مدرسہ میں پرانی طرز کے ایک بزرگ ہیں، آپ ان سے ملاقات کیجئے، میں وہاں پہنچا، جاکر دیکھا تو و اقعی ایک بزرگ جن کی چال ڈھال میں، انداز گفتگو میں نشست و برخاست میں اسلاف کی جھلک نظر آئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا آپ پاکستان میں کیا کرتے ہیں؟ میں نے کہا کراچی ہمارا ایک دارا لعلوم ہے، اس  میں پڑھنے پڑھانے کا کچھ سلسلہ ہے انہوں نے پو چھا  وہ کونسی یونیورسٹی سے متعلق ہے۔ میں نے کہا ہمارے ہاں یہ سلسلہ نہيں بلکہ عوامی طرز کے مدارس ہیں، انہوں نے حیران ہو کر پوچھا تمہارے ہاں عوامی قسم کے مدارس ہیں؟ پہر خود ہی فرمایا ہم تو اس قسم کے تصور کو بھی بھول گئے، آپ پر تو اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے، پہر پو چھا وہاں کیا پڑھاتے ہو؟ میں نے مدارس میں پڑھائی جانے والی چند کتب کا نام لیا مثلاً شرح جامی اور مسلم وغیره جب شیخ نے ان کتب کا نام سنا تو ان کی چیخ نکل گئی اور پہر فرمایا ” میں تمہے نصیحت کرتا ہوں کہ جب تک دم میں دم ہے اس طریقہ کار اور نصاب تعلیم کو نہ چھوڑ نا کیونکہ ہمارے ہاں عراق میں جب اس نصاب کی کتابیں زیر تعلیم تھیں تو فضا کچھ اور تھی اور جب سے یونیورسٹیوں کا نظام رائج ہوگیا اور دینی کتب چھوڑ دی گئیں اس وقت سے فضا بلکل تبدیل ہوگئی پہر فرمایا کسی زمانہ میں ہم بھی یہ کتابیں پڑھاتے تھے اس وقت علماء متبع سنت اور دینی جذبہ رکھنے والے پیدا ہوتے تھے۔ بعد میں تمام مدارس سرکاری تحویل میں لے لیئے گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس وقت سے سرکاری مولوی پیدا ہونے لگے “


ان ممالک میں گھومنے پھرنے کے بعد یہ احساس مزید پختہ اور قوی ہوگیا کہ یہ مدارس جن کا سلسلہ ماضی قریب میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ سے جڑا ہوا ہے اور بلآخر سند متصل کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جا ملتا ہے ایسی نعمتیں اور احسان ہیں کہ جس پر شکر ادا ہو نہین سکتا۔۔

 ایک مرتبہ شیخ الحدیث مولانا زکریا (قدس سرہ) دارالعلوم کراچی تشریف لائے (یہ اللہ کے بندے اخلاص کے پیکر عند اللہ اتنے مقبول ومنظور تھے کہ ان کی تصنیف شده کتب فضائل 24 گھنٹوں میں سے کوئی لمحہ بھی ایسا نھیں ہے جس میں دنیاکے کسی نہ کسی حصہ میں پڑھی نہ جاتی ہوں)ہم نے عرض کیا حضرت کوئی نصیحت فرما دیجئے تقریر کرنے کا تو معمول نہ تھا صرف ایک جملہ ارشاد فرمایا;;“
طالب علموں اپنی حقیقت پہچانو!! اپنی قدر پہچانو!!...... اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ بعض اوقات تمہارے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوجاتا ہے کہ ہم یوں ہی بوریوں پر بیٹھنے والے ہیں دنیا کہا ں سے کہا ں پہنچ گئی لیکن اللہ تعالی نے جو نعمت عظمیٰ تمہیں عطاء کی ھے اس کامقابلہ دنیا اور اس کی دولت نہیں کرسکتی وہ نعمت ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت، یہ جو ہم پڑھتے ہیں  حدثنا فلان حدثنا فلان حدثنا عن فلان عن فلان عن رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سند متصل کے ساتھ اپنے کو جوڑ دینا آج تو شاید اس کی قدر و منزلت ہمیں معلوم نہ ہو لیکن جب آنکھیں بند ہوں گی اور اللہ تعالی کے ہاں حاضری ہوگی اس وقت پتا چلے گا کہ اس سلسلے  کے ساتھ وابستگی کتنی بڑی نعمت ھے۔۔۔

