Ihsan Tazkiya Tasawwuf kya Hai Mujahida Zike Azkar Ashghal Quran Hadith



عرض مرتب

یہ کتاب جناب مفتی  محمد ابو بکر جابر قاسمی   صاحب اورجناب مفتی  رفیع الدین حنیف قاسمی  صاحب کی تصنیف کا ایک حصہ ہے ۔ جسمیں احسان ،تزکیہ ، (تصوف )اور اس سے جڑے اصطلاحات جیسے  بیعت ،مجاہدات ،نسبت ،اذکار و اشغال کی شرعی حیثیت پرقران حدیث اور علمائے اہل سنت والجماعت کے اقوال کی روشنی میں ایک محققانہ اور علمی بحث کی گئی ہے


سنجیدہ علمی کتاب
قابل قدر مصنف نے ایک ایسے موضوع پر بڑی سنجیدگی  کے ساتھ قلم اٹھایا ہےجس پر کچھ مسلمانوں کو اشکالات ہیں  ۔مصنف  نے اس سلسلے کی کئی کتابوں اور  تصوف پر ہورہےموجودہ بحث و مباحثہ اور اسکےپس منظرکو سامنے رکھتے ہوئے عالمانہ اور محققانہ بحث کی ہے ۔جس سے یہ کتاب ایک طرح سے کئی کتابوں کا خلاصہ بن گیا ہے ۔ ۔اصل میں آجکل اختلافی موضوع  پر کتابیں بہت آ رہی ہیں لیکن  کسی گروہ بندی سے بچ کر سنجیدہ علمی بات کرنے والے لوگ بہت کم ہیں۔  اللہ مصنف کو جزائے خیر دے ۔

احسان تزکیہ اور تصوف کے الفاظ
تصوف صوفیہ اور صوفی کا لفظ آج کل مسلمانوں کی انٹرنیٹ پر ہو رہی بحثوں میں بہت کثرت سے آرہا ہے ۔   تصوف کا لفظ قرآن ااور حدیث کا لفظ نہیں ہے  بلکہ قرآن اور حدیث میں اس کے لئے احسان اور تزکیہ کا لفظ استعمال ہو اہے لیکن لفٖظ تصوف مشہور ہو گیا ہے ۔

ایسا دین کے دوسرے اصطلاحات کے ساتھ بھی ہو ا ہے 
مثال کے طور پر  عقیدہ کا لفظ  جس معنٰی میں مسلمان استعمال کرتے ہیں   قرآن اور حدیث میں عقیدہ لفظ استعمال نہیں ہو ا ہے ۔قرآن اور حدیث میں ایمان کا لفظ استعمال ہو ا ہے  جیسا کہ بخاری شریف کی مشہور حدیث جبرئیل میں ہے ۔
عقیدہ کا لفظ قرآن میں سور  مائدہ آیت  نمبر  89 میں ہے   لیکمن وہ قسم کے مستحکم کرنے کے بارے میں استعمال ہوا ہے )تفسیر ابن کثیر(۔لیکن ایمان سے زیادہ عقیدہ لفظ مشہور ہو گیا ہے ۔اسی طرح احسان اور تزکیہ سے زیادہ  لفظ تصوف مشہور ہو گیا ہے  ۔
تصوف کی حمایت اور مخالفت
انٹرنیٹ پر تصوف کے موضوع پر اکثر اہل علم  اسے بہت اچھی  چیزمانتے ہیں  لیکن بعض دوسرے  لوگ اس لفظ کو بمنزلہ شرک اور کفر کے مترادف سمجھتے  ہیں ۔
تصوف   کی مخالفت والے بعض مششد د لوگ تو  تصوف کو حرام تک قرار دے رہے ہیں اور بعض تو کفر اور شرک تک بتا رہے ہیں جیسے اگر انہیں کسی عالم یا کسی جماعت کی برائی بیا ن کرنا ہوگا اور  بتانا ہوگا کہ وہ بدعت اور شرک میں مبتلا ہیں تو اس کے لئے وہ کہ دینگے کہ فلاں جماعت یا عالم صوفی ہے ۔اگر انہیں آپ کو گالی دینا ہوگا تو بس اتنا کہ دیں گے تم صوفی   ہو۔اور آج کے انٹر نیٹ کے زمانے میں پورے زور شور سے اس کا پرو پیگنڈہ کر ہے ہیں ۔ بحر حال اللہ ہی اس طرح کے نادان مسلمانوں کو سمجھا سکتا ہے  ۔اللہ  ان نادان مسلمانوں کو  عقل سلیم عطا کرے  اور سلف الصالحین  کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا کرے 

اللہ کی ذات  سے امید ہے  ہ  یہ کتاب عام مسلمانوں کو شکوک و شبہات سے نکال کر اللہ اور اسکے رسو ل اللہ ﷺکی اطاعت پر جمائے گا ۔امید ہے کہ مسلمانان عالم     اپنا وقت اور صلاحیت فتنہ انگیزی اور خلفشار سے بچا کر دین کی دعوت انسانیت کی فکر اس کی بھلائی اور دین کے دوسرے مثبت کاموں میں صرف کریں گے۔
اللہ تعالیٰ سے توفیق کا سوال ہے  

















Bangladesh Ijtema 2015 Dates Bishwa ijtema at Tongi Dhaka

ASSALAM O ALAIKUM
Due to increased number of participants Bangladesh Ijtema 2015
(Popularly known as Bishwa Ijtema)
will be held in twp phases.

 تاریخ بنگلا دیش  اجتماع

Phase 1
09,10 & 11 th January 2015 (Friday,Saturday, Sunday)

Phase 2
16,17 & 18 January 2015 (Friday, Saturday, Sundat)


May Allah accept it and make it Zaria for the guidance of Mankind
انگریزی کے بعد اردو میں مضمون ہے.ابو الحسن علی ندوی رحیم اللہ کی طرف سےلکھا گیا ہے

Bishwa Ijtema (or Bishsho IstemaBengaliবিশ্ব ইজতেমা, the World or Global Congregation or Meeting) is an annual Tablighi Jamaat Islamic movement congregation held at TongiBangladesh by the river Turag.  The event focuses on prayers and supplication and does not allow political discussion.The local police estimated the number of attendees of 2007 ijtema to be 3 million[3] while in 2010 the number of attendees was 5 million. (Source Wikipedia)

It is a right occasion to discuss in Brief about Ijtema and

 its role in Effort of Dawat O Tabligh & Islah ............

انگریزی کے بعد اردو میں مضمون ہے.ابو الحسن علی ندوی
 رحیم اللہ کی طرف سےلکھا گیا ہے

Ijtema is a urdu word that in english is congregation.Any congregation can be called Ijtema But by common meaning it is called for Islamic congregation or meating. And literally also it has difference from conference word.

There is famous Bishwa Ijtema, (Bangla: বিশ্ব এজতেমা) Alami Ijtema or (World Congregation) and small Ijtema are held all over the the world.Although the elders of Nizamuddin donot use the words like Aalami Ijtema/ Tablighi Ijtema but it becomes popular with these names.I would like to have a brief accout on Ijtema and its role in the whole effort of Tablighi Jamaat.


The work of Tabligh is based on the basic effort meeting Muslim Personally at their doorstep may be at houses Markets fields etc.

The basic pattern of Prophet Muhammad Sallