مستورات تبلیغی جماعت کی شرعی حیثیت اور کام کی شروعات کی تاریخ

 مستورات کی جماعت محرم کے ساتھ اور سخت ضوابط اور اصولوں کے سا تھ

 مستورات کی جماعت محرم کے ساتھ اور سخت ضوابط اور اصولوں کے سا تھ بھیجنے کو اہل حق علماء  کی ایک جماعت نے جائز اور دین کے لیئے مفید بتایا ہے ۔اہل حق علماء کی ایک دووسر ی جماعت نے اسے ناجائز بتایا ہے ۔
 ((عورتیں ملاقات کے لیئے گھر سے باہر نہیں جاتیں ۔ عورتوں میں کوئی گشت یا ملاقات نہیں ہے۔مرد کا قیام مسجد میں ہوتا ہے جس گھر میں قیام ہوتا ہے اس گھر کے مرد حتیٰ کے نو عمر بچے کو بھی گھر میں رکنے کی اجازت نہیں ہوتی مرد حضرات عورتوں کا نام تک نہیں جانتے جیسے اہلیہ محمود   والدہ محمد وغیرہ کے نام سے مشورہ ہوتا ہے سفر میں ساری عورتیں ایک ساتھ ہوتی ہیں اور سارے مردالگ ۔

فقہی اور اجتہادی مسائل میں علماء کا اختلاف دین کے اندر قبول کیا گیا ہے
اس بارے میں بخاری شریف کی حدیث موجود ہے ۔ دین کے اندر بہت ساری چیزوں میں اس کی مثالیں ہیں ۔مفتی شفیع صاحب ؒ معارف القرآن سورہ آل عمران آیت نمبر 103 کی تفسیر میں لکھتے ہیں"    فقہ  کا اختلاف  علماء کرام کے بیچ   ایک خالص علمی واجتہادی مسئلہ ہے جو امت کے تاریخ کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے  ۔ اگر قرآن پر مجتمع رہتے ہوئے اور حضو راکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح وتفصیل کوقبول کرتے ہوئے اپنی علمی   و اجتہادی استعداد اور دماغی حیثیتوں کی بناء پر فروع میں اختلاف کیا جائے تو یہ اختلاف فطری ہے ۔ اور اسلام اس سے منع نہیں کرتا۔ صحابہ وتابعین اور ائمہ فقہاء کا اختلاف اسی قسم کا تھا،  ہاں اگر انہی فروعی بحثوں کو اصل دین قرار دیا جائے اور ان میں اختلاف کو جنگ وجدال اور سب وشتم کا ذریعہ بنالیا جائے تو یہ بھی مذموم ہے ۔

ایک نئی بات اور سازش
"ادھر ایک حلقے کی طرف سے   مستورات کی جماعت کے بارے میں انٹرنیٹ پر  یہ غلط  بات پھیلانے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ اسے سارے علماء حق نے ناجائز قرار دیا ہے اور تبلیغی جماعت کسی کی بات نہیں مان رہی ہے اور اس کے ذریعے تبلیغی جماعت کو گمراہ اور با طل بتایا جا رہا ہے ۔بعض جگہ کھلے الفاظ میں اور بعض جگہ پوشیدہ ۔ اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔لیکن ایک بات صاف ہے کہ جو لوگ بھی ایسا کر رہے ہیں یہ ظلم ہے ۔اور  دانستہ یا نا دانستہ دین کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔یہ میں اس لیئے کہ رہا ہوں کہ اس طرح کی بات ایک حلقے کی جانب سے برابر آرہی ہے ۔

نقصان اسلام  مسلمانوں اور انسانیت  کا
 تبلیغی جماعت  عوام کی سطح پر مسلمانوں کو دین  سے جوڑنے کی محنت ہے۔جو سارے عالم میں  علماء کرام کی سر پرستی میں چل رہی ہے۔اور اللہ ہی اتنے بڑے نظام کو چلا سکتا ہے ۔ورنہ اس مادیت کے دور جب ہر کوئی اپنی دنیا بڑھانے کی فکر میں ہے۔لاکھوں لوگ بغیر کسی پیسہ اور مال کی لالچ میں اپنا  پیسہ   اور وقت خرچ کر کے ،تکلیف برداشت کرکے انسانیت کو اللہ کے دین سے جوڑنے کی فکر میں لوگوں کے دروازہ پر جا رہے ہیں۔ کم علمی نادانی  یا تعصب کی وجہ سے کچھ نادان مسلمان تبلیغی جماعت کے خلاف عام مسلمانوں کو بہکاتے اور وسوسہ ڈالتے ہیں ۔تبلیغی  جماعت میں نہ کوئی  پوسٹ نہ پیسہ ممبرشپ  اور فنڈ نہیں ہے اسلئے اسکے نقصان اور فائدہ کا سوال ہی نہیں ۔ تبلیغی جماعت کی مخالفت   دراصل اسلام ، مسلمانوں اور انسانیت  کا نقصان ہے۔

تبلیغی جماعت غلطیوں سے مبرہ نہیں ہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ تبلیغی جماعت غلطیوں سے مبرہ ہے ۔اسکے افراد میں اور اسکے اصولوں میں دونوں میں غلطی کا امکان ہے اور اصلاح کی گنجائش ہے ۔اور علماء حق کی ذمہ داری اور وقت کی ضرورت ہے  کہ اصلاح کی باتوں پر ضرور گرفت کی جائے ۔اور اس سلسلے میں تبلیغ  سے جڑے عوام سے لیکر علماء اکابر اور مرکز نظام  الدین کے ذمہ دار کوئی مستثنیٰ 
نہیں ۔

تبلیغی جماعت  کی  ممکنہ غلطیوں کے اصلاح کا طریقہ

اس کا طریقہ یہ ہے کہ افراد سے اگر کوئی غلطی ہو رہی ہے تو یہ واضح کر دیا  جائے کہ یہ اس فرد کی غلطی ہےتبلیغی جماعت کی نہیں اور اصول اور طریقہ کار میں کوئی اصلاح یا گرفت کی بات ہو تو    مرکز نظام الدین یا مرکز رائونڈ سے براہ

راست رابطہ کیا جائے ۔اس سلسلے میں اگر سفر کرنے کی بھی ضرورت  پیش آئے تو یہ دین کی بڑی خدمت ہوگی ۔کیونکہ

 کروڑوں کی تعداد میں لوگ اس کام سے جڑے ہیں  ۔  اور آپ کو ان سب کی اصلاح اور آگے جڑنے والوں کی اصلاحکا ثواب ملے گا ۔  


پیش نظر مضمون میں مستورات جماعت کے  اصول آداب سے لیکر اور قرآن و حدیث میں اسکی شرعی حیثیت  اور اسے
  علماء کی کے فتٰوےکو پیش کیا گیا


:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

حضرت اقدس مفتئ اعظم گجرات مد ظلہ رقم طراز ہیں؛

عورتوں کو تبلیغی جماعت میں بھیجنے کے سلسلے میں علمائے عصر کے دونظریے اور دو رائے ہیں، بعض علماء و اکابر نے تبلیغی اہمیت اور احساس کے باوجود مفاسد کے غالب ہونے کے پہلوکو مد نظر رکھ کر اجازت نہیں دی، اور بعض دوسرے علمائے کرام نے عصرحاضر کے لوگوں میں دین سے غفلت، اسلامی تہذیب و کلچر سے بعد و دوری، علوم اسلامیہ کی تحصیل و ترویج سے سستی و بیزاری وغیرہ دیگر حقائق نیز تبلیغی جماعت کے فوائدِ کثیرہ, من جملہ ان کے لوگوں میں اس کے ذریعہ علوم دینیہ کی تحصیل کا شوق و جذبہ، سنت نبوی علیہ الصلاة و السلام سے والہانہ لگاؤ، شریعت ِ اسلامی و تہذیب محمدی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی ترویج و اشاعت کا شوق و عزم وغیرہ پہلوؤں کے پیشِ نظر رکھ کر چند اہم و ضروری شرائط کے ساتھ اس کی اجازت دی ـ
چنانچہ مفتی لدھیانوی شہید رحمة الله تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں؛
 تبلیغ والوں نے مستورات کے تبلیغ میں جانے کے لئے خاص اُصول و شرائط رکھے ہیں، ان اُصولوں کی پابندی کرتے ہوئے عورتوں کا تبلیغی جماعت میں جانا بہت ہی ضروری ہے، اس سے دِین کی فکر اپنے اندر بھی پیدا ہوگی اور اُمت میں دِین والے اعمال زندہ ہوں گے۔
مفتی رشید احمد صاحب طویل بحث کرکے "بصیرت فقیہ" عنوان قائم کرتے ہوئے رقم طراز ہیں؛
بصیرت فقہیہ:
حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی عبارات مذکورہ سے ثابت ہوا کہ امور دینیہ کے لئے خواتین کے خروج کی ممانعت قرآن وحدیث میں منصوص نہیں، ٗبلکہ ان  حضرات نے اپنے زمانے کے حالات اور شیوع فتن و فسادات کی وجہ سے اصول شریعت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی آراء وانظار کا اظہار فرمایا ہے ٗ لہٰذا ان حضرات کا  فیصلہ کوئی نص قطعی اور حرف آخر نہیں، ٗ بلکہ تغیر زمانہ سے اس میں ترمیم کی گنجائش ہے۔
دور حاضر میں غلبہ جہل اور  دین سے بے اعتنائی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ خواتین کے لئے ضرورات شرعیہ سے خروج کو مطلقاً ممنوع و حرام قرار دینا اور کسی بھی ضرورت شرعیہ کے لئے خروج کی اجا زت نہ دینا اقامت دین کی بجائے ہدم دین ہے ٗ چنانچہ اسی کے پیش نظر مجموع النوازل میں مسائل شرعیہ معلوم کرنے کی ضرورت سے خروج کی اجازت دی گئی ہےــ
آخر میں حضرت اقدس سیدی مفتی خانپوری مدظلہ فرماتے ہیں کہ بہر حال یہ مسئلہ دیانت سے تعلق رکھتا ہے، اس کی پوری بنیاد ہی دیانت پر ہے، لہٰذا جو حضرات بھیجنے والے ہیں اور جو بھیج رہے ہیں ان کی بہت بڑی اور بہت اہم ذمہ داری ہے کہ وہ سب سے پہلے اس بات کا اطمنان حاصل کرلیں کہ جماعت ِ تبلیغ میں بھیجی جانے والی یہ خواتین کس نوع کی ہیں آج تک کے ان کے طرز عمل اور رویہ سے اس بات کا اطمنان ہو کہ یہ عورتیں اس سلسلے میں جو خاص اصول و شرائط تجویز کیے گئے ہیں ان کی مکمل پابندی کریں گی تو بھیجنے کی اجازت و گنجائش ہے ــ
محمود الفتاوی
- See more at: http://fatawasection.blogspot.in/2014/12/blog-post_16.html#sthash.el6tXN1T.dpuf
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
مستورات كى تبليغي جماعت
مستورات كى تبليغي جماعت
مستورات كى تبليغي جماعت



دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
Question: 38071
http://darulifta-deoband.org/showuserview.do?function=answerView&all=ur&id=38071&limit=4&idxpg=0&qry=%3Cc%3EFAB%3C%2Fc%3E%3Cs%3EIAP%3C%2Fs%3E%3Cl%3Eur%3C%2Fl%3E
مفتی صاحب مولانا رفعت صاحب کی کتاب مسائل سفر میں عورتوں کا تبلیغی جماعت میں جانا جائز کہا ہے اور اس میں حوالہ فتاویٰ محمودیہ کا دیا ہے اور آپ کی سائٹ میں اس کو ناجائز کہا ہے جب کہ مولانا رفعت صاحب کی کتاب میں آپ حضرات کی تائید بھی ہے۔ اب مسئلہ یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ ۱ جگہ تو آپ حضرات جائز کہہ رہے ہیں اور ۱ جگہ ناجائز کہہ رہے ہیں اب کون سا فتویٰ صحیح مانیں؟ معاف کیجئے گا۔ میں آپ حضرات پہ تنقید نہیں کر رہا ہوں بلکہ اپنی اور امّت کی صحیح رہبری کی لئے سوال کر رہا ہوں۔ سوال کا جواب ضرور دیجئے گا۔
فتوی: 702-111/B=5/1433

اجتہادی مسائل میں ہمیشہ سے علماء کے درمیان اختلاف چلا آرہا ہے، یہ کوئی نئی چیز نہیں، جس پر اعتراض کیا جائے، جن علماء کے پیش نظر عورتوں کی دینی تعلیم رہی انھوں نے جماعت میں نکلنے کو جائز فرمایا۔ جن علمائے کے پیش نظر عورتوں کی عفت وعصمت کی حفاظت رہی انھوں نے عورتوں کو نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ سیکڑوں مسائل میں اسی طرح کے اختلافات پائے جاتے ہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
مستورات میں کام کی شروعات

حضرت مولاناداود صاحب

بحوالہ مستورات میں تبلیغی کام کے اہم اصول صفحہ نمبر 13 تا 16
 شائع کردہ            ۔۔نور محل پبلیشنگ  ھاؤس   آر 2/138گلی نمبر 7نزد بڑی مسجد  رمیش پارک  لکچمی نگر دہلی 110092
<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<>>>>>>>
مولوی داود اٹاڑوی کا خط........رائیونڈ حاجی بشیر احمد صاحب کے نام
مکرم بندہ جناب بھائی الحاج محمد بشیر احمدصاحب   السلام علیکم و رحمة اﷲ وبرکاتہ امید ہی کہ مزاجِ گرامی بعافیت ہوں گے ۔ یہاں پر بھی خیریت ہی ہے ۔دو سال سے گھٹنوں میں ورم اور درد ہے۔اور اب دو ہفتے سے ناف کی نیچے رگ میں ایک گلٹی اٹھی ہے جس میں درد رہتا ہے ۔بولنے سی درد میں اضافہ ہوتا ہے۔دعاوں کی ضرورت ہی۔ اچھامستورات کی کام کی ابتداء۶۲،۸۲ءمیں بالکل نہیں ہوئی۔بندہ1940 ۰۴۹۱ءمیں مدرسے سے فارغ ہوا۔1941 ۱۴۹۱ءمیں غالباً میں نظام الدّینؒ میں حضرت مولانا شاہ محمد الیاسؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔بندہ مدرسہ سبحانیہ میں پڑھتا تھا۔حضرت مولانا عبد السبحان صاحبؒ اور آپ کی گھر والی‘ہم انھیں امّاں جی کہا کرتے تھے‘ بہت محبت کرتی تھیں۔امّاں جی دہلی میں مختلف جگہوں میں کتابیں سنایا کرتی تھیں۔بندہ ان کی کارگذاری حضرت مولانا شاہ محمد الیاس صاحبؒ کو سناتا تھا ‘ اور حضرت جیؒ کی ہدایات ان کو بتلایا کرتا تھا۔ایک دن امّاں جی نے کہا کہ حضرت جیؒ سے کہیوکہ حضرت مردوں کی جماعت بھیجتے ہیں تو عورتوں کی جماعت کیوں نہیں بھیجتے۔ میں نے حضرتؒ سے عرض کیا کہ امّاں جی یوں کہتی ہیں کہ حضرت عورتوں کی جماعت کیوں نہیںبھیجتے۔حضرتؒ یہ سُن کر بہت خوش ہوئے اور بے شمار دعائیں دیں پھر مجھ سے کہا کہ تم ان تینوں سے مشورہ لو کہ مستورات کی جماعت بھیجنا چاہتا ہوں‘آپ کی کیا را ئے ہے۔ بندہ حضرت مولانا انعام الحسن صاحب مدظلہ العالی کی پاس گیا کہ حضرت مستورات کی جماعت بھیجنا چاہتے ہیں‘آپ کی کیا رائے ہے۔حضرت جی مدظلہ العالی کی الفاظ تو مجھے یاد نہیں مطلب یہ تھا کہ ابھی تو مردوں کا نکلنا ہی علماءکی سمجھ میں نہیں آرہا ہے عورتوں کا نکلنا کیسے مان لیں گے اس لئے میری رائے نہیں ہے۔یہی قاری داود صاحب مرحوم نے فرمایا ۔پھر حضرت مولانا شاہ محمد یوسفؒ کی خدمت میں گیا ۔آپ مسجد کی برابر اوپر کی مکتب میں رہا کرتے تھے۔جہاں آج کل حافظہ کا مکتب ہے۔جب میں نے رائے لی تو یوں فرمایا کہ میری تو رائے نہیں ہے۔بس جیسی ان تینوں نے رائی دی تھی میں نے ویسی ہی حضرت جیؒ سے عرض کردیا کہ فلاں نے یوں فلاں نے یوں فرمایا۔حضرت شاہ محمد یوسف صاحبؒ کی بات سن کر غصّہ فرمایا اور مجھے فرمایا کہ جو عورتیں جماعت میں جانے کی لئے تیار ہیں تو ان کو دہلی میں جاکر ایک گھر میں جمع کرکے بات شروع کردے اورمیں دیکھتا ہوں ان مسلمانوں کو کہ ان کی رائے کیوں نہیں ہے۔پہاڑگنج ملتانی ڈھانڈا میں ایک گھر میں جمع کرکی بات شروع کردی۔ظہرکی نماز کی بعد حضرتؒ مولوی نور محمد باجھوٹ کو لے کر پہاڑگنج پہنچ گئے اور مولوی نور محمد مرحوم نے بیان شروع کیا ۔دورانِ بیان مولوی صاحب نے فرمایا کہ دین سیکھنی کے لئے عورتوں کا بھی نکلنا ضروری ہے مگر عورتیں بغیر محرم نہیں جاسکتیں۔ بیان کی ختم کے بعد حضرت جیؒ نے مولوی نور محمد صاحب کو ڈانٹا کہ تجھے مفتی کس نے بنایا تھاجو تم نے بغیر محرم نکلنے کو منع کر دیا ۔یعنی پہلی جماعت ہے ابھی سے مسائل پر زور مت دو۔خالی نکلنی کی ترغیب دو ۔یہاں تو یہ ہوا اور جب بڑی حضرت جیؒنی مجھے دہلی بھیج دیا تو لکڑی یعنی اپنی بینت لی کر حضرت مولانا یوسف صاحبؒ کے پاس گئے اور فرمایا کہ تو ہی مسلمان ہے میں مسلمان نہیں ہوں؟تو نے کیسے کہا کہ عورتوںکو تبلیغ میں نہیں جانا چاہئے۔یہ عورتیں کہاں نہیں جاتیں۔یہ شادیوں میں جاتی ہیں،دہلی کی عورتیں مہرولی جاتی ہیں،سیر کرنے کو اوکھلا جاتی ہیں،پھر تم نے کیسی کہا کہ میری رائے نہیں ہے ۔جب حضرت جیؒ محمدیوسفؒ سی خفا ہوکر آئے تو مولانا محمد یوسفؒ میرے اوپر خفا ہوئے کہ داود نے ابّا جی کو کیا کہہ دیا ۔مغرب کے بعد حضرت مولانا محمدیوسفؒ نے دو لڑکے حوض پر بٹھا دئے کہ جب داود دہلی سی آئے تو میرے پاس پکڑ کر لاو۔ہم دہلی سے عشاءپڑھ کر آئے۔گرمیوں کے دن تھے۔یہ لڑ کے مجھے حضرت مولانا محمد یوسف صاحبؒ کی پاس لے گئے۔حضرت نے فرمایا کہ ابّا جی میرے اوپر کبھی اتنا خفا نہیں ہوئے اور آج صرف اتنی کسر رہی کہ لکڑی سے مارا نہیں ورنہ زبان سی بہت کچھ کہا۔تو تقریباً آدھا اشکال تو مولانا یوسفؒ کا حضرت کی خفگی سی نکل گیا اور میوات کو بار بارجماعتیں جانی لگیں تو حضرت مفتی کفایت اﷲ صاحب مفتی اعظم ہند کو عورتوں کا نکلنا معلوم ہوا تو بہت خفا ہوئے کہ یہ مولانا محمد الیاس صاحب ؒنے کیا کِیا اور دوسرے حضرات کو جو خطرہ تھا وہ سامنے آگیا۔تو مفتی صاحب کے خفا ہونے کاکسی نے بڑے حضرتؒ کوآکر کہا تو بڑے حضرتؒ تانگہ لے کر مدرسہ امینیہ تشریف لے گئے اور حضرت مفتی اعظم کی سامنے عورتوں کے نکلنے کے فائدے بتلائے۔ساتھ ساتھ عورتوں کی نکلنے کا اہتمام پیش کیا کہ جب مستورات کی جماعت نکالی جاتی ہے تو ہر عورت کو محرم کی ساتھ نکالا جاتا ہے۔اوّل تو خاوند ہو یا بیٹا یا باپ ہو یا بھائی ہو‘اگر کوئی عورت بغیر محرم آگئی اور کہا کہ میرا محرم کل پرسوں آئے گا تو اس عورت کو واپس کر دیا جاتا ہے اورجہاں جماعت جارہی ہے ان کو پہلے مطلع کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ مکان طے کرکے خا لی کروالیں۔جس مکان میں عورتیں ٹھہرتی ہیں وہ اسی مکان میں رہتی ہیں۔گاوں والی جماعت کی پاس آتی ہیں۔گشت عورتوں کے محرم اور مقامی مرد مل کر کرتے ہیں۔یہ مرد،مردوں سی بات کرتے ہیں کہ اپنی مستورات کو فلاں صاحب کے گھر میں جماعت کی پاس بھیجو۔یہ جماعت کی عورتیں کہیں نہیں جاتیں۔پردے کا پورا اہتمام کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ توحضرت مفتی صاحب ؒ کو پورا اطمینان ہوگیاکہ اگر اتنااہتمام کرتے ہیں تو کوئی حرج نہیں۔پھر جو جماعت مستورات کی کام کرکے آتی تو حضرت مولانا یوسف صاحبؒ کو کارگذاری دیتی۔ان تمام باتوں سے حضرت مولانا یوسف صاحبؒ کا اشکال آہستہ آہستہ ختم ہو گیا ۔سب سی پہلی جماعت گھاسیڑہ اور نوح کی قریب آس پاس میں آٹھ یوم لگا کر آئی۔ بندہ جماعت کے ساتھ تھا۔جب جماعت آٹھ یوم میں واپس ہوئی تو بڑی حضرت خفا ہوئے کہ اتنی جلدی کیوں آگئے۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت عورتیں زیادہ کپڑے لی کر نہیں گئی تھیں تو فرمایا کہ تونوح سی نئے کپڑے بنوا کر دیتا پیسے مجھ سی آکر لے لیتا۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت مشورے والوں نے فرما یا تھاکہ یہ پہلی جماعت ہے ان کے جذبات کا خیال رکھنا اس لئے جلدی آگئے۔مشورہ کی بات سن کر حضرت بہت خوش ہوئے اور بہت دعائیں دیں۔جب یہ جماعت مشورہ سے گھاسیڑہ وغیرہ طے ہوئی تو حضرت نے چودھریوں کی نام خط لکھا کہ میں تمھارے یہاں دہلی کی پردہ نشین مستورات بھیج رہا ہوں تم ان کی خوب نصرت کرنا وغیرہ وغیرہ۔گھاسیڑہ والوں کو جماعت کا انتظار تھا ۔ سڑک پر استقبال کی لئے آگئے۔ جب جماعت پہنچی تو گاوں والوں نے استقبال میں بندوقیں چلائیں اور پرُ زور استقبال کیا کہ مستورات کی پہلی جماعت ہمارے گاوں میں آئی ہے اور ہر گاوں میں ایسا ہی استقبال ہوا۔پھر تھوڑے تھوڑے وقفے سے کئی جماعتیں نکلیں۔بعدہ میوات سے مستورات کی جماعت کے مطالبے آنے لگی۔مستورات کا کام غالباً 1942 ءمیں شروع ہوا ہے۔اس سے پہلے نہیں۔اس لئے کہ بندہ ء1941میں مرکز آیا تھا۔مرکز میں آنے کی بعد مستورات کا کام شروع ہوا ہے۔اگر حضرتؒ کے انتقال سے دس سال پہلے شروع ہوتا تو ہندوستان کے کئی شہروں میں مستورات کی بے شمار جماعتیں پہنچ جاتیں۔حضرتؒ کی حیات میں میوات کی علاوہ کہیں یہ جماعتیں نہیں گئیں۔      واﷲاعلم۔والسلام بندہ : مولوی داود ۰۱۔۳۔۳۱