میرے شیخ حضرت ڈاکٹر عبد الحئی عارفی ؒ مثال دیا کرتے تھے کہ کراچی سے صدرمملکت کی ایک ٹرین جارہی ہے جس میں بھترین سیلون لگا ہوا ھے عمدہ اور عالیشان ڈبے لگے ہوئے ہیں اس کے ساتھ کھانے پینے کا بھترین انتظام موجود ہے۔۔ بھت ہی پرکیف خو شبوئین اٹھ رہی ہیں، روانگی کے وقت اسٹیشن ماسٹر نے ایک پرانا اور بوسیدہ ڈبہ بھی اس ٹرین کے ساتھ جوڑ دیا یہ بھی ٹرین کے ساتھ منزل مقصود تک پہنچ جائے گا ایسے  ہی ہم بوسیدہ اور خستہ حالت مین سہی لیکن ہمارا کنڈا اعلیٰ اور عمدہ ڈبوں پر مشتمل ٹرین کے ساتھ جڑا ہوا ھے، ہمارا تعلق سند متصل کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قائم ہوچکا ہے اس نسبت اور تعلق کی وجہ سے اللہ تعالی کی بے پا یاں رحمتیں ہم پر نازل ہوں گی اس لیئے ہمیں چاہیے کہ اس سلسلہ کی قدر پہچانیں۔۔


پڑھنے پڑھانے والوں کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اپنے آپ کو محروم نہ سمجھیں وہ ان پڑھنے پڑھانے والوں کے ساتھ محبت کریں  المرء مع من احب۔۔۔۔ اگر کسی کی محبت اس سلسلہ والوں کے ساتھ ہوگی تو ان کا حشر بھی انہی کے ساتھ ہوگا۔۔ خود بھی تعاون کریں دوسروں کو بھی توجہ دلائیں تو اس سلسلہ کے ساتھ وابستگی ہوجائے گی۔۔۔ خدا کے لیئے ان دینی مدارس کی قدر پہچاننے کی کوشش کریں۔۔۔۔۔

Tablighi Jamaat ki Islah ki Tajaweez aur koshishain:EK USOOLI JAEZA

 Tablighi Jamaat ke Islah ki Tajaweez aur koshishain:
��EK USOOLI JAEZA��


Islah ki zarurat Afrad jamaat aur tahreekat sab ko hoti hai.Afrad to shaitan o nafs se ghira hota hai.Tahrekat mein jamood aur rasmiat aa jati hai. Tablighi jamaat bhi musalmanon ki ek jamaat hai aur yeh bhi is usool ke andar aati hai.

Tablighi Jamaat ki islah ki tajweez aur unhai pesh karne walon ko darj e zail hisson mein banta jaa sakta hai.

1⃣ PAHLI QISM: Inhain tablighi jamaat ke buniadi usool se ikhtalaf hai..woh ise 1 bekar kam samajhte hain aur waqt ki barbadi mante hain.Aur ise band karna zaruri samajhte hain.

2⃣ DUSRI QISM:
Yeh log buniadi usool se ittafaq karte hain ise mufeed kam samajhte hain.Lekin chand baton mein Fiqhi ya Ijtahadi ikhtalaf rakhte hain aur  iski islah chahte hain.

3⃣TEESRI QISM
Yeh bhi buniadi usool se muttafiq hain Inka ikhtalaf Nizamuddin/Raiwind/state level etc ke Akaabir ya Tabligh se jude ulma karam se hai jo unki taqareer/tafhee o tashreeh/Ghulu ke silsile ki hai aur yeh in ulma ya zimmedaran ki islah chahte hain.

4⃣ CHOUTHI QISM
Yeh Tablighi Jamaat se jude awam ki ghaltian/ghulu/deen ke dusre shobon ki naqadri etc ke bare mein naaraz hain aur awam ki islah chahte hain.

5.PANCHVI QISM
Yah woh log hain jo tablighi jamaat ke programme se ikhtalaf nahih rakhte lekin kuch woh kaam jo iske programme mein nahin hai use jodna chahte hain aur iski islah chahte hain.
Ab ham in qismon ka Usooli Jaeza lene ki ek koshish silsilewar karte hain.......Insha Allah.


