Pages

حضرت حاجی عبد الوہاب صاحب Haji Abdul Wahab

 حاجیمحمد عبد الوہاب 
 ہمارے اندازہ میں ایسی شخصیت پوری دنیا میں کم ہوگی
کہ جس کا سوائے اللہ کے؛
کوئی آگے ہو نہ پیچھے، اور جس نے دین کے لیے سب کچھ چھوڑدیا ہو،
جس کی سوچ و بچار اور خیالات و فکر کا محور اور دائرہ؛ اُمت کی اصلاح و فکر ہو،
حاجی محمد عبد الوہاب ۱۹۲۳ء؁ کو دہلی متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ اِبتدائی دِینی و عصری تعلیم حاصل کر کے اِسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے اور وہاں عصری علوم کی تکمیل کر کے تحصیل دار کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 
 مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ کی حیات ہی میں تبلیغی کام سے منسلک ہوکر فنا فی التبلیغ ہوگئے، یہاں تک کہ نوکری بھی چھوڑدی، اولاد کوئی تھی نہیں، اہلیہ کا کچھ عرصہ کے بعد اِنتقال ہوگیا، حق تعالیٰ نے ہر طرف سے آپ کو تبلیغ کے لیے عافیت عطا فرمادی، یوں آپ نے اپنے کو تبلیغ کے لیے وقف کردیا۔ ا۔
بیعت کا تعلق حضرت مولانا عبد القادر رائے پوریؒ سے قائم کیا اور خلافت سے سرفراز ہوئے اور ایک قول کے مطابق حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے بھی خلافت حاصل ہوئی۔ یوں اس وقت آپ ہر دو مشائخ کے پاکستان میں آخری خلیفہ ہیں۔ آپ کی قریب قریب ایک صدی پر محیط پوری زندگی دعوت و عزیمت سے عبارت ہے، آپ نے مروجہ طریق پر درس نظامی کی کتب نہیں پڑھی ہیں چنانچہ آپ باقاعدہ عالم نہیں کہلاتے لیکن جب مجمع عام میں بیان کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی عطا فرمایا ہے۔
حضرت حاجی محمد عبد الوہاب صاحب اور ان جیسے دوسرے حضرات نے اس راہِ وفا میں جو تکلیفیں اُٹھائی ہیں اور جو تنگی و ترشی برداشت کی ہے اور جن مصائب و مشکلات سے گزرے ہیں، ہم جیسا اس کا تصوّر بھی نہیں کرسکتا، اللہ کے دین کے لیے پورا پورا دن بھوکا پیاسا پیدل چل چل کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا اور لوگوں کی باتیں، گالیاں سن کر ماریں کھاکر دین کی محنت ان پر کرنا ان کے لیے معمولی بات تھی۔ حق تعالیٰ ان کو اپنی شایانِ شان بدلہ عطا فرمائے۔
 آپ کا ۱۹۴۷ء؁ سے مستقل قیام رائے ونڈ مرکز میں ہوتا ہے۔

Shura Tablighi Jamaat Markaz Nizamuddin Raiwind Kakarayel India Pakistan Bangladesh


     مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل    
  
     اجتماعیت میں خیر ،اللہ پاک کی مدد اور فتنوں سے حفاظت ہے ۔                          
مرکز نظام الدین کی اجتماعی شوری16ٰ نومبر 2015میں 5 اکابر کی بنی ہے ۔۔ 
        مولانا سعد صاحب دامت برکاتهم          
مولانا ابراھیم صاحب دامت برکاتهم
 مولانا احمد لاٹ صاحب دامت برکاتهم
مولانا یعقوب صاحب دامت برکاتهم
 مولانا زھیر الحسن صاحب دامت برکاته

   تمام مسلمانشوریٰ کو تعاون دیں یعنی انفرادی رائے سے بچتے ہوئے شوریٰ کے اجتماعی مشورہ سے یکسوں ہوکر اللہ کیلئے جان مال وقت کی قربانی کیساتھ دین کی محنت کریں اور اپنی ہدایت اور سارے انسانیت کی ہدایت کی فکر کریں

نومبر ۲۰۱۵ میں رائیونڈ کے اجتماع کے موقع پر حاجی عبد الوہاب صاحب کی بذرگوں کی اتفاق رائے سے توسیع کی ہو ئ شوری 


Mashware ka Urdu Typing



English Translation: 


Allah Rabbul Izzat had in this era,  , without any apparent resources, for revival of deen in the whole world, And in accordance of the way of the Prophet (saw) rekindled the striving for deen using Maulana Muhammed Ilyas  (rah). Laying its foundation with struggle and sacrifice. 
Before his passing away and upon his own insistence, through the unanimous decision by Mashwara of convergent Ulmae Haq thinkers of the time, selected Hazratji Maulana Yousuf sahab (rah) as the Zimmedar . 
who, on the lines of Maulana Ilyas sahab (rah) and in the light of Qur’an, blessed Hadith, Seerat Nabawi (saw) and the blessed lives of the noble Sahabah (radh), explained the motives and method of the work. Thus firmly holding the scales of balance, he presented forth the detailed roadmap of the work before the ummah. And the work spread throughout the world. 
Upon the passing away of Maulana Yousuf sahab (rah)Shaikh ul Hadeeth Hazrat Maulana Muhammed Zakariyya (rah) through the mashwara of convergent Ahle Haq Ulema thinkers, ceded the responsibility of this blessed work to Hazratji Maulana Inamul Hasan sahab (rah) 
He did a lot of work, preserved the Nahaj (manner) of tableegh. And to guard the real Nahaj of the work which was now spread to faraway lands, with the Mashwara of his near ones, made the arrangement of ‘shura’ in different countries. 
At some places, an Ameer was made along with the Shura and elsewhere made arrangement to select an arbiter (Faisal) by turns, from amongst the people of Mashwara. 
Thus to supervise the work & its progress spreading the entire nation, he constituted a shura of ten people around himself who under the supervision of Hazratji (rah) took all the working shura & individuals from everywhere under its wings. 
After the demise of Hazratji (rah) the ‘shura’ remained working on the same nahaj on which the previous three Akabir had taken course. 
On November 2015, Nizamuddin, Raiwind, Bangladesh and old workers/ zimmedars from different nations felt the need to complete the shura established by Hazratji (rah) of which eight people had passed away and only two remained. Such that the nahaj and methodology of this work was preserved. 

And whenever the need for any additions or corrections was observed, it could be executed through the complete unanimity of the shura, such that collectivity was maintained. And that no practice would be initiated either at Nizamuddin, Raiwind or Kakarayel without the approval of this shura. 