مولانا طارق جمیل بیان تقریر تبلیغی جماعت کی تاریخ اور مشن


تبلیغی جماعت،  مدارس
 اوراہل تصوف
 مضبوط ربط ، احترام ورفاقت  اور آپسی تعاون کی ضرورت
انکے بیچ کوئی  غلط فہمی امت مسلمہ کا بڑا نقصان ہے
https://archive.org/details/MadarisTablighKhanqahtaawunZaruratMukhalfat
ڈونلوڈ کے لئےاردو کتاب 

https://archive.org/details/MadarisTablighKhanqahtaawunZaruratMukhalfat
ڈونلوڈ کے لئےا
ایک گزارش اور درد مند اپیل
آجکل انٹرنیٹ پر کچھ حلقوں کی طرف سے یہ پھیلایا جا رہا ہے کی تبلیغی جماعت کے افراد مدارس کے خلاف ہیں ۔یا علما اور اہل علم و ذکر کی بے اکرامی کررہے ہیں۔راقم لگ بھگ 20 سال سے دعوت و تبلیغ کے کام سے جڑا ہے۔اور پورےہندوستان میں جاتا رہا ہے۔اور خوانہ بدوش (کم پڑھے لکھے ) سے لیکر بڑے بڑے  تعلیم یافتہ جماعت کے ساتھیوں کے ساتھ چلا ہوں ۔مجھے تو ایسے لوگ نہیں ملے۔اسکے بعد بھی میں انکار نہیں کر رہا ہوں کے ایسے لوگ بالکل نہیں ہیں۔ لیکن ایک بات صا ف ہے کی تبلیغی جماعت کا سواد اعظم ایسا نہیں ہے۔
اسلئے جو لوگ اپنے ذاتی تجربہ کے بنیاد پر یہ بات پھیلا رہے ہیں کہ تبلیغی جماعت کے افراد مدارس کے خلاف ہیں ۔یا علما اور اہل علم و ذکر کی بے اکرامی کررہے ہیں ان سے درخواست ہے کے وہ اس کی وضاحت کر دیں کہ تبلیغ کی اکثریت ایسی نہیں ہے۔اور یہ تبلیغی جماعت کے بالکل بنیاد کے خلاف ہے۔اور انہیں  چاہیئے کہ وہ اپنی شکایت نظام الدین مرکز یا رایونڈ  مرکز لکھ دے ۔یہ دین کی بڑی خدمت  ہوگی ۔اور اگر کوئی  کسی اور وجہ  سے یا کسی فرد سے ذاتی  رنجش کی وجہ سے تبلیغی جماعت  کے کام کو بدنام کرے گا تو یہ آخرت کے اعتبار سے بڑا خطرہ ہے۔
نقصان اسلام  مسلمانوں اور انسانیت  کا
 تبلیغی جماعت  عوام کی سطح پر مسلمانوں کو دین  سے جوڑنے کی محنت ہے۔جو سارے عالم میں  علماء کرام کی سر پرستی میں چل رہی ہے۔اور اللہ ہی اتنے بڑے نظام کو چلا سکتا ہے ۔ورنہ اس مادیت کے دور جب ہر کوئی اپنی دنیا بڑھانے کی فکر میں ہے۔لاکھوں لوگ بغیر کسی پیسہ اور مال کی لالچ میں اپنا  پیسہ   اور وقت خرچ کر کے ،تکلیف برداشت کرکے انسانیت کو اللہ کے دین سے جوڑنے کی فکر میں لوگوں کے دروازہ پر جا رہے ہیں۔ کم علمی نادانی  یا تعصب کی وجہ سے کچھ نادان مسلمان تبلیغی جماعت کے خلاف عام مسلمانوں کو بہکاتے اور وسوسہ ڈالتے ہیں ۔تبلیغی  جماعت میں نہ کوئی  پوسٹ نہ پیسہ ممبرشپ  اور فنڈ نہیں ہے اسلئے اسکے نقصان اور فائدہ کا سوال ہی نہیں ۔ تبلیغی جماعت کی مخالفت   دراصل اسلام ، مسلمانوں اور انسانیت  کا نقصان ہے۔
تبلیغی جماعت غلطیوں  سے مبرہ  نہیں  ہے ۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ تبلیغی جماعت غلطیوں سے مبرہ ہے  ۔اسکے افراد میں اور اسکے اصولوں میں دونوں میں غلطی کا امکان ہے اور اصلاح کی گنجائش ہے ۔اور علماء حق کی ذمہ داری اور وقت کی ضرورت ہے  کہ اصلاح کی باتوں پر ضرور گرفت کی جائے  ۔ اور اس سلسلے میں تبلیغ  سے جڑے عوام سے لیکر علماء اکابر اور مرکز نظام  الدین کے ذمہ دار کوئی مستثنیٰ  نہیں  ۔
تبلیغی جماعت  کی  ممکنہ غلطیوں کے اصلاح کا طریقہ
اس کا طریقہ یہ ہے کہ افراد سے اگر کوئی غلطی ہو رہی ہے تو یہ واضح کر دیا  جائے کہ یہ اس فرد کی غلطی ہےتبلیغی جماعت کی نہیں اور اصول اور طریقہ کار میں کوئی اصلاح یا گرفت کی بات ہو تو    مرکز نظام الدین یا مرکز رائونڈ سے براہ راست رابطہ کیا جائے  ۔ اس سلسلے میں اگر سفر کرنے کی بھی ضرورت  پیش آئے تو یہ دین کی بڑی خدمت ہوگی  ۔ کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں لوگ اس کام سے جڑے ہیں  ۔  اور آپ کو ان سب کی اصلاح اور آگے جڑنے والوں کی اصلاح  کا ثواب ملے گا ۔
تبلیغ سے جڑے لوگوں سے خاص  درخواست
اسی کے ساتھ تمام تبلیغ سے جڑے لوگوں سے درخواست ہے کہ اگر کسی سے یہ غلطی ہوئی ہے تو اللہ سے اور اس بندہ سے معافی مانگے۔اور اگر آپ کوئی تحریر ایسی  دیکھں تو  اسکی طح میں جائیں ۔اور اگر بات صحیح ہے تو اپنے ساتھی کی اصلاح کریں ۔اور فرد کی مراتب کے اعتبار سے اپنے بڑوں تک پہنچائیں۔تاکہ سب کی اصلاح ہو جائے۔
اور اگر غلط ہو تو یہ بات الزام لگانے والے پر پہچائیں  کہ یہ بات غلط تھی ،اور صبر کریں۔میں نے اس طرح کی ایک واقعہ کی  تحقیق کی تو معلوم ہوا کی  دوشخص کی  آپسی رنجش اصل وجہ تھی۔اور وہ ساتھی کسی ترتیب سے نہیں جڑا تھا اور جماعت میں  یا مقامی کام میں کوئی پابند نہیں تھا۔بہر حال   اگر کسی سے یہ غلطی ہوئی ہے تو اللہ سے اور اس بندہ سے معافی مانگے ۔