��JAEZA SE PAHLE CHAND BATAIN��
 1⃣Kisi fard ya tanzeem ki islah ke liye uske zehni pasmanzar janna aur use samajhna kisi islah ki koshish ke liye bahut zaruri hai.....
2⃣Main is silsile mein yah koshish karunga ki tablighi jamaat se judi awam is 5 tarah ki Tajweez ya logon ke bare kiya sochti hai.....
Yani ki uska ispar kiya kahna hai......
3⃣Main yeh bhi koshish karunga ki is silsile mein jo tabligh ke awam aur ulma se tabadla khayal hua uski akkasi karun....Insha Allah

��TAJAWEEZ KA JAEZA��



1⃣PAHLI QISM ki TAJWEEZ

Tablighi jamaat se buniadi ikhtalaf/kam bidat hai/bekar, awam nahin kar sakti etc

JAWAB:
Tabligh se jude afrad KA MAUQIF
Deen ke khatir jan maal waqt ki qurbani,deen seekhna aur sikhane ki koshish, iman o amaal ki mehnat, Masjidon ko Abaad karne ki mehnat Yeh musalman par zaruri hai......
Yeh sare kam ke bare mein Quran pak ki wazeh Aayat aur Ahadith hain. Lihaza Quran pak ke sareeh hukm ke hote hue kisi ki rae/tajweez Qabil e Qabool nahin....
Tabligh wale apne halqe mein aksar ek misal bolte hain ki agar khuda na khasta MARKAZ NIZAMUDDIN ke MAULANA SAAD bhi elan kar dain ki tablighi jamaat ka kaam batil hai...aur ise mat karo/ Ya 5000 page ki kitab likh kar sabit katein.....
to ham unki baat bhi nahi manenge....chunki Quran pak ki bahut si aayat aur ahadith iska hukm kar rahi hain.....islie is silsile mein kisi aur rae/tashreeh ke manne ka sawal hi nahin.......Chahe maulana saad/Markaz Nizamuddin hi qiyon na bolain....
kiyonki,
.....Quran pak aur Allah aur uske pyare rasool ka hukm har kisi ki rae se upar hai.
LIHAZA IS PAHLI QISM KE LOGON KI TAJWEEZ QABIL E QABOOL NAHIN.
Wallahu Aalam.


��TAJWEEZ KA JAEZA��
2⃣DOOSRI QISM KI TAJWEEZ
Buniadi usool se muttafiq, fiqhi ijtahadi ya intazami ikhtalaf aur islah

JAWAB:
Tabligh se jude afrad KA MAUQIF
Mufti Shafi Rahimullah Maariful quran mein likhte hain ki fiqhi aur ijtahadi ikhtalaf ek fitri cheez hai aur ise deen mein qabool kiya gaya hai...bukhari shareef ki hadith ispar dalalat karti hai....
Ek Aalim ko fiqhi baton jo baat sahih lagti ho use rae pesh karne ka haq hasil hai...Lekin use apni rae par israr nahin karna chahie...
Use dusre mauqif ko haq o batil ka mamla nahin kahna chahie......

EK Misal
Mahram Masturat Jamaat
Ulma e Haq ki ek jamaat ise sahih nahin aur muzir manti hai,
Ulmae haq ki ek dusri jamaat ise sahih aur deen ke liye faedamand manti hai....
Ek misal
Hamari bahan Alhamdulillah Hafiza Aalima hai...usne madarsa hostel mein rahkar padhai kee..........Ham aise Ulma ko jante hain jo ladkiyon ke madarse ke hostel ko sahih nahin mante....Aur yah bhi jante hain ki dusre ulmaa karam jayaz o mufeed mante hain hatta ki wahan madarse mein padhane wale bhi ulma karam hi the....Qasmi Nadvi hazrat bhi the.....
Abhi banglore/kerala/UP mein bahut se banat madarse khul rahe hain......
Is silsile mein qaeda yeh hai ki apni rae rakhne ke baad fiqh ke usoilon ke mutabiq israr zabardasti aur haq o batil ka mamla nahin banana chahie.
��Yahi hal kisi intazami faisle ya tarteeb ka hai....
Maulana Manzoor Nomani rahimullah likhte hain ki apni rae dene ke baad zimmedaran ki aqal o baseerat par Aitamad karna chahie.
IN TAJAWEEZ MEIN DONO RAE KA IHTARAM KARNA CHAHIE....Aise log hain jo kam se lage hain lekin mastoorat mein nahin jate.
WALLAHU AALAM