In the course of absence of any shura member (by demise), the shura then has to fill the void through the consensus of minimum two third of the shura. Such that the existence of shura is maintained. This blessed work belongs to the ummah and is a collective responsibility. 
After discussions and taking opinions from old workers of every place, this shura including the names of Hazrat Haji Abdul Wahhab sahab (db) and Hazrat Maulana Muhammed Saad sahab (db) has added the following names. Insha Allah this shura in future shall be comprised of 13 individuals. 
1. Hazrat Haji Abdul Wahhab sahab (db) 
2.Hazrat Maulana Muhammed Saad sahab (db)
3.Hazrat Maulana Ibrahim Dewla (db) (Nizamuddin) 
4. Hazrat Maulana Yaqoob saharanpuri (db) (Nizamuddin) 
5. Hazrat Maulana Ahmed Laat (db) (Nizamuddin) 
6. Hazrat Maulana Zuhairul Hasan (db) (Nizamuddin) 
7. Hazrat Maulana Nazrur Rahman (Raiwind) 
8. Hazrat Maulana Abdur Rahman (Raiwind) 
9. Hazrat Maulana ubaidullah Khurshid (db) (Raiwind) 
10. Hazrat Maulana Zia ul Haq (db) (Raiwind) 

11.Hazrat Qari Zubair sahab (db) (kakarayel) 

11. Hazrat Maulana Rabeul Haq (Kakarayel) 

12. Bhai Wasif ul Islam (kakarayel) 



The five shura members in this shura from Nizamuddin would constitute the Mashwara at Nizamuddin and this Shura shall oversee the general functioning of Nizamuddin through Mashwara. 
4th Safar 1437 / 16th November 2015 


Undersigned 
(Hazrat Haji) Muhammed Abdul Wahhab sahab (db) 
(Hazrat) Maulana Ahmed laat sahab (db) 
(Hazrat) Maulana Tariq jameel sahab (db) 
(Hazrat) Dr Sanaullah sahab (db) 
(Hazrat) Maulana Muhammed Yaqoob sahab (db)
(Hazrat) Maulana Muhammed Ihsan ul Haq sahab (db) 

(Hazrat) Bhai Farooq sahab (db) 

(Hazrat) Dr Roohullah sahab (db) 
(Hazrat) Bhai Chaudhry Muhammed Rafeeq sahab (db) 
(Hazrat) Maulana Nazrur Rahman sahab (db) 
(Hazrat) Dr Muhammed Khalid Siddiqui sahab (db) 

(Hazrat) Bhai Bakht Muneer sahab (db) 

(Hazrat) Professor Abdur Rahman sahab (db) 

(Hazrat) Maulana Ismail Godhra sahab (db) 

Roza Zakat Aitakaf ke Masla Masael روزہ کے مسائل

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 8-9 ، جلد: 95 ‏، رمضان — شوال 1432 ہجری مطابق اگست — ستمبر 2011ء


احکام رمضان المبارک و مسائل زکوٰة

از:  حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ، سابق مفتی اعظم دارالعلوم دیوبند      