رح یہ مضمون اس طرح کی بات اور تبلیغ اور مدارس سے جڑے تمام پہلوئوں پر ہمارے مضامین کا حصہ ہے۔اس سلسلے کا کوئی مضمون بھی بھیج سکتے ہیں۔ دعا کی خصوصی درخواست ہے۔
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
مسلمان نبی پاک کے بتائے دعوت و تبلیغ کے طریقے پر عمل کئے بغیر ذلیل و رسوا ہوتے رہیں گے':     مولانا  طارق جمیل
 رائے ونڈ :رائیونڈ میں منعقدہ سالانہ تبلیغی اجتماع کے دوسرے مرحلے میںپہلے روز نماز جمعہ سے قبل امیر جماعت رائے ونڈ حاجی عبدالوہاب نے ہدایات پر مبنی بیان کیا ،نماز جمعہ مولا نا محمد ابراہیم نے پڑھائی جس کے بعد 
 ممتاز عالم دین مولانا طارق جمیل نے تبلیغی جماعت کی تاریخ اور مشن کے بارے تفصیلی خطاب کیا ،
انہوں نے کہا کہ جب تک مسلمان عالم اسلام دعوت و تبلیغ کے کام کو اسی طریقے سے شروع نہیں کریں گے جو حضور اکرم نے بتایا ہے وہ اسی طرح ذلیل و رسوا ہوتے رہیں گے ،کفار ان پر غالب آجائیں گے ،دین سے دور ہونے والے مسلمانوں کے ضمیر کی آواز انہیں سنائی نہیں دے گی ،بزدلی چھا جائے گی ہر غیر سے ڈریں گے اور انہیں ہی سب کچھ مانیں گے ،مسلمانوں کی حالت بداعمالیوں کا نتیجہ ہے ،بم دھماکے اور خود کش حملے کرنے والے اسلام کے خیر خواہ نہیں،یہ کفر کا ہتھیار بننے والے نامکمل مسلمان ہیں جن کی برین واشنگ کی گئی ہے ،لیکن ان پر غلبہ پانے کیلئے صحیح مسلمان بننا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ غیر مسلموں کو مسلمان بنانے سے زیادہ اہم کام مسلمانوں کو مسلمان بنانا ، نام کے مسلمانوں کو کام کے مسلمان، اور قومی مسلمانوں کو دینی مسلمان بنانا ہے۔ حق ہے کہ آج مسلمانوں کو حالت دیکھ کر قرآن پاک کی یہ ندا(اے مسلمانوں ! مسلمان بنو!!) کو پورے زورو شور سے بلند کیا جائے۔ اللہ رب العزت نے انسانوں کی ہدایت کا انتظام ہر زمانے میں جاری رکھا ہے اور اپنی حکمت اور اپنے علم کے ما تحت کبھی قوم در قوم کبھی قبیلہ در قبیلہ اس کا سلسلہ جاری رکھا۔ ہدایت کی محنت کرنے والوں کو انبیا اور رُسل کے نام سے موسوم فرمایا۔ اور جس قوم کیلئے جن اصولوں کو اللہ تعالیٰ نے مناسب سمجھا وہی اصول محنت کرنے والوں کو بذریعہ وحی یا الہام عطا فرماتے رہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح حضور اکرم ا تک جاری رہا۔ اور آپ کی بعثت پر سابقہ ترتیب کو ختم فرما کر پورے انسانوں اور قیامت تک کیلئے آقائے نامدار سرور کائنات حضرت محمدصلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت کا ہادی اور امام قرار دے دیا گیا۔ اس رہبر کامل کوحق تعالیٰ شانہ کی جانب سے کارِ نبوت کے تین فرائض عطا کئے گئے۔ اوّل تلاوت احکام، دوم تعلیم کتاب و حکمت ، سوم تزکیہ، رسول اکرم لوگوں کو پیغام الٰہی پڑھ کر سناتے، حکمت الٰہی کی باتیں سکھاتے، پھر اپنی صحبت فیض اثر سے پاک صاف کرتے، نفوس کا تزکیہ فرماتے، قلوب کے امراض کا علاج کرتے، برائیوں کا زنگ اور میل دور کر کے اعلیٰ اخلاق انسانی کو سنوارتے۔ آپ دوران تبلیغ تالیفِ قلب کا بڑا خیال رکھتے۔ لطف و محبت ، عفوودرگزر اور ہمدردی سے آپ انے بہت سے لوگوں کو حلقہ بگوش اسلام بنایا۔ حضور اکے طریقہ تبلیغ میں صبرواستقامت کا عنصر بڑا نمایاں تھا۔ دائمی حق و صداقت کی مخالفت اور سختی جس قدر بڑھتی اسی قدر تبلیغ کی شدت زیادہ ہو جاتی۔ باطل کی قوتیں حق کو دبانے کیلئے چاروں طرف سے پورش کر کے آجاتیں تو دائمی انقلاب ایک مضبو چٹان کی طرح جم کر کھڑے ہو جاتے اس ہادی برحق نے خفیہ طور پر بھی پیغام حق دوسروں تک پہنچایا اور پھر اعلانیہ تبلیغ کے مراحل بھی طے کئے غیر ممالک میں تبلیغ کا فریضہ خطوط لکھوا کر پورا کیا غرضیکہ ظاہرو باطنی فرائض یکساں اہمیت سے ادا ہوتے رہے۔ چنانچہ صحابہ اکرام ؓ اور ان کے تابعین اور اولیاءاکرام تک یہ فرائض اسی طرح انجام پاتے رہے۔ اور پھر وہ دور شروع ہوا جس مین مسندِ ظاہر کے درس گو باطن کے کورے اور باطن کے روشن دل ظاہر سے عاری ہونے لگے۔ اور عہد بہ عہد ظاہرو باطن کی خلیج بڑھتی ہی چلی گئی۔ علوم ظاہرہ کیلئے مدارس کی چاردیواری اور تعلیم و تزکیہ باطن کیلئے خانقاہوں اور رباطوں کی تعمیر عمل میں آئی اور وہ مسجد نبوی جس مین یہ دونوں جلوے یکجا تھے اس کی تجلیات ، مدرسوں اور خانقاہوں کے دو حصوں میں تقسیم ہو گئیں۔ جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ مدارس سے علماءدین کی بجائے علمائے دنیا برآمد ہونے لگے اور باطن کے مدعی علم شریعت کے اسرار و کمالات سے غافل ہو کر رہ گئے۔ اس دور زبوں میں بھی عالم اسلام میں ایسی ہستیاں پیدا ہوتی رہیں جو آرائش ظاہر اور جمالِ باطن سے آراستہ و پیراستہ تھیں ان برگزیدہ ہستیوں میں حضرت امام غزالی ؒ، شیخ عبد القادر جیلانی ؒ، حضرت امام بخاری ؒ ، اور حضرت سفیان ثوری نمایاں ہیں۔ تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس ؒ بھی اسی سلسلہ ولی الٰہی کی ایک کڑی ہیں جس مبارک دینی ماحول میں مولانا محمد الیاس ؒ کی عمر کا ابتدائی حصہ گزرا تھا اس کی مخصوص دینی و روحانی فضا کی وجہ سے بمشکل اس بات کا احساس ہو سکتا تھا کہ مسلمانوں میں سے ایمان و یقین کی دولت سرعت کے ساتھ نکلتی جارہی ہے۔ دین کی طلب اور قدر سے دل تیزی کے ساتھ خالی ہوتے جارہے ہیں۔ اس ماحول میں چونکہ صرف خواص اہل دین اور اہل طلب سے واسطہ پڑتا تھا اور احساس نہ ہونابے موقع نہ تھا۔ وہاں رہ کر ہی تصور کیا جاسکتا تھا کہ مسلمانوں کی زندگی دعوت و تبلیغ اور دین کی ابتدائی جدوجہد کی منزل سے آگے بڑھ چکی ہے اور اب صرف مدنی زندگی کے تکمیلی مشاغل کی ضرورت ہے۔ اس لئے وہاں رہ کر مدارس دینیہ کے قیام و اہتمام ، کتاب و سنت کی اشاعت ، درس حدیث، دینی تصانیف و تالیف، قضا افتائ، ردِّ بدعات، اہل باطل سے مناظرہ واحقاقِ حق اور سلوک و تربیت باطنی کے علاوہ کسی اور طرف ذہن کا منتقل ہونا بہت مشکل تھا وہاں کام کی نوعیت یہ تھی گویا زمین ہموار دیتا رہے صرف اس پر پودے اور درخت بٹھانا باقی ہے۔ اس ماحول کا طبعی تقاضا تو یہ تھا کہ آپ بھی انہیں میں سے کسی شعبے کی طرف متوجہ ہوتے اور اپنی خداد استعداد صلاحیت سے اس میں کمال پیدا کرتے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں آپ کی خاص رہنمائی فرمائی اور آپ کی بصیرت پر یہ حقیقت منکشف کر دی کہ جس سرمایا کے اعتماد پر یہ سارا جمع خرچ ہے وہ سرمایا ہی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکلا جارہا ہے جس زمین پر دین کے یہ درخت نصب کرنا ہیں وہ زمین ریت کی طرح پاں کے نیچے سے کھسکتی جارہی ہے۔ امّہات عقائد میں ضعف پیدا ہو گیا ہے اور بڑھتا جارہا ہے خدا کی خدائی اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کا یقین کمزور ہوتا جارہا ہے اور اجر و ثواب کا شوق (ایمان و احتساب) دل سے اٹھتا جارہا ہے۔ یہ انکشاف اس وضاحت اور قوت کے ساتھ ہو اکہ اس سے مولانا کی زندگی کا رخ بالکل ہی تبدیل ہو گیا۔ طبائع رحجانات کے سیلاب کے رخ کو خداد بصیرت و فراست سے پہچان کر آپ نے اچھی طرح محسوس کر لیا کہ نئے دینی اداروں کا قیام تو الگ رہا پرانے اداروں اور دینی مرکزوں کی حالت بھی خطرے سے باہر نہیں۔ اس لئے کہ وہ رگیں اور شریانیں جس سے ان میں خون زندگی آتا تھا مسلمانوں کے جسم میں برابر خشک ہوتی جارہی ہیں ان کی طلب اور ضرورت کا احساس ہوا کہ اس وقت کا احساس ، ان کی قدر کم ہو رہی ہے مولانا کو اس بات کا پوری شدت سے احساس ہوا کہ ا س وقت سب سے مقدم اور ضروری کام قلب کی تبلیغ اور مسلمانوں میں اپنے مسلمان ہونے کااحساس پیدا کرنا ہے اور یہ کہ دین سیکھے بغیر نہیں آتا اور دنیاوی ہنروں کے بجائے اسے سیکھنے کی ضرورت زیادہ ہے یہ احساس اور طلب پیدا ہو گئی تو باقی مراحل خود طے ہو جائیں گے۔ اس وقت مسلمانوں کا عمومی مرض بے حسی اور بے طلبی ہے لوگوں نے غلط فہمی سے سمجھ لیا ہے کہ ایمان تو موجود ہی ہے اس لئے ایمان کے بعد جن چیزوں کا درجہ ہے ان میں مشغول ہو گئے۔ حالانکہ سرے سے ہی ایمان پیدا کرنے کی ضرورت باقی ہے اس احساس و طلب اور اسلام کے اصول اپنانے کی تلقین کے طریقہ کار کے متعلق مولانا کا نظریہ یہ تھا کہ اسلام کا کلمہ طیبہ ہی اللہ کی رسی کا وہ سرا ہے جوہر مسلمان کے ہاتھ میں ہے۔ اسی سرے کو پکڑ کو آپ پورے دین کی طرف کھینچ سکتے ہیں۔ اس لئے مسلمان جب تک کلمہ کا اقرار کرتا ہے اسے دین کی طرف لے آنے کا موقع باقی ہے اس موقع کے ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے اس کا فائدہ اٹھا لینا چاہیے۔ اس لئے کلمہ کے ذریعے ہی ان میں تقریب پیدا کی جائے کلمہ یاد نہ ہو تو یاد کرایا جائے غلط ہوتو اس کی تصحیح کی جائے کلمہ کے معنی و مفہوم بتائے جائیں اور سمجھایا جائے کہ خدا کی بندگی اور غلامی اور رسول کی تابعداری کا اقرار ان سے کیا مطالبہ کرتا ہے۔ اسی طرح ان کو اللہ اور رسول کے احکامات کی پابندی پر لایا جائے۔ نیز یہ بات ذہن نشین کرائی جائے کہ مسلمانوں کی طرح زندگی گزارنے کیلئے اللہ کی مرضی و منشاءاوراس کے احکام و فرائض معلوم ہونے کی ضرورت ہے دنیا کا کوئی ہنر سیکھے اور کچھ وقت ضائع کئے بغیر نہیں آتا۔ دین بھی بے طلب نہیں آتا اس کے لئے اپنے مشاغل سے وقت نکالنا ضروری ہے۔ ان نظریات کو مد نظر رکھتے ہوئے مولانا الیاس ؒ نے بستی نظام الدین سے تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا اس زمانے میں یہ بستی غیر آباد تھی۔ ایک چھوٹی سے کچی مسجد اور حجرے کے سوا یہاں کچھ نہ تھا۔ درگاہ حضرت نظام الدین کے جنوب میں مختصر سی آبادی تھی۔ مسجد میں چند میواتی غریب طالبعلم ہر وقت موجود رہتے تھے یہ زمانہ نہایت تنگدستی اور فقروفاقہ کا تھا۔ عرصہ تک یہ مجاہدہ جفاکشی اور ریاضیت جاری رہی۔ وہ مروجہ تمام ذرائع ابلاغ کو جائز تو سمجھتے تھے مگر انبیاءوالے کام کیلئے اسی سادہ فہم سینہ بہ سینہ، انسان بہ انسان ، زندگی بہ زندگی والے طریق دعوت کو اصل اور افضل سمجھتے تھے۔ لہٰذا مسلمانوں کو اطاعت حق ، حفاظت حق اور اشاعت حق کو ہی اپنا مقصد حیات بنانا چاہیے اور اپنی جان اپنا مال اپنا وقت اور اپنا خون پسینہ اور آنسو بہا کر گمراہ لوگوں کیلئے نفرت اور دشمنی کی بجائے خیر خواہی اور دل سوزی کے ساتھ یہ فریضہ انجام دینا چاہیے تاکہ دین کی قدر و قیمت دل میں آ جائے کیونکہ جو چیز مقصد حیات بن جائے اس پر سب کچھ قربان ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کو کسی پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔

 Taken with Jazakallah https://groups.google.com/forum/#!topic/dineislam/0IsfPsaxwOY

تبلیغی جماعت کی حقیقت محنت اور خاموش انقلاب




















تبلیغی جماعت کا خاموش انقلاب
(مولانا محمد الیاس گھمن , سرگودھا)
مولانا محمد الیاس گھمن
مرکزی ناظم اعلیٰ: اتحاد اہل السنت والجماعت
ہر مسلمان کی ایک فکر ہونی چاہیے کہ لوگ جہنم کے عذاب سے بچ کر جنت میں جانے والے بن جائیں اس کےلیے ایک ہی راستہ ہے جسے ”سنت “ کہتے ہیں۔ محبت واطاعت رسول کی بدولت توحید ملتی بھی ہے ، قائم بھی رہتی ہے اور کار آمد توحید بھی صرف یہی کہلاتی ہے ۔