 ��TAJWEEZ KA JAEZA��
3⃣TEESRI QISM KI TAJWEEZ
Buniadi usool se muttafiq, Markaz ke Akabir ya tabligh ke ulma karam ki taqreer/tafheem o tashreeh par aitaraz aur islah ki tajweez

JAWAB:
Tabligh se jude afrad KA MAUQIF
1. Koi Aalim ya Akabir bashamool Akabir nizamuddin ghalti se mubarra nahin.
2. Jis Aalim ki ghalti hai use barahe rast mutanabbeh kiya jae.
2. Agar kisi ki ilmi ghalti hai to uski nishan dehi ilmi usooloon par ho.
baat karne wala se puch liya jae ki baat ka kiya matlab hai....
Imam Shafaee ka fatwa hai ki agar kisi Aalim ki baat ka 2 matlab nikalta ho to us Aalim se pucha jaega ki us ka kiya matlab hai....
NUH ME KELLER ki mashhoor kitab IMAN KUFR AUR TAKFEER jo barelvi ulma ke zarie deoband ke ulma ki tahreeri ghalti aur kufr ke ilzam ke silsile mein hai......usmein ispar tafseeli bahas hai....
3. Jis ki Ghalti ho us tak baat pahunchaee jae....social media par phailane ka matlab samajh se bahar hai...?
Ek misal
Maulana Saad sb ke ek bayan ke 2 Sentence nikal kar ek fatwa pucha gaya....aur sabit kiya gaya ki woh anbia ke maujze ka inkar kar rahe hain...Nauzu billah MaazAllah....
Maulana saad ne aage peeche kiya kaha aur poori baat kiya thi woh ek alag mudda hai........
��Use photo shop mein maulana saad ki Gumrahi ke elan ki shahsurkhi banakar pesh kiya gaya....
Sab ko maloom hai ki maulana saad whats App/facebook/internet par nahin hain......to ise internet par dalkar maulana saad ki islah kaise ho sakti hai......
Yeh islah hai ya awam ko ulma/akabir se mutanaffir karne ki koshish?
ILMI BATON PAR ILMI ANDAZ MEIN ISLAMI USOOLOON PAR GHALTI KI NISHANDAHI HONI CHAHIE....Iska istemal badnam karne ke propaganda ke taur par photoshop/shah surkhi waghairah se nahin honi chahie.
WALLAHU AALAM

 TAJWEEZ KA JAEZA
4⃣Chouthi QISM KI TAJWEEZ
Buniadi usool se muttafiq, Tabligh se jude awam ki ghaltian/ghulu/deen ke shobon ki naqadri/ulma karam ki naqadri etc