                رمضان المبارک کے روزے رکھنا اسلام کا تیسرا فرض ہے۔ جو اس کے فرض ہونے کا انکار کرے مسلمان نہیں رہتا اور جو اس فرض کو ادا نہ کرے وہ سخت گناہ گار فاسق ہے۔
روزہ کی نیت:
                نیت کہتے ہیں دل کے قصد وارادہ کو، زبان سے کچھ کہے یا نہ کہے۔
                روزہ کے لیے نیت شرط ہے، اگر روزہ کا ارادہ نہ کیا اور تمام دن کچھ کھایا پیا نہیں تو روزہ نہ ہوگا۔
                مسئلہ: رمضان کے روزے کی نیت رات سے کرلینا بہتر ہے اور رات کو نہ کی ہوتو دن کو بھی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے تک کرسکتا ہے؛ بشرطیکہ کچھ کھایا پیا نہ ہو۔
جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے:
                (۱) کان اور ناک میں دوا ڈالنا، (۲) قصداً منہ بھر قے کرنا، (۳) کلی کرتے ہوئے حلق میں پانی چلا جانا، (۴) عورت کو چھونے وغیرہ سے انزال ہوجانا، (۵) کوئی ایسی چیز نگل جانا جو عادةً کھائی نہیں جاتی ، جیسے لکڑی، لوہا، کچا گیہوں کا دانہ وغیرہ، (۶) لوبان یا عود وغیرہ کا دھواں قصداً ناک یا حلق میں پہنچانا، بیڑی، سگریٹ، حقہ پینا اسی حکم میں ہیں، (۷) بھول کر کھاپی لیا اور یہ خیال کیا کہ اس سے روزہ ٹوٹ گیا ہوگا پھر قصداً کھاپی لیا، (۸) رات سمجھ کر صبح صادق کے بعد سحری کھالی، (۹) دن باقی تھا؛ مگر غلطی سے یہ سمجھ کر کہ آفتاب غروب ہوگیا ہے، روزہ افطار کرلیا۔
                تنبیہ: ان سب چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، مگر صرف قضا واجب ہوتی ہے، کفارہ لازم نہیں ہوتا۔
                (۱۰) جان بوجھ کر بدون بھولنے کے بی بی سے صحبت کرنے یا کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا بھی لازم ہوتی ہے اور کفارہ بھی۔
                کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے ورنہ ساٹھ روزے متواتر رکھے، بیچ میں ناغہ نہ ہو ورنہ پھر شروع سے ساٹھ روزے پورے کرنے پڑیں گے اور اگر روزہ کی بھی طاقت نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھرکر کھانا کھلاوے۔ آج کل شرعی غلام یا باندی کہیں نہیں ملتے؛ اس لیے آخری دو صورتیں متعین ہیں۔
وہ چیزیں جن سے روزہ ٹوٹتا نہیں؛ مگر مکروہ ہوجاتا ہے:
                (۱) بلاضرورت کسی چیز کو چبانا یا نمک وغیرہ چکھ کر تھوک دینا، ٹوتھ پیسٹ یا منجن یا کوئلہ سے دانت صاف کرنا بھی روزہ میں مکروہ ہیں۔
                (۲) تمام دن حالت جنابت میں بغیر غسل کیے رہنا۔
                (۳) فصد کرانا، کسی مریض کے لیے اپنا خون دینا جو آج کل ڈاکٹروں میں رائج ہے یہ بھی اس میں داخل ہے۔
                (۴) غیبت یعنی کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرنا یہ ہرحال میں حرام ہے، روزہ میں اس کا گناہ اور بڑھ جاتا ہے۔
                (۵) روزہ میں لڑنا جھگڑنا، گالی دینا خواہ انسان کو ہو یا کسی بے جان چیز کو یا جاندار کو، ان سے بھی روزہ مکروہ ہوجاتا ہے۔
وہ چیزیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور مکروہ بھی نہیں ہوتا!
                (۱) مسواک کرنا ۔ (۲) سر یا مونچھوں پر تیل لگانا۔ (۳) آنکھوں میں دوا، یا سُرمہ ڈالنا۔ (۴) خوشبو سونگھنا۔ (۵) گرمی اور پیاس کی وجہ سے غسل کرنا۔ (۶) کسی قسم کا انجکشن یا ٹیکہ لگوانا۔ (۷) بھول کر کھانا پینا۔ (۸) حلق میں پانی ڈالنا یا بلاقصد چلا جانا۔ (۱۰) خود بخود قے آجانا۔ (۱۱) سوتے ہوئے احتلام (غسل کی حاجت) ہوجانا۔ (۱۲) دانتوں میں سے خون نکلے؛ مگر حلق میں نہ جائے تو روزہ میں خلل نہیں آیا۔ (۱۳) اگر خواب میں یا صحبت سے غسل کی حاجت ہوگئی اور صبح صادق ہونے سے پہلے غسل نہیں کیا اور اسی حالت میں روزہ کی نیت کرلی تو روزہ میں خلل نہیں آیا۔
وہ عذر جن سے رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہوتی ہے:
                (۱) بیماری کی وجہ سے روزہ کی طاقت نہ ہو، یا مرض بڑھنے کا شدید خطرہ ہوتو روزہ نہ رکھنا جائز ہے، بعد رمضان اس کی قضا لازم ہے۔
                (۲) جو عورت حمل سے ہو اور روزہ میں بچہ کو یا اپنی جان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتو روزہ نہ رکھے، بعد میں قضا کرے۔
                (۳) جو عورت اپنے یا کسی غیر کے بچہ کو دودھ پلاتی ہے، اگر روزہ سے بچہ کو دودھ نہیں ملتا، تکلیف پہنچتی ہے تو روزہ نہ رکھے پھر قضا کرے۔
                (۴) مسافر شرعی (جو کم از کم اڑتالیس میل کے سفر کی نیت پر گھر سے نکلا ہو) اس کے لیے اجازت ہے کہ روزہ نہ رکھے، پھر اگر کچھ تکلیف ودقت نہ ہوتو افضل یہ ہے کہ سفر ہی میں روزہ رکھ لے اگر خود اپنے آپ کو یا اپنے ساتھیوں کو اس سے تکلیف ہوتو روزہ نہ رکھنا ہی افضل ہے۔
                (۵) بحالت روزہ سفر شروع کیا تو اس روزة کا پورا کرنا ضروری ہے اور اگر کچھ کھانے پینے کے بعد سفر سے وطن واپس آگیا تو باقی دن کھانے پینے سے احتراز کرے، اور اگر ابھی کچھ کھایا پیا نہیں تھا کہ وطن میں ایسے وقت واپس آگیا جب کہ روزہ کی نیت ہوسکتی ہو یعنی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل تو اس پر لازم ہے کہ روزہ کی نیت کرلے۔
                (۶) کسی کو قتل کی دھمکی دے کر روزہ توڑنے پر مجبور کیا جائے تو اس کے لیے توڑ دینا جائز ہے پھر قضا کرلے۔
                (۷) کسی بیماری یا بھوک پیاس کا اتنا غلبہ ہوجائے کہ کسی مسلمان دیندار ماہر طبیب یا ڈاکٹر کے نزدیک جان کا خطرہ لاحق ہوتو روزہ توڑدینا جائز؛ بلکہ واجب ہے اور پھر اس کی قضا لازم ہوگی۔
                (۸) عورت کے لیے ایام حیض میں اور بچہ کی پیدائش کے بعد جو خون آتا ہے یعنی نفاس اس کے دوران میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔ ان ایام میں روزہ نہ رکھے بعد میں قضا کرے۔ بیمار، مسافر، حیض ونفاس والی عورت جن کے لیے رمضان میں روزہ رکھنا اور کھانا پینا جائز ہے ان کو بھی لازم ہے کہ رمضان کا احترام کریں، سب کے سامنے کھاتے پیتے نہ پھریں۔
روزہ کی قضا
                (۱) کسی عذر سے روزہ قضا ہوگیا تو جب عُذر جاتا رہے جلد ادا کرلینا چاہیے۔ زندگی اور طاقت کا بھروسہ نہیں، قضا روزوں میں اختیار ہے کہ متواتر رکھے یا ایک ایک دودو کرکے رکھے۔
                (۲) اگر مسافر سفر سے لوٹنے کے بعد یا مریض تندرست ہونے کے بعد اتنا وقت نہ پائے کہ جس میں قضا شدہ روزے ادا کرے تو قضا اس کے ذمہ لازم نہیں۔ سفر سے لوٹنے اور بیماری سے تندرست ہونے کے بعد جتنے دن ملیں، اتنے ہی کی قضا لازم ہوگی۔
سحری
                روزہ دار کو آخر رات میں صبحِ صادق سے پہلے پہلے سحری کھانا مسنون اور باعثِ برکت وثواب ہے۔ نصف شب کے بعد جس وقت بھی کھائیں سحری کی سنت ادا ہوجائے گی؛ لیکن بالکل آخر شب میں کھانا افضل ہے۔ اگر موٴذّن نے صبح سے پہلے اذان دے دی تو سحری کھانے کی ممانعت نہیں؛ جب تک صبح صادق نہ ہوجائے۔ سحری سے فارغ ہوکر روزہ کی نیت دل میں کرلینا کافی ہے اور زبان سے بھی یہ الفاظ کہہ لے تو اچھا ہے بِصَوْمِ غَدٍ نَّوَیْتُ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ
اِفطاری
                آفتاب کے غروب ہونے کا یقین ہوجانے کے بعد افطار میں دیر کرنا مکروہ ہے، ہاں جب اَبر وغیرہ کی وجہ سے اشتباہ ہوتو دو چار منٹ انتظار کرلینا بہتر ہے اور تین منٹ کی احتیاط بہرحال کرنا چاہیے۔
                کھجور اور خرما سے افطار کرنا افضل ہے اور کسی دوسری چیز سے افطار کریں تو اس میں بھی کوئی کراہت نہیں، افطار کے وقت یہ دُعا مسنون ہے اَللّٰہُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ اور افطار کے بعد یہ دعا پڑھے ذَہَبَ الظَّمَاءُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ․
تراویح
                (۱)رمضان المبارک میں عشاء کے فرض اور سنت کے بعد بیس رکعت سنت موٴکدہ ہے۔
                (۲) تراویح کی جماعت سنت علی الکفایہ ہے۔ محلہ کی مسجد میں جماعت ہوتی ہواور کوئی شخص علیحدہ اپنے گھر میں اپنی تراویح پڑھ لے تو سنت ادا ہوگئی، اگرچہ مسجد اور جماعت کے ثواب سے محروم رہا اور اگر محلہ ہی میں جماعت نہ ہوئی تو سب کے سب ترک سنت کے گنہگار ہوں گے۔
                (۳) تراویح میں پورا قرآن مجید ختم کرنا بھی سنت ہے۔ کسی جگہ حافظِ قرآن سنانے والانہ ملے یا ملے؛ مگر سنانے پر اجرت ومعاوضہ طلب کرے تو چھوٹی سورتوں سے نماز تراویح ادا کریں، اُجرت دے کر قرآن نہ سنیں؛ کیوں کہ قرآن سنانے پر اجرت لینا اور دینا حرام ہے۔