اسلام کے ابدی قوانین کے نزول کے بعد اس کو تاقیامت باقی رکھنے کےلیے ”شعبہ تبلیغ“ کو وجود عمل میں لایا گیا ۔ادوار کے گزرنے کے ساتھ ساتھ متقضائے احوال کے مطابق کے اس کی مختلف صورتیں سامنے آتی رہیں۔ تذکیر وموعظت پندو نصائح، درس وتدریس، تعلیم وتعلم………… درسگاہ ، خانقاہ، مدارس ومساجد وغیرہ میں یہ عمل تسلسل سے چلتا رہا ہے۔

خیرالقرون گزرا ، صحابہ و تابعین جیسی شخصیات دنیا سے روپوش ہوتی چلی گئیں، فقہاء،علماء،محدثین،مفسرین،اولیاءاورنیک لوگ بھی دھیرے دھیرے جانے لگے ۔ اہل اسلام پر جان لیوا مصائب، آزمائش اور امتحانات شکلیں بدل بدل کر آنے لگے ۔ تاریخ کےورق گردانی کرنے سے حاصل مطالعہ یہ ملتا ہے کہ غیر مسلم اقوام پہلےخونِ مسلم کی پیاسی تھی،اہل ایمان کو تہہ تیغ کر کے اپنی ”فتح“ کے جھنڈے گاڑ دیتی تھی۔ لیکن پھر پانسا پلٹا …………خونِ مسلم کے ساتھ ساتھ ان کے ایمان واسلام کو بھی ختم کرنے کے درپے ہوگئیں۔ سب سے زیادہ عیسائیت نے اہل اسلام کو اپنے دین سے برگشتہ خاطر کرنے کےلیے حربے استعمال کیے،اپنے نظریات اور مذہب کوعام کرنےکی خاطر زر، زن اور زمین کے دلربا جھانسوں کے ساتھ ساتھ اپنے افکار کی اشاعت میں سرگرم عمل نظر آئے۔ ان کی طویل محنت کے نتیجے میں اہل اسلام کے قلوب سے محبت رسول کا نبیادی نقطہ مٹ کر کفر کا دھبہ لگنا شروع ہو گیا ، دنیا کی محبت اور لالچ نے اہل اسلام کو نام نہاد مسلمان بنا دیا تھا۔

یہ درست ہے کہ ابھی تک در سگاہ میں دینی احکامات کے سبق پڑھائے جا رہے تھے ۔ خانقاہ میں تزکیہ نفوس کی محنت ماند نہیں پڑی تھی لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں ان کی جمعیت میں کمی نظر آرہی تھی۔
اس وقت اہل اللہ کی نظرفراست اور بصیرت قلبی اس خدشے کو محسوس کر رہی تھی کہ اگر معاملہ یونہی رہا تو مذہب اسلام چند دنوں کا مہمان بن جائے گا۔ انفرادی طور پر اس بارے میں پُرخلوص محنتیں بھی کی گئیں لیکن جو فوائداجتماعیت سے حاصل ہوتے ، ظاہر ہے وہ نہیں مل سکتے تھے۔ انفرادی کوشش کا جذبہ اٹھتا پھر حالات کے ستم اسے ٹھنڈا کر دیتے ۔
کہتے ہیں بعض ا نسانوں سے اللہ تاریخی اور عالمی کام لیتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تکمیلِ دین کا، صحابہ و اہل بیت سے تنفیذِ دین کا ، فقہاء  سے تدوینِ دین اور اس پچھلی صدی میں اللہ کریم نے علماء دیوبند سے تطہیرِ دین کا خوب خوب کام لیا ۔
انہی میں سے ایک شخص جس کی زبان میں فصاحت و بلاغت کی قوت بھی نہ تھی ، جس کی گفتگو میں الفاظ سحر انگیزی، جوشِ خطابت بھی نہ تھا ، معقولی اور فلسفیانہ ذہن بھی نہ رکھتا تھا،حالات کے مارےلوگوں کو لڑنے مارنے کے گُر بھی نہیں سکھلا سکتاتھا لیکن اس کے سینے میں ایسا دل تھا جو ان باتوں پرکڑھتا تھا، وہ لوگوں کی بے راہ روی پر خون کے آنسو روتا تھا ۔ اس کےاسی قلبی اضطراب میں رحمتِ حق جلوہ گر ہوئی، اس کے دل پر القاء ہو ا، امت مرحومہ کے ایمان وعمل کو بچانے کےلیے ایک اس طرز کی جماعت تشکیل دو جن کی نیتیں حبِ جاہ اور خواہشات نفسانی سے پاک ہوں گویا خانقاہی ماحول کا لب لباب ان میں ہو۔ دین کو اپنی اور سارے عالم کی ضرورت سمجھ کر سیکھیں اورسکھائیں گویا درسگاہ کا ماحول بھی ان کو میسر ہو ۔ ایک دوسرے کے ایمان وعمل کی تجدید کرتے رہیں ۔

جو خدا ” کو“ نہیں مانتا اس تک ربِ واحد کی واحدانیت پہنچائیں،جو خدا” کی“ نہیں مانتا اس بھولے ہوئےشخص کو عہد الست یاد کرائیں ۔ جو رسول اللہ ” کو“ نہیں مانتا اس کو ختم نبوت ورسالت کا عقیدہ دیں اور جو رسول اللہ” کی“ نہیں مانتا اسے ”طرزِ زندگی محمد رسول اللہ “ سے روشناس کرائیں۔
گلی گلی ، بام بام ؛ دین کو عام کریں، عبادات،معاملات،معاشرت، رہن سہن، اخلاقیات یوں کہیے کہ کامیاب زندگی گزارنے کا لائحہ عمل پوری انسانیت تک پہنچائیں پھراس راستے میں آزمائش ، تکالیف، مصائب وآلام، منفی پروپیگنڈے ، دل برداشتہ رویّے آئیں تو ان پر جذباتی پن کا مظاہرہ کرنے کی بجائے”توا صوا بالصبر“ کی عملی تصویر بن جائیں۔

الحمد للہ! وہی کچھ ہوا جو خدا کے اس ولی کے دل پر القاء ہوا تھا ۔ شروع میں چند غریب، آزاد منش، مسکین طبعیت لوگ اٹھے ان کے اخلاص کی برکت سے اللہ نے سارے عالم کو اسلام کے وجود سے روشناس کرایا۔ لوگ کفر، ارتداد کو چھوڑ کر اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہوئے ۔ الحاد ،زندقہ بدعات ورسومات کو چھوڑ کر ”سنت رسول“سے اپنی کامیابیاں حاصل کرنے لگے۔ گویا اس جماعت کا یہ خاموش انقلاب تھا کہ انسانیت کفر سے پلٹ کراسلام لے آئی، اہل اسلام نے نام نہاد مسلمان سے سچے اور سُچے مسلمان کاروپ دھار لیا ۔

اس محنت کے ثمرات جب ظاہر ہونا شروع ہوئے تو بعض اہل اللہ کی زبان پر کلمہ تشکر کے ساتھ بے ساختہ یہ بھی نکلا :”الیاس نے یاس کو آس سے بدل دیا ۔“ یہ وہی مولانا محمد الیاس دہلوی رحمہ اللہ ہیں جن کے قلب اطہر پر اس کام کا القاء ہوا تھا۔

بنیادی بات یہ ہوتی ہے کہ لوگ کسی چیز کو اپنی ضرورت سمجھیں ۔ پھر اس کے بعد اس کے حصول کا طریقہ سمجھیں اور جب خود سمجھیں تو اب دوسروں کو بھی سکھلائیں ۔ تبلیغی جماعت کی پہلی کوشش دین کی محبت پیدا کرنا ہے اس کے بعد ان کو اس پر چلنے کا طریقہ بتانا ہے اور پھر لوگوں کو اس پر چلنے کی فکر بھی دینی ہے ۔

31 اکتوبر 2013ء کورائے ونڈ،پاکستان میں اسی عزم کی تجدید کی جارہی ہے لاکھوں مسلمان آسائشوں کو خیر باد کہہ کر ایک فکر ، ایک درد……امت مسلمہ کا درد …… لینے کے لیےبیٹھے ہیں ۔ اے اللہ! ان کی فکر ، ہمدردی، اخلاص اور محنت کو دیکھ کر ساری دنیا کے انسانوں کے ہدایت کے فیصلے فرما دے ۔ایں دعا از من وجملہ جہاں آمین باد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورا مضمون نیچے لنک پر ہے۔مضمون نگار اور ویب سائٹ کو اللہ بہترین بدلہ دے۔

دینی مدارس کی ا ہمیت ضرورت وافادیت اس کا تعاوں اور مسلمانوں کی بقا و سلامتی






































 دینی مدارس کی ا ہمیت وافادیت
مفتی محمدجمال الدین قاسمی  * 
مدارسِ اسلامیہ جو ہندوستان کے چپے چپے پر نظر آتے ہیں اور جن کا قیام وبقاء ملتِ اسلامیہ کے وجود وتشخص سے وابستہ ہے، جن کے دامنِ تربیت سے فیضیاب ہونے والے معاشرہ کی اصلاح اور اسے دینی رُخ پر ڈالنے کے لیے خاموش خدمات انجام دیتے ہیں اورجن کی رہنمائی سے فائدہ اُٹھا کر انسان دُنیا وآخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے، اس کا سلسلہ درحقیقت آقائے نامدار تاجدارِ مدینہ احمد مجتبیٰﷺ کے صفہ سے جاملتا ہے، آپﷺ نے صحابہ کرامؓ کی تعلیم وتربیت کے واسطے صفہ کی سنگِ بنیاد رکھی اور صحابہ کی ایسی تعلیم وتربیت فرمائی، جو ایک طرف راتوں کو اللہ کے سامنے رونے اور گڑ گڑانے والے تھے، تو دوسری طرف دن کے اُجالوں میں دین کی نشرواشاعت اور اس کی سربلندی کے واسطے اپنی جانوں کی بازی لگانے والے تھے، اسی کی تقلید صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین نے اپنے اپنے زمانوں میں کی، پھر یہی مزاج علمائِ کرام، بزرگانِ دین اور اولیائِ عظام کی جلو میں قاہرہ، دمشق اور بغداد سے ہوتے ہوئے حضرت نظام الدین اولیائؒ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمہما اللہ کی سرپرستی میں ہندوستان پہونچا اور عصرِ حاضر میں حضرت مولانا محمدقاسم نانوتویؒ کی قیادت میں مدارسِ اسلامیہ کی شکل میں نمودار ہوا۔