JAWAB:
Tabligh se jude afrad KA MAUQIF
1. Ulma ku naqadri Akhirat ka bahut bada nuqsan hai, bahut bada gunah hai.
2. Tabligh ke kam ko ulma ki sakht zarurat hai, Ulma kaam ke asal rahbar hain.
3. Tabligh Madaris Khanqah Tasneef etc sab deen ke shobe hain yeh ek dusre ke rafeeq hai, inmein koi taqabul nahin Rafaqat ki zarurat hai.
4.Jo log upar ki baton par amal nahin karte woh darasal apne akhirat ko aur tabligh ke kam ko nuqsan pahuncha rahe hain.
5. Tabligh mein har tarah ke log hain....baqaul maulana manzoor nomani r.a. jitne tarah ke log musalman samaj mein hai woh sab category tabligh mein bhi hai.....
Baqaul maulana ilyas yeh dhobi ki bhatti hai har tarah ke gande kapde aate hain.
Sathion se Ghalti hoti hai aur ise mustaqil ehtamam se islah ki zarurat hai.
6. Kabhi kabhi kisi infaradi baat ko/infaradi ghalti ko puri tablighi jamaat se jod diya jata hai....
Ek misal
2 sal pahle kanpur ke ek waqea ke mutalliq  ek Islami website par aaya ke tabligh walon ne madarsa par hamla kar diya......Tahqeeq karne par maloom hua ki yah madarsa ke muhtamim aur ek muqami ..............sb(naam chipa raha hun) ki zameen ke silsile mein ladai thi......aur woh sb jamaat se bhi kuch jude the...puri tarteeb se nahin ....na 4 maherne lage the...
Isko tabligh se is qadar joda gaya ki itna badhaya gaya ki darul uloom deoband tak baat pahuchi.
7. Markaz nizamuddin se sathio ko masjid/ madarsa ke intazami umoor mein dakhal dene ki mamaniat hai.......Log isko follow nahin karte. Ab kisi aalim ke sath taqarruri ya maazooli ya tankhah ka masla ho jata hai..........Ab uska ilzam tabligh ko uthana padta hai.....Main aise ulma ko janta hun jo is wajah se puri jamaat se naaraz hain......Aisa islie ho raha hai ki sathi markaz nizamuddin ki hidayat nahin maan rahe hain.
8. Aalim ka ikram uske Aalim hone ki wajah se zaruri hai....Markaz se saaf hidayat hai ki har Aalim ka ikram karna hai chahe woh tablighi jamaat mein laga ho ya na ho.Sathion ko iski pabandi karni chahie.
AWAM KI GHALTION SE KISI KO INKAR NAHIN.....ISLAH KI ZARURAT HAI......ULMA KARAM KI RAHBARI SE ISLAH AASANI SE HO SAKTI HAI....
WALLAHU AALAM

 ��TAJWEEZ KA JAEZA��
4⃣Panchvi QISM KI TAJWEEZ
Tablighi Jamaat ke programme se ikhtalaf nahin hai, kuch aisa jodna chahte hain jo iske programme mein nahi hai.

JAWAB:
Tabligh se jude afrad KA MAUQIF
1.Har Tanzeem ya Tahreek apna programme kuch soch samajh kar tai karti hai.....zahir hai har pahlu par ghaur karti hai...aur use apni hudood tai karna hota hai.
2. Kisi masle par radde amal ka tareeqakar woh apne zehni asas aur pasmanzar aur tai kiye zawabit ke mutabiq karti hai.....iska matlab yeh hargiz nahin ke woh radde amal ke dusre tareeqa kar ko ghalat manti hai...
Ek misaal
Jab babri masjid tooti to maulana inaamul hasan sb khoob roe dua ki aur pure markaz walon se kaha ki hamare aamal ki wajah se masjid tooti hai......Koi bayan jari nahi kiya iska yeh matlab nahin ke woh bayan jari karne walon ko ghalat mante hain.
Dusri Misal
Masael par baat nahin ki jati ...Tabligh mein kai maslak ke log hain....masael mein ikhtalaf hai......Isliye jamaat ke kaam ko isse alag rakha gaya hai.
Iska matlab yeh nahin ki masael zaruri nahin balki masael apne ulma se hasil karne ki targheeb dee jati hai.
3. Agar kisi ko koi rae deni hai programme mein kuch add karne ke bare mein to apni baat markaz nizamuddin mein rakhni chahie. Awam ke beech/social media mein rakhne se faeda nahin kiyonki faisla to akabireen ulma karam ko karna hai.
HAR TANZEEM KA APNA EK ZABTA AUR HUDOOD HOTI HAI...PHIR BHI AGAR KUCH ADD KARNE KI RAE DENI HO TO ISKE LIYE MARKAZ NIZAMUDDIN MUNASIB JAGAH HAI.
WALLAHU AALAM


 �� Internet par TABLIGHI JAMAAT 
ki islah aur 
ULMA E KARAM  ��


------------------
1⃣Tablighi Jamaat ki puri kamyabi ibtada se lekar ab tak ulma e karam  ki qurbani aur kawish ki marhoon minnat hai.Unhone ise har tarah se parwan chadhaya hai.

2⃣Ulmae mein 99% feesad iske buniad aur faede se muttafiq hain,
kahin kahin fiqhi ijtahadi ya intazami ikhtalaf hai jo fitri hai........
ya kisi ghulu par tanbeeh hai jo zaroori cheez hai.....aur honi chahie.