                (۴) اگر ایک حافظ ایک مسجد میں بیس رکعت پڑھ چکا ہے، اس کو دوسری مسجد میں اسی رات تراویح پڑھنا درست نہیں۔
                (۵) جس شخص کی دوچار رکعت تراویح کی رہ گئی ہو تو جب امام وتر کی جماعت کرائے اس کو بھی جماعت میں شامل ہوجانا چاہیے، اپنی باقی ماندہ تراویح بعد میں پوری کرے۔
                (۶) قرآن کو اس قدر جلد پڑھنا کہ حروف کٹ جائیں بڑا گناہ ہے، اس صورت میں نہ امام کو ثواب ہوگا، نہ مقتدی کو۔ جمہور علماء کا فتویٰ یہ ہے کہ نابالغ کو تراویح میں امام بنانا جائز نہیں۔
اِعتکاف
                (۱) اعتکاف اس کو کہتے ہیں کہ اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں رہے اور سوائے ایسی حاجات ضروریہ کے جو مسجد میں پوری نہ ہوسکیں (جیسے پیشاب، پاخانہ کی ضرورت یا غسل واجب اور وضو کی ضرورت) مسجد سے باہر نہ جائے۔
                (۲) رمضان کے عشرئہ اخیر میں اعتکاف کرنا سنت موٴکدہ علی الکفایہ ہے۔ یعنی اگر بڑے شہروں کے محلہ میں اور چھوٹے دیہات کی پوری بستی میں کوئی بھی اعتکاف نہ کرے تو سب کے اوپر ترکِ سنت کا وبال رہتا ہے اور کوئی ایک بھی محلہ میں اعتکاف کرے تو سب کی طرف سے سنت ادا ہوجاتی ہے۔
                (۳) بالکل خاموش رہنا اعتکاف میں ضروری نہیں؛ بلکہ مکروہ ہے؛ البتہ نیک کلام کرنا اور لڑائی جھگڑے اور فضول باتوں سے بچنا چاہیے۔
                (۴) اعتکاف میں کوئی خاص عبادت شرط نہیں، نماز، تلاوت یا دین کی کتابوں کا پڑھنا پڑھانا یا جو عبادت دل چاہے کرتا رہے۔
                (۵) جس مسجد میں اعتکاف کیاگیا ہے، اگر اس میں جمعہ نہیں ہوتا، تو نماز جمعہ کے لیے اندازہ کرکے ایسے وقت مسجد سے نکلے جس میں وہاں پہنچ کر سنتیں ادا کرنے کے بعد خطبہ سن سکے۔ اگر کچھ زیادہ دیر جامع مسجد میں لگ جائے، جب بھی اعتکاف میں خلل نہیں آتا۔
                (۶) اگر بلا ضرورت طبعی شرعی تھوڑی دیر کو بھی مسجد سے باہر چلا جائے گا تو اعتکاف جاتا رہے گا، خواہ عمداً نکلے یا بھول کر۔ اس صورت میں اعتکاف کی قضا کرنا چاہیے۔
                (۷) اگر آخر عشرہ کا اعتکاف کرنا ہوتو ۲۰/تاریخ کو غروبِ آفتاب سے پہلے مسجد میں چلا جائے اور جب عید کا چاند نظر آجائے تب اعتکاف سے باہر ہو۔
                (۸) غسلِ جمعہ یا محض ٹھنڈک کے لیے غسل کے واسطے مسجد سے باہر نکلنا مُعتکف کو جائز نہیں۔
شبِ قدر
                چونکہ اس امت کی عمریں بہ نسبت پہلی امتوں کے چھوٹی ہیں؛ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایک رات ایسی مقرر فرمادی ہے کہ جس میں عبادت کرنے کا ثواب ایک ہزار مہینہ کی عبادت سے بھی زیادہ ہے؛ لیکن اس کو پوشیدہ رکھا؛ تاکہ لوگ اس کی تلاش میں کوشش کریں اور ثواب بے حساب پائیں۔ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شبِ قدر ہونے کا زیادہ احتمال ہے یعنی ۲۱ ویں، ۲۳ ویں، ۲۵ویں، ۲۷ویں، ۲۹ویں شب۔ اور ۲۷ویں شب میں سب سے زیادہ احتمال ہے۔ ان راتوں میں بہت محنت سے عبادت اور توبہ واستغفار اور دعا میں مشغول رہنا چاہیے۔ اگر تمام رات جاگنے کی طاقت یا فرصت نہ ہوتو جس قدر ہوسکے جاگے اور نفل نماز یا تلاوتِ قرآن یا ذکر وتسبیح میں مشغول رہے اور کچھ نہ ہوسکے تو عشاء اور صبح کی نماز جماعت سے ادا کرنے کا اہتمام کرے، حدیث میں آیا ہے کہ یہ بھی رات بھر جاگنے کے حکم میں ہوجاتا ہے، ان راتوں کو صرف جلسوں تقریروں میں صرف کرکے سوجانا بڑی محرومی ہے، تقریریں ہر رات ہوسکتی ہیں، عبادت کا یہ وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا۔
                البتہ جولوگ رات بھر عبادت میں جاگنے کی ہمت کریں، وہ شروع میں کچھ وعظ سن لیں، پھر نوافل اور دعا میں لگ جائیں تو دُرست ہے۔
ترکیب نمازِ عید
                اول زبان یا دل سے نیت کرو کہ دو رکعت نمازِ عید واجب مع چھ زائد تکبیروں کے پیچھے اس امام کے۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لو اور سُبْحَانَکَ اللّٰہم پڑھو پھر دوسری اور تیسری تکبیر میں ہاتھ کانوں تک اٹھاکر چھوڑ دو اور چوتھی میں باندھ لو اور جس طرح ہمیشہ نماز پڑھتے ہوپڑھو۔ دوسری رکعت میں سورت کے بعد جب امام تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہہ کر پہلی، دوسری اور تیسری دفعہ میں ہاتھ کانوں تک اٹھاکر چھوڑ دو اور چوتھی تکبیر کہہ کر بلاہاتھ اُٹھائے رکوع میں چلے جاؤ۔ باقی نماز حسب دستور تمام کرو۔ خطبہ سُن کر واپس جاؤ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ․
مسائل زکوٰة
وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّکوٰةَ
                مسئلہ: اگر کسی کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا ہے یا اس میں سے کسی ایک کی قیمت کے برابر روپیہ یا نوٹ ہے تو اس پر زکوٰة فرض ہے۔ نقد روپیہ بھی سونے چاندی کے حکم میں ہے (شامی) اور سامانِ تجارت اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس پر بھی زکوٰة فرض ہے۔
                مسئلہ: کارخانے اور مِل وغیرہ کی مشینوں پر زکوٰة فرض نہیں؛ لیکن ان میں جو مال تیار ہوتا ہے اس پر زکوٰة فرض ہے ، اسی طرح جو خام مال کارخانہ میں سامان تیار کرنے کے لیے رکھا ہے اس پر بھی زکوٰة فرض ہے (درمختار وشامی)
                مسئلہ: سونے چاندی کی ہر چیز پر زکوٰة واجب ہے، زیور، برتن؛ حتی کہ سچاگوٹہ، ٹھپہ، اصلی زری، سونے چاندی کے بٹن، ان سب پر زکوٰة فرض ہے، اگرچہ ٹھپہ گوٹہ اور زری کپڑے میں لگے ہوئے ہوں۔
                مسئلہ: کسی کے پاس کچھ روپیہ، کچھ سونا یا چاندی اور کچھ مالِ تجارت ہے؛ لیکن علیحدہ علیحدہ بقدر نصاب ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں ہے تو سب کو ملاکر دیکھیں اگر اس مجموعہ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہوجائے توزکوٰة فرض ہوگی اور اگر اس سے کم رہے تو زکوٰة فرض نہیں (ہدایہ)
                مسئلہ: مِلوں اور کمپنیوں کے شیئرز پر بھی زکوٰة فرض ہے؛ بشرطیکہ شیئرز کی قیمت بقدر نصاب ہو یا اس کے علاوہ دیگر مال مِل کر شیئرہولڈر مالک نصاب بن جاتا ہو؛ البتہ کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں؛ چونکہ مشینری اور مکان اور فرنیچر وغیرہ کی لاگ بھی شامل ہوتی ہے جو درحقیقت زکوٰة سے مستثنیٰ ہے؛ اس لیے اگر کوئی شخص کمپنی سے دریافت کرکے جس قدر رقم اس کی مشینری اور مکان اور فرنیچر وغیرہ میں لگی ہوئی ہے، اُس کو اپنے حصے کے مطابق شیئرز کی قیمت میں سے کم کرکے باقی کی زکوٰة دے تو یہ بھی جائز اور درست ہے۔ سال کے ختم پر جب زکوٰة دینے لگے اس وقت جو شیئرز کی قیمت ہوگی وہی لگے گی۔ (درمختار وشامی)
                مسئلہ: پراویڈنٹ فنڈ جو ابھی وصول نہیں ہوا اُس پر بھی زکوٰة فرض ہے؛ لیکن ملازمت چھوڑنے کے بعد جب اس فنڈ کا روپیہ وصول ہوگا، اس وقت اس روپیہ پر زکوٰة فرض ہوگی، بشرطیکہ یہ رقم بقدرِ نصاب ہو یا دیگر مال کے ساتھ مل کر بقدر نصاب ہوجاتی ہو وصولیابی سے قبل کی زکوٰة پراویڈنٹ کی رقم پر واجب نہیں، یعنی پچھلے سالوں کی زکوٰة فرض نہیں ہوگی۔
                مسئلہ: صاحب نصاب اگر کسی سال کی زکوٰة پیشگی دے دے تو یہ بھی جائز ہے؛ البتہ اگر بعد میں سال پورا ہونے کے اندر مال بڑھ گیا تو اس بڑھے ہوئے مال کی زکوٰة علیحدہ دینا ہوگی۔ (درمختار وشامی)
                جس قدر مال ہے اس کا چالیسواں حصہ(۴۰---۱) دینا فرض ہے یعنی ڈھائی فیصد مال دیا جائے گا۔ سونے، چاندی اور مال تجارت کی ذات پر زکوٰة فرض ہے اس کا ۴۰---۱ دے اگر قیمت دے تو یہ بھی جائز ہے؛ مگر قیمتِ خرید نہ لگے گی، زکوٰة واجب ہونے کے وقت جو قیمت ہوگی اس کا ۴۰---۱دینا ہوگا (درمختار،ج:۲)
                مسئلہ: ایک ہی فقیر کو اتنا مال دے دینا کہ جتنے مال پر زکوٰة فرض ہوتی ہے، مکروہ ہے؛ لیکن اگر دے دیا تو زکوٰة ادا ہوگئی اور اس سے کم دینا بغیر کراہت کے جائز ہے۔ (ہدایہ ج۱)
                مسئلہ: زکوٰة ادا ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ جو رقم کسی مستحقِ زکوٰة کو دی جائے وہ اس کی کسی خدمت کے معاوضہ میں نہ ہو۔
                مسئلہ: ادائیگی زکوٰة کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ زکوٰة کی رقم کسی مستحق زکوٰة کو مالکانہ طور پر دے دی جائے، جس میں اس کو ہر طرح کا اختیار ہو، اس کے مالکانہ قبضہ کے بغیرزکوٰة ادا نہ ہوگی۔

تراویح کے ضروری مسائل Taraweeh Namaz Dua Niyat Masael


تراویح اور اس کے ضروری مسائل
 مفتی محمود حسن گنگوہی

مسئلہ:1…کُل تراویح حنفیہ کے نزدیک بیس رکعت ہیں اوران کو جماعت سے پڑھنا سنت ہے، اگر تمام اہل محلہ تراویح چھوڑ دیں تو سب ترکِ سنت کے وبال میں گرفتار ہوں گے ۔( کبیری)

مسئلہ:2 … گھر پر تراویح کی جماعت کرنے سے بھی فضیلت حاصل ہوجائے گی لیکن مسجد میں پڑھنے کا جو ستائیس درجہ ثواب ہے وہ نہیں ملے گا۔ ( کبیری)

مسئلہ:3 … تراویح کی جماعت عشاء کی جماعت کے تابع ہے(لہذا عشاء کی جماعت سے پہلے جائز نہیں) اور جس مسجد میں عشاء کی جماعت نہیں ہوئی وہاں پر تراویح کو بھی جماعت سے پڑھنا درست نہیں۔ (کبیری)

مسئلہ:4 … ایک شخص تراویح پڑھ چکا امام بن کر یا مقتدی ہو کر، اب اسی شب میں اس کو امام بن کر تراویح پڑھنا درست نہیں، البتہ دوسری مسجد میں اگر تراویح کی جماعت ہورہی ہو تو وہاں (بنیتِ نفل ) شریک ہونا بلا کراہت جائز ہے ۔( کبیری)

مسئلہ:5 … ایک امام کے پیچھے فرض اور دوسرے کے پیچھے تراویح اور وتر پڑھنا بھی جائز ہے۔ ( کبیری)

مسئلہ:6 … کسی مسجد میں ایک مرتبہ تراویح کی جماعت ہوچکی تو دوسری مرتبہ اُسی شب میں وہاں تراویح کی جماعت جائز نہیں لیکن تنہا تنہا پڑھنا درست ہے۔ (بحر)

مسئلہ:7 … نابالغ کو تراویح کے لیے امام بنانا درست نہیں۔ (کبیری)۔ البتہ اگر وہ نابالغوں کی امامت کرے تو جائز ہے۔ (خانیہ)۔

مسئلہ:8 … اگر اپنی مسجد کا امام قرآن شریف غلط پڑھتا ہو تو دوسری مسجد میں تراویح پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔(عالم گیری )

مسئلہ:9 … اجرت مقرر کر کے امام کو تراویح کے لیے بُلانا مکروہ ہے۔ (عالم گیری )

مسئلہ:10 … ہر ترویحہ پر یعنی چار رکعت پڑھ کر اتنی ہی دیر یعنی چار رکعت کے موافق جلسہٴ استراحت مستحب ہے، (اسی طرح پانچویں ترویحہ کے بعد وتر سے پہلے بھی جلسہ مستحب ہے، لیکن اگر مقتدیوں پر اس سے گرانی ہو تو نہ بیٹھے، (عالم گیری) اور اتنی دیر تک اختیار ہے کہ تسبیح ، قرآن شریف، نفلیں جو دل چاہے پڑھتا رہے، اہلِ مکہ کا معمول طواف کرنے اور دو رکعت نفل پڑھنے کا ہے اور اہلِ مدینہ کا معمول چار رکعت پڑھنے کا ۔( کبیری) اور یہ دعا بھی منقول ہے:
”سبحان ذي الملک والملکوت، سبحان ذي العزة والعظمة والقدرة والکبریاء و الجبروت، سبحان الملک الحي الذي لا یموت، سبوح، قدوس، رب الملائکة والروح، لاإلہ إلا الله، نستغفر الله نسألک الجنة، و نعوذ بک من النار“․ (شامي)

مسئلہ :11 … دس رکعت پر جلسہٴ استراحت کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ (کبیری)

مسئلہ:12 … ہر شفعہ کے بعد دو رکعت علیحدہ علیحدہ پڑھنا بدعت ہے۔(کبیری)

مسئلہ:13 … کوئی شخص مسجد میں ایسے وقت پہونچا کہ تراویح کی جماعت شروع ہوگئی تھی تو اس کو چاہیے کہ پہلے فرض اور سنتیں پڑھے اس کے بعد تراویح میں شریک ہو اور چُھوٹی ہوئی تراویح دو ترویحوں کے درمیان جلسہ کے وقت پوری کرلے، اگر موقعے نہ ملے تو وتروں کے بعد پڑھے اور وتروں یا تراویح کی جماعت چھوڑ کر تنہا نہ پڑھے۔(کبیری)

مسئلہ:14 … اگر بعد میں معلوم ہوا کہ کسی وجہ سے عشاء کے فرض صحیح نہیں ہوئے، مثلاً: امام نے بغیر وضو پڑھائے یا کوئی رکن چھوڑ دیا تو فرضوں کے ساتھ تراویح کا بھی اعادہ کرنا چاہیے، اگر چہ یہاں وہ وجہ موجود نہ ہو۔ (کبیری)

مسئلہ:15 … قیامِ لیلِ رمضان یا تراویح یا سنتِ وقت یا صلوة امام کی نیت کرنے سے تراویح ادا ہوجائیں گی۔ (خانیہ)

مسئلہ:16 … مطلقاً نماز یا نوافل کی نیت پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ (خانیہ)

مسئلہ:17 … اگر کسی نے عشا کی سنتیں نہیں پڑھی تھیں اور امامِ تراویح کے پیچھے سنتِ عشاء کی نیت کر کے اقتدا کیا، تو یہ جائز ہے ۔(خانیہ)

مسئلہ:18 … اگر امام دوسرا یا تیسرا شفعہ پڑھ رہا ہے اور کسی مقتدی نے اس کے پیچھے پہلے شفعہ کی نیت کی، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (خانیہ)

مسئلہ:19 … اگر تراویح کسی وجہ سے فوت ہوجائیں تو ان کی قضاء نہیں، نہ جماعت کے ساتھ، نہ بغیر جماعت کے، اگرکسی نے قضاء کی تو تراویح نہ ہونگی ،بلکہ نفلیں ہونگی۔ (بحر)

مسئلہ:20 … اگر یاد آیا کہ گذشتہ شب کوئی شفعہ تراویح کا فوت ہوگیا یا فاسد ہوگیا تھا تو اس کو بھی جماعت کے ساتھ تراویح کی نیت سے قضاء کرنا مکروہ ہے ۔ (خانیہ)

مسئلہ:21 … اگر امام نے دو رکعت پر قعدہ نہیں کیا، بلکہ چار پڑھ کر قعدہ کیا تو یہ اخیر کی د ورکعت شمار ہوں گی۔(کبیری)

مسئلہ:22 … اگر وتر پڑھنے کے بعد یاد آیا، ایک شفعہ مثلاً رہ گیا، تو اس کو بھی جماعت کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔

مسئلہ:23 … اگر بعد میں یاد آیا کہ ایک مرتبہ صرف ایک ہی رکعت پڑھی گئی اور شفعہ پورا نہیں ہوا اور کل تراویح انیس ہوتی ہیں تو دو رکعت اَور پڑھ لی جائے، یعنی صرف شفعہ فاسدہ کا اعادہ ہوگا اور اس کے بعد کی تمام تراویح کا اعادہ نہ ہوگا۔ (کبیری)

مسئلہ:24 … جب شفعہٴ فاسدہ کا اعادہ کیا جائے تو اس میں جس قدر قرآن شریف پڑھا تھا، اس کا بھی اعادہ کرنا چاہیے تاکہ تمام قرآن شریف صحیح نماز میں ختم ہو۔ (خانیہ)

مسئلہ:25 … اگرتمام نمازیوں اور امام کو شک ہوا کہ18 تراویح ہوئی ہیں یا بیس پوری ہوگئیں تو دو رکعت بلا جماعت اَور پڑھ لی جائیں۔ (کبیری)

مسئلہ:26 … اگر تمام مقتدیوں کو تو شک ہوا، لیکن امام کو شک نہیں ہوا، بلکہ کسی ایک بات کا یقین ہے تو وہ اپنے یقین پرعمل کرے اور مقتدیوں کے قول کی طرف کوئی توجہ نہ کرے۔ (کبیری)

مسئلہ:27 … اگر بعض کہتے ہیں کہ بیس پوری ہوگئیں اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں، بلکہ اٹھارہ ہوئی ہیں، تو جس طرف امام کا رجحان ہو اس پر عمل کرے ۔ (کبیری)

مسئلہ:28 … اگر اٹھارہ پڑھ کر امام سمجھا کہ بیس پوری ہوگئیں اور وتروں کی نیت باندھ لی ،مگر دو رکعت پڑھ کر یاد آیا کہ ایک شفعہ تراویح کا باقی رہ گیا ہے، جب ہی دو رکعت پر سلام پھیر دیا، تو یہ شفعہ تراویح کا شمار نہ ہوگا۔ (خانیہ)

مسئلہ:29 … اگر کسی کی صبح کی نماز قضاء ہوگئی تھی، اس کی نیت سے تراویح پڑھی ،تو یہ تراویح ادا نہ ہوں گی۔(خانیہ)

مسئلہ:30 … اگرتین رکعت پر سلام پھیر دیا تو دو رکعت پر اگر بیٹھ چکا تھا تب تو ایک شفعہ صحیح ہوگیا اور چوں کہ دوسرا شفعہ شروع کر چکا تھا، اس لیے اس کی قضاء ہوگی۔

مسئلہ:31 … اگر دو رکعت پر نہیں بیٹھا تو پہلا شفعہ بھی صحیح نہیں ہوا، لہٰذا اس کی قضاء ضروری ہے۔ (خانیہ)

مسئلہ:32 … بلا عذر بیٹھ کر پڑھنے سے تراویح ادا ہوجائے گی، مگر ثواب نصف ملے گا۔ (عالم گیری)

مسئلہ:33 … اگر امام کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر پڑھائے، تب بھی مقتدیوں کو کھڑے ہوکر پڑھنا مستحب ہے۔ (خانیہ)

مسئلہ:34 … جماعت ہورہی ہے اور ایک شخص بیٹھا رہتا ہے، جب امام رکوع میں جاتا ہے تو فوراً یہ بھی نیت باندھ کر امام کے ساتھ رکوع میں شریک ہوجاتا ہے، یہ فعل مکروہ ہے اور تشبہ بالمنافقین ہے۔(کبیری)

مسئلہ: 35 … جس شخص پر نیند کا غلبہ ہو اس کو چاہیے کہ کچھ دیر سو رہے، اس کے بعد تراویح پڑھے۔ (شامی)

مسئلہ: 36 … تراویح کو شمار کر تے رہنا مکروہ ہے، کیوں کہ یہ اُکتا جانے کی علامت ہے ۔ (خانیہ)

مسئلہ: 37 … مستحب یہ ہے کہ شب کا اکثر حصہ تراویح میں خرچ کیا جائے ۔ (بحر )

مسئلہ: 38 … ایک مرتبہ قرآن شریف ختم کرنا(پڑھ کر یا سن کر) سنت ہے، دوسری مرتبہ فضیلت ہے اور تین مرتبہ افضل ہے، لہٰذا اگر ہر رکعت میں تقریباً دس آیتیں پڑھی جائیں، تو ایک مرتبہ بسہولت ختم ہوجائے گا اور مقتدیوں کو بھی گرانی نہ ہوگی ۔ (خانیہ)

مسئلہ: 39 … جو لوگ حافظ ہیں ان کے لیے فضیلت یہ ہے کہ مسجد سے واپس آکر بیس رکعت اَور پڑھا کریں تاکہ دو مرتبہ ختم کرنے کی فضیلت حاصل ہوجائے ۔ (خانیہ)

مسئلہ:40 … ہر عشرہ میں ایک مرتبہ ختم کرنا افضل ہے۔ (بحر)

مسئلہ: 41 … اگر مقتدی اس قدر ضعیف اور کاہل ہوں کہ ایک مرتبہ بھی پورا قرآن شریف نہ سن سکیں بلکہ اس کی وجہ سے جماعت تک چھوڑدیں تو پھر جس قدر سننے پر وہ راضی ہوں اُس قدر پڑھ لیاجائے، یا ”ألم ترکیف“ سے پڑھ لیا جائے ، ب(بحر) لیکن اس صورت میں ختم کی سنت کے ثواب سے محروم رہیں گے ۔ (خانیہ)

مسئلہ: 42 … ستائیسویں شب کو ختم کرنا مستحب ہے۔ (بحر)

مسئلہ: 43 … اگر اپنی مسجد کا امام قرآن شریف ختم نہ کرے تو پھر کسی دوسری مسجد میں جہاں پر ختم ہو، تراویح پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ (کبیری )، کیوں کہ ختم کی سنت وہیں حاصل ہوگی۔

مسئلہ: 44 … تراویح میں ایک مرتبہ سورت کے شروع میں ”بسم الله الرحمن الرحیم“کو بھی زور سے تمام قرآن شریف کی طرح پڑھنا چاہیے، آہستہ پڑھنے سے امام کا تو قرآن شریف پورا ہوجائے گا مگرمقتدیوں کا پورا نہ ہوگا۔ (أحکام البسملة)․

مسئلہ: 45 … اگر کوئی آیت چھوٹ گئی اور کچھ حصہ آگے پڑھ کر یاد آیا کہ فلاں آیت چھوٹ گئی ہے تو اس کے پڑھنے کے بعد آگے پڑھے ہوئے حصہ کااعادہ بھی مستحب ہے۔ (عالم گیری)

مسئلہ: 46 … امام نے جب سلام پھیرا تو مقتدیوں میں اختلاف ہواکہ دو رکعت ہوئی ہیں، یا تین؟ تو جس طرف امام کا رجحان ہو اس پرعمل کرے ۔ (خانیہ)

مسئلہ: 47 … کسی چھوٹی سورت کا فصل کرنا دو رکعت کے درمیان فرائض میں مکروہ ہے، تراویح میں مکروہ نہیں۔ (بحر)

مسئلہ: 48 … اگر مقتدی ضعیف اور سست ہوں کہ طویل نماز کا تحمل نہ کرسکتے ہوں، تو درود کے بعد دعاء چھوڑ دینے میں مضائقہ نہیں، لیکن درود کو نہیں چھوڑنا چاہیے ۔ (عالم گیری )

مسئلہ: 49 … کوئی شخص ایسے وقت جماعت میں شریک ہوا کہ امام قراء ت شروع کرچکا تھا، تو اب اس کو ”سبحانک اللہم“ نہیں پڑھنا چاہیے۔(کبیری)

مسئلہ: 50 … اگر مسبوق نے امام کے ساتھ یا امام سے کچھ پہلے بھول کر سلام پھیردیا تو اس پر سجدہ سہو واجب نہیں اور امام کے لفظ ”السلام“ کہنے کے بعد سلام پھیرا ہے تو اس پر سجدہٴ سہو واجب ہے۔ (محیط )

مسئلہ: 51 … مسبوق اپنی نماز تنہا پوری کرنے کے لیے نہ اٹھے، جب تک کہ امام کی نماز ختم ہونے کا یقین نہ ہوجائے ،( محیط) کیوں کہ بعض دفعہ امام سجدہٴ سہو کے لیے سلام پھیرتا ہے اور مسبوق اس کو ختم کا سلام سمجھ کر اپنی نماز پوری کرنے کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے، ایسی صورت میں فوراً لوٹ کر امام کے ساتھ شریک ہوجانا چاہیے ۔

مسئلہ: 52 … اگر کوئی شخص ایسے وقت آیا کہ امام رکوع میں تھا، یہ فوراً تکبیر تحریمہ کہہ کر رکوع میں شریک ہوا اور جب ہی امام نے رکوع سے سر اٹھا لیا، پس اگر سیدھا کھڑا ہو کر تکبیر تحریمہ کہہ کر رکوع میں گیا تھا اور رکوع میں جھکنے سے پہلے پہلے الله اکبر کہہ چکا تھا اور کمر کو رکوع میں برابر کرلیا تھا اس کے بعد اما م نے رکوع سے سر اٹھایا ہے، تب تورکعت مل گئی، تسبیح اگر چہ ایک مرتبہ بھی نہ کہی ہو اور اگر امام کے سر اٹھانے سے پہلے رکوع میں کمر کو برابر نہیں کرسکا، تو رکعت نہیں ملی۔ اور اگرتکبیر سیدھے کھڑے ہوکر نہیں کہی، بلکہ جھکتے ہوئے کہی اور رکوع میں پہنچ کر ختم کی ہے، تو یہ شروع کرنا ہی صحیح نہیں ہوا۔(محیط )

مسئلہ: 53 … اگر کوئی شخص رکوع میں آکر شریک ہوا، مگررکوع اس کو نہیں ملا، تب بھی سجدہ میں امام کے ساتھ شریک ہونا اس پر واجب ہے لیکن اگر سجدہ میں شریک نہ ہوا، بلکہ سجدہ کے بعد امام کے ساتھ شریک ہوا ، تب بھی اس کی نماز فاسد نہ ہوگی۔( بحر)

مسئلہ: 54 … اگر قیام میں امام کے ساتھ شریک ہوگیا مگر رکوع امام کے ساتھ نہیں کیا ، بلکہ رکوع امام کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد کیا تب بھی رکعت مل گئی۔ (محیط )

مسئلہ: 55 … اگر رکوع میں امام کے ساتھ آکر شریک ہوا اور صرف ایک ہی تکبیر کہی، تب بھی نماز صحیح ہوگئی ، اگر چہ اس تکبیر سے رکوع کی تکبیر کی نیت کی ہو اور تکبیر تحریمہ کی نیت نہ کی ہو، اس نیت کا اعتبار نہ ہوگا۔( فتح القدیر)۔ بشرطیکہ تکبیر کھڑے ہوکر کہی ہو رکوع میں نہ کہی ہو۔

مسئلہ: 56 … آیت سجدہ پڑھنے والے اور سننے والے دونوں پر سجدہ ٴ تلاوت واجب ہوتا ہے۔( محیط)

مسئلہ: 57 … سورہ حج میں پہلا سجد ہ واجب ہے ، دوسرا نہیں۔ (محیط)

مسئلہ: 58 … اگر خارجِ نماز آیتِ سجدہ کی تلاوت کی، مگر سجدہ نہیں کیا، نماز میں وہی آیت پڑھی اور سجدہ کیا تو یہ سجدہ دونوں دفعہ کی تلاوت کے لیے کافی ہے اگر پہلے سجدہ کرلیا تھا تو اب دوبارہ بھی سجدہ کرنا چاہیے ۔ (محیط )

مسئلہ: 58 … اگرامام نے آیتِ سجدہ پڑھ کر سجدہ کیا اور کوئی شخص آیتِ سجدہ سن کر امام کے ساتھ اس سجدہ کے بعد اسی رکعت میں شریک ہوگیا، تو اس کے ذمہ سے یہ سجدہ ساقط ہوگیا، اگر اس رکعت میں شریک نہیں ہوا تو اس کو خارجِ صلوة علیحدہ سجدہ کرنا چاہیے۔( محیط)

مسئلہ: 59 … آیتِ سجدہ کے بعد فورا ً ہی سجدہ کرنا افضل ہے، لیکن اگر نماز میں آیتِ سجدہ کے بعدسجدہ نہ کیا، بلکہ رکوع کیا اور اس میں اس سجدہ کی نیت کرلی، تب بھی سجدہ ادا ہوجائے گا، اگر رکوع میں نیت نہیں کی، تو اس کے بعد سجدہ نماز سے بلا نیت بھی ادا ہوجائے گا، یہ جب ہے کہ آیتِ سجدہ کے بعد تین آیتوں سے زیادہ نہ پڑھا ہو، اگر آیت سجدہ کے بعد تین آیتوں سے زیادہ پڑھ چکا ہو، تو اب اس سجدہ کا وقت جاتا رہا، نہ نماز میں اداہوسکتا ہے نہ خارج نماز، توبہ و استغفار کرنا چاہیے ۔ (محیط )

مسئلہ: 60 … اگرآیت سجدہ (جو کہ سورت کے ختم پر ہے) پڑھ کر سجدہ کیا تو اب سجدہ سے اٹھ کر فوراً رکوع نہ کیا جائے (اس خیال سے کہ سورت تو ختم ہوہی گئی ) بلکہ تین آیت کی مقدار پڑھ کر رکوع کرنا چاہیے۔ 
(محیط)




 سب سے پہلےتو یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ مشہور حدیث علیکم بسنتی وسنت خلفاالراشیدین المہدیین کی روشنی میں خلفاء راشیدین کے زمانے میں جاری اعمال بھی سنت کے دائرے میں اتے ہیں.تراویح بھی ان ہی اعمال میں سے ہے.جمعہ کےنماز کے لئے ایک اور اذان بھی اس کی ایک مثال ہے.دونوں سنت ہیں.
جن صحابہ کے بارے میں یہ آتا ہے کہ وہ عموما مساجد کی تراویح میں نہیں ہوتے تھے .ان کے بارے میں دیگر روایات بتاتی ہیں کہ وہ اپنے گھروں میں طویل قیام کے ساتھ رات بھر تراویح ونوافل میں مشغول رہتے تھے.
آج بھی اگر کوئی عشا کئ نماز مسجد میں ادا کر کے اپنے گھر میں تراویح کا اہتمام کرتا ہے تو اس کی اجازت ہے.