یہ وہ وقت تھا؛ جب کہ سلطنتِ مغلیہ کا زوال ہو رہا تھا اور علماء ومشائخ نے اپنی بصیرت سے یہ سمجھ لیا تھا کہ اب مسلمانوں کے اقتدار کا سورج غروب ہو رہا ہے، تو انھوں نے اس عزم کے ساتھ اس تحریک کی بنیاد رکھی کہ اس دیار میں اسلام کی حفاظت کا جو فریضہ سلاطین کیا کرتے تھے، اب اسے ہم بوریہ نشیں درویش انجام دیں گے، ہمارے پاس نہ تاج وتخت کی دولت وثروت ہوگی، نہ لوگوں کو خیرہ کرنے والے مادّی وسائل ہوں گے؛ لیکن ہمارا سینہ بہر حال ایمان ویقین کی دولت بے کراں سے معمور ہوگا اور دلِ درد مند اور فکرِ ارجمند کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوگا، مادّی وسائل کے بجائے خدا کے خزانہ پر نظر رکھیں گے، جو خدا کی محبت اور خدا کے دین کے لیے سب کچھ قربان کردینے کا جذبہ، حکومت کی طرف سے آنے والی آزمائشوں اور فقروافلاس کی تلخیوں میں ثابت قدم رکھے گا، نہ لوہے کی زنجیر خوف زدہ کرے گی اور نہ سونے کی زنجیر ان کو خرید سکے گی، تحریکِ مدارس کے بانیوں اور مؤسسوں نے اوّل روز سے اس کے لیے یہی ہدف مقرر 
۔کیا تھا، جس کی برکت سے ان مدارس کے فضلاء نے دین وملت کے واسطے نمایاں کارنامے انجام 

دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا میں جتنی تحریکات چل رہی ہیں، ان کو مدارس سے ہی غذا ملتی ہے، تبلیغی جماعت جو آج پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے، اس کی بنیاد کس نے رکھی؟ اور اس کی قیادت کن ہاتھوں میں رہی؟ علماء ہی کے ہاتھوں میں رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اِسی طرح علامہ اقبالؒ کو اِن مدارسِ دینیہ کی افادیت اور ان کے ساتھ ملک وملت کے مفادات کی وابستگی کا کس شدت کے ساتھ احساس تھا، اِس کا اندازہ اُس خط سے ہوتا ہے، جو اُنھوں نے اپنے ایک نیاز مند حکیم احمد شجاع کو لکھا تھا، اس کا ایک حصہ یہ ہے:
’’ان مکتبوں اور مدرسوں کو اِسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو انہی مدارس میں پڑھنے دو، اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہوگا، میں اُنھیں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں، اگر ہندوستانی مسلمان ان مدارس کے اثر سے محروم ہوگئے تو بالکل اُسی طرح ہوگا، جس طرح اُندلس میں مسلمانوں کی آٹھ سو برس کی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء اور باب الاخوتین کے نشانات کے سواء اسلام کے پیروؤں اور اِسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا، ہندوستان میں بھی آگرہ کے تاج محل اور دلی کے لال قلعہ کے سواء مسلمانوں کی آٹھ سو برس حکومت اور ان کی تہذیب کا کوئی نشان نہیں ملے گا‘‘۔
اور علامہ سید سلیمان ندوی صاحب ’’سیرۃ النبیﷺ‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے جدید وقدیم دونوں حلقوں میں یکساں مقبولیت عطا کی تھی، ان کا کہنا تھا:
’’ہم کو یہ صاف کہنا ہے کہ عربی مدرسوں کی جتنی ضرورت آج ہے، کل جب ہندوستان کی دوسری شکل ہوگی اس سے بڑھ کر ہوگی، وہ ہندوستان میں اسلام کی بنیاد اور مرکز ہوں گے، لوگ آج کی طرح کل بھی ہوشیار ہوں گے؛ اس لیے یہ مدرسے جہاں بھی ہوں، جیسے بھی ہوں، ان کو سنبھالنا اور چلانا مسلمانوں کا سب سے بڑا فرض ہے، ان عربی مدرسوں کا اگر کوئی دوسرا فائدہ نہیں تو یہی کیا کم ہے کہ یہ غریب طبقوں میں مفت تعلیم کا ذریعہ ہیں اور ان سے فائدہ اُٹھا کر ہمارا غریب طبقہ کچھ اُونچا ہوتا ہے اور اس کی اگلی نسل کچھ اور اُونچی ہوتی ہے اور یہی سلسلہ جاری رہتا ہے‘‘۔

آج عقیدے کی کمزوری، شریعت سے انحراف اور اخلاقی بے راہ روی میں مسلم معاشرہ پھنس چکا ہے، فکری جمود اور عزم واِرادہ کی کمزوری ہر سو نظر آتی ہے اور صدق وامانت، ایفائِ عہد، سخاوت وشجاعت، حیاء وعفت، تواضع وانکساری اور نظم وضبط جیسے انسانی، اخلاقی اور اسلامی قدریں پامال ہو رہی ہیں، اسی کے ساتھ اسلام مخالف طاقتوں کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہ گئی ہے، مسلمانوں کی دینی، سیاسی، معاشی، اخلاقی،  اجتماعی اور تہذیبی شناخت کو جس طرح ملیامیٹ کیا جارہا ہے، وہ ہر صاحبِ خبر پر عیاں ہے، ایسے نازک حالات میں اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں مسلمانوں کی پہچان محض تاج محل اور لال قلعہ کی بے جان عمارتوں سے نہ رہے؛ بلکہ ان کا ملی وجود باقی رہے، ملی تشخص قائم رہے، ہمارے شعائر محفوظ رہیں، ہمارے مساجد، مقابر اور دینی مراکز محفوظ رہیں، ہم اور ہماری نسل دین پر ثابت قدم رہیں، یہاں اسپین واُندلس کی تاریخ نہ دُھرائی جائے، تو مدارس کے قیام اور اس کے نظام کو مستحکم کرنے کی فکر کیجئے! ان کی ضرورت سمجھے! اور دامے، درمے، سخنے اس کا تعاون کیجئے!۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورا مضمون نیچے لنک پر ہے۔مضمون نگار اور ویب سائٹ کو اللہ بہترین بدلہ دے۔
https://www.google.co.in/url?sa=t&rct=j&q=&esrc=s&source=web&cd=14&cad=rja&uact=8&ved=0CDEQFjADOAo&url=http%3A%2F%2Fraheislam.net%2Fislam%2Fwp-content%2Fuploads%2F2013%2F12%2F%25D8%25AF%25DB%258C%25D9%2586%25DB%258C-%25D9%2585%25D8%25AF%25D8%25A7%25D8%25B1%25D8%25B3-%25DA%25A9%25DB%258C-%25D8%25A7-%25DB%2581%25D9%2585%25DB%258C%25D8%25AA-%25D9%2588%25D8%25A7%25D9%2581%25D8%25A7%25D8%25AF%25DB%258C%25D8%25AA.doc&ei=4uvzVO_yItW1uQSWg4CYBw&usg=AFQjCNEvzeMG1iZ2iUPDUZ0V4su8R44Rxw&bvm=bv.87269000,d.c2E

Tablighi Jamaat work in Banglore and Ijtema

Tablighi Jamaat a peacefull law abiding and apolitical movement in words and spirit is for the grass-root work forthe success of humanity in the eternal success in life after death.

Banglore Ijtemah India 
Ma shal ALlah, Bangalore's city second Ijtema (Total Six Ijtema are planned for 12 Halqas of city) concluded with lakhs of people attending the final dua at Hoskote. 
Maulana Qasim Qureshi Sab, Farooque Bhai, Prof Nisar Ahmed Sab, Mufti Aslam Sab, Maulana Akbar Shariff Nadwi Sab (all from Bangalore),
Maulana Ahmed Latt Sab Nadvi from Markaz Hazrat Nizamuddin and Ahmed Khoosa Sab from Maharashtra and  were the key speakers.

The schedule went on as follows:
Saturday 11th Jan - Zohar - Farooque Sab
Saturday 11th Jan - Asar - Mufti Aslam Sab
Saturday 11th Jan - Maghrib - Maulana Qasim Qureshi Sab
Sunday 12th Jan - Fajr - Prof Nisar Ahmed Sab, Farooque Sab (After Taleem) Ahmed Khoosa Sab (for Students)
Sunday 12th Jan - Zohar - Maulana Akbar Shariff Sab, Ahmed Lad Sab (for Ulema)
Sunday 12th Jan - Asar - Nikah Ki Majlis for approximately 15 couples led by Maulana Qasim Qureshi Sab
Sunday 12th Jan - Maghhrib - Final Bayan & Duwa by Ahmed Lad Sab.
Monday 13th Jan - Fajr - Ahmed Khoosa Sab (Rawangi ki Baat for Naghad Jamats) and a zimmedar from Sultan Shah Bangalore delivered the waapasi ki baat for the tenure concluding jamats. 

Banglore city has 12 Halqas. The Ijtema saw the participation of many new people who were attending an Ijtema for the first time, May Allah accept all of them for service of deen and for preparation of Akhirah. 

There separate camps for Arabs, Tamilians, Bengalis, Malyalees and English speaking crowd with translation of all bayans happening simultaneously. 

Local Arab students who are present in Bangalore also attended. An Arab Jamat and a Jamat from England also was present.
There was a separate Bayan by Ahmed Khoosa Sab for students exclusively and the Ulema of all halqas were also invited for an exclusive gathering for them.

There were 5 food camps by 5 halqas managed individually which served the entire gathering very efficiently. The makeshift wazoo khanas and bathrooms were at a close-by distance which was very helpful to the large crowd particularly the elderly.

Most of the namaz's were led my Maulana Riyaz Sab, Imam of Sultan Shah Markaz of Bangalore. The last Bayan was delivered by Ahmed Lat Nadvi Sab of Nizamuddin and he also led the tashkeel efforts. He started by doing tashkeel by quoting the sacrifice of Hazrat Aboobakar Siddique (raz) who devoted his entire lifes wealth and time for the cause of Islam.

 Mashallah, many from the crowd stood up and gave their names for ''Poori Jaan, Poora Maal and Poora Waqt'' for the sake of Allah and the cause of Islam.
Many names came for Paidal Jamats, Beroon Jamats and within India 4 Months Jamats. 

Mashallah, due to everybody's duwas, the Ijtema breathed a new wave of sincerity and devotion for the goodness, service of humanity and preparation for akhirat for many. 

The Reason of Division and Disputes among the Muslims Group

(This article has come as forwarded message to us for posting in the blog for the benefit of muslims.JAZAKALLAH)


The following are some of the reasons of chaos and groupism between flag bearer and supporters of mainstream muslim groups, organisations, movements and individuals
(i.e Barelvi ,  salafi, deobandi , ahle hadith , Ahle Madaris, Ahle khanqah Ahle Tareeqat, Jamaat e islami, Tablighi jamaat, Kerala Sunni AP, Kerala Sunni EK,Kerala Mujahid KNM,Kerala Mujahid Madavoor, Kerala Mujahid Zuber Mangla,Followers of Dr. zakir naik, Maulana kaleem and similar personalities ).

Islam is a natural religion and the only way of salvation for whole mankind till the day of qiyamat. Islam is very clear and easy to understandable religion. Rather Allah ahs kept it easy so that each and every person could follow it without any difficulty. Allah has given clear command against groupism.


Academic Discussion or Sectarian war?
 Current Discussion and Controversies among general Muslims affiliated to different groups offline on street and Online on Face book/you Tube videos/Islamic Forums on internet on subject of Taqleed (Following a Mazhab) /Details of prayer like Ameen loud or silent, Position of hand etc. has crossed the limit of any academic pursuit and has become a sectarian war (Mostly verbal sometimes Physical).


The Righteous Scholar (Ulma e Haq) Vs Speakers?
Great Ulemas are not on the scene in this group fighting anywhere especially on internet. You will never see head/Amir/president of.....group is discussing arguing with head of ........group. Rather they have mostly harmonious relation and respect each other. They sit together and praise each other in conferences and in their personal letters.

There is another set of People on Internet/Facebook/ You tube videosThose who are fighting are actually Non Scholar /general Muslim flag bearers and some of the speaker on You tube/(Internet Sheikhs).We call them internet sheikhs because most of this group polemicist otherwise has no ranking in terms of knowledge of Quran and Hadith even in their group but on internet they are presenting as Great Scholar /Fazilatus Sheikh/Allama /Great Mufti.
There are some people on facebook even their real Identity is unknown and the manner they put Postings and comments, at times what to talk about Muslims even a gentle non muslim will not do in such bad manner and words.

Ulma e Haq (Righteous Scholars) are isolated?
Ulema e Haq (The Virtuous Scholars) of Ummat are very good people and are not involved in any hate campaign against any group. We talked many of them from different schools and they are in much pain, they want to end this trend of groupism but they feel themselves helpless and not able to withstand the firebrand speakers/ writers who are active online and offline. The Ulmae Haq feels isolated and restricts themselves under the wall of Madarsas and Islamic Institution.


All Muslim Groups are suffering?
Although all Muslims are in pain and deep anguish because of this problem but it is also a fact that their pain is not reflecting in any effort to rectify it. Believe me all groups are suffering because of it and a good amount of resources is being engaged in defense. They are victim at one point of time and offender on other point it is only matter of time. All are in pain. E.g. If you search You tube the same speaker will offend other in one video and will become victim of others criticism in next video.


Is there organized effort to tackle the menace?
Do you know any ?
There is hardly any organized effort to end this offline and online group fighting. There is nothing going on ground. Internet is an easy medium to propagate anything. There are many campaign going on internet and that is visible and obviously having an impact. But hardly any online effort is going on to rectify the problem of groupism. If you are in doubt just Google it with different key words. You will be disgusted to know that apart from some discrete blogs and some comments there is nothing on internet to solve this issue of groupism among general public.


Only 2-5% Muslims involved in groupism but group flag bearers are active & Organized to spread the menace. While 95% good Muslims are silent.
On the other hand those who are increasing groupism and hatred are very active on Internet and Social Media and it is their main tool of hate campaign. With nearly 850 million active user on internet is very important tool for any good or bad.
The good Muslims who don’t want group fighting are overwhelming majority (nearly 95%) but they are silent. They are feeling pain from groupism but not expressing it. The golden rule is Don’t Ragg and don’t be a silent listener of it.



Disconnect between Ulama e Haq & General Muslims?
When these controversial issues is brought (e.g Questions like Where to place hand in prayer, Ameen loud or silent etc) the general Public does not consult the Ulama e Haqq.
It is also a fact that general public has no access to them directly. Public is not ready to take pain and visit Ulmae Haqq. And on the other Hand Ulmae Haqq also does not spare much free time to entertain general Public. There are some means to get in touch with Ulema if the public is active seeker, but there is no option for passive seeker. It is the main deficit that has given free hand to nuisance speaker.


What the most people Do in controversy/ group flag bearer bring a contentious issue?
When encountered with, Most of the Muslims do anyone of three actions.
1. They remain silent and just ignore it. (They should instead consult ULMA E HAQ)
2. They accept the biased and concealed version of a fire brand speaker of one group, and become part of problem and fire brand in making.
3. They consult another firebrand of opposite group and take and spread their version.  And this attack and counterattack keeps on going unabated.



Campaign to Revive Islamic Ethics of Disagreement (CRIED) &
Campaign Against Groupism (CAG)?

These 2 campaign has been started by some weak slaves of Allah to do something to stop this menace of groupism between general Muslims. Your co-operation is needed for spreading this message. Allah is all doer and he can do anything. We should be optimistic from Allah.


What will you get with this campaign?

Certain things are very clear.
1. A great Reward from Allah is certain innamal Aamalu binniyat. Allah does not judge on the basis of the result rather on the basis of intention and sincere result.
2. So even if one person does not leave the groupism there could be 100% reward for those who will do effort to decrease this menace with correct intention.
3. The talk against Groupism will come into online domain. Once it will come in domain many competent Muslims will start doing effort at different level.
4. The first 2 chapters of the book are Quran Ayats and Ahadith against groupism and detail about Muslim rights and relation with other Muslims. At least those who will read this booklet and understand these will no do groupism.


Is Many of my friend and well wisher are of the view that
1. There is no solution as the cancer of groupism has progressed too much.
Our view: We should hav faith on Allah who can make possible from Impossible.
2. The big leaders of groups are not involved in this campaign so there is no use.
Our view:
1. The big leaders are agreed that menace of groupism should end.
2. We are dealing with groupism in general Muslims. The most of the differences of mainstream muslim groups leaders are of acceptable difference of opinion.
 so big leaders are not directly involved.
3. As being realistic we are also expecting an overnight turnout and groupism will vanish

Reasons of Groupism Summary of the Above

1.Not knowing the islamic concept of acceptable difference of opinion & ethics of disagreement.

2. Not Knowing that there are different field of service of Islam and they are complimentary to each other. They need cooperation and not unhealthy competition.

3. General muslims lack of knowledge about cardinal principle of aqeedah that is very simple and clear.So general Muslims are being fooled by many orators and sopeakers.

4. Mixing of the fiqh (Jurisprudence) issue with aqeeda issue.

5.Making subsidiary issue of aqeeda as primary issue of aqeeda. Discussing those matters that has not been discussed by Sahaba and Salaf. Not stopping where Sahaba stopped.

6. Lack of contact of ulmae haq with general muslims.

7. Unhealthy competition between orators of different group.

8.Silence of good muslim (ulema&general muslim) against groupism.

9.No organised effort /movement for decreasing groupism.

10.Appreciation and monetary donation to  group orators by hardcore supporters.

WHILE IMAM OF MASJID/USTAD OF MSDARSA hardly gets 5-10 thousand rupees per month THESE ORATORS get 20-30 thousand per lecture.
One of my known person arranges AIR TICKET for group orator while Madarsa Ustad & masjid imams travels in sleeper class