3⃣Lekin kam se kam internet/social media par 1% aise ulmae hain jo ise
Bidat ya usse bhi badhkar Quran pak ki tahreef karne wale aur islam dushman groh tasawwur karti hai.

4⃣Internet par 1 nahin balki kam se kam 6-7 kitabain is tarah ki baton ki hain.
(Ulma ka naam islie nahi de raha hun ki gheebat ho jaegi......aur kitab ka naam islie nahin chunki main isko ghalat samajhta hun...aur phailana nahin chahta.
Agar kisi ko zarurat ho to personal mein bata sakta hun.)

5⃣.Mujhe unke Tablighi jamaat ko baatil kahne ke ilmi Fiqhi ya jamhuri haq par koi aitaraz nahin....lekin masla dusra hai......

6⃣. Unka ikhtalaf kaam ke haq o batil ka hai.......lekin woh awam ki ghalti ka unwan banakar aur indirectly apni baat phailate hain

7⃣. Woh apne mauqif ki taeed ke liye Akabireen ulma ki out of context/beghair rabt ke jumle ka hawala dete hain...
Jo tareekhi
Ek misal
Qari Tayyab Rahimullah ka tabligh ki himayat azhar minash shams hai, hatta ki himayat mein puri kitab likhi hai.......
Lekin yeh log apni kitab mein 1 jumla quote kar rahe jo bilkul hi alag hai......Isi tarah maulana hussain ahmad madni r.a. ke sath kiya hai....ki unko mukhalif sabit kiya.

8⃣Har aalim apne mauqif ke liye aazad hai lekin kisi akaabir ka ghalat sahara lekar apna mauqif ko sabit karna diyanatdari nahi hai.
Wallahu Aalam

Baharhal sare mamle Allah ke samne hazir hone aur wahi sach janne wala aur faisla karne wala hai..


فتنوں سے حفاظت اور پناہ کی دعا اور اقدامات


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں فتنوں سے حفاظت اور پناہ کی دعا مانگتے تھے، وہیں یہ دعا بھی مانگتے تھے کہ یااللہ! جب تو کسی قوم کو فتنے میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے فتنہ میں ڈالے بغیر اٹھالینا۔ گویافتنوں سے حفاظت کے دوطریقے ہیں:
۱-  اللہ تبارک وتعالیٰ فتنے کے زمانہ سے پہلے اٹھالے۔
۲- فتنوں کے زمانے میں ہونے کے باوجود اللہ کریم اپنی رحمت سے فتنوں سے محفوظ فرمادے۔ ہم لوگ فتنوں کے زمانے میں موجود ہیں؛ اس لیے پہلی صورت تو ممکن نہیں؛ البتہ دوسری صورت ممکن ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور وہ اپنی رحمت کاملہ سے ہمیں فتنوں سے محفوظ فرمالے۔
خارجی وداخلی فتنوں، آپس کے خلفشار اور باہمی تنازعات سے حفاظت کے لیے ہمیں جواقدامات کرنے چاہئیں وہ یہ ہیں:
۱-  اکابر پر مضبوط اعتماد۔
۲- علماء، فقہاء اور اہلِ دین سے حسنِ ظن۔
 ۳-کسی صاحبِ نسبت سے گہرا تعلق۔
 ۴-رجوع الی اللہ کا اہتمام۔
۵- اہل خیر وصلاح سے مشورہ۔
۶- اعتدال پسندی۔
۷- بلاتحقیق بات قبول کرنے یا پھیلانے سے احتراز۔
 ۸-اکرام واحترام مسلم۔
۹- باہمی اختلاف وانتشار یا اس کے اسباب سے کلی پرہیز۔
علماء ومصلحین کے لیے ایمان وتقویٰ، اخلاص وعمل، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، امت کی اصلاح کے لیے تڑپ، گروہ بندی اور افتراق سے پرہیز ․․․․ اورعلمی فتنوں کی سرکوبی کے لیے ٹھوس علمِ دین، جدید علمِ کلام، جدید سائنس، معلوماتِ عامہ، حسنِ تحریر، شگفتہ بیانی، سنجیدہ متوازن دماغ، پیہم کوشش اور صالح وموٴثر لٹریچر کا حصول نہایت ضروری ہے۔ واللہ الموفق
Tafseel ke liye neeche link neeche link se liya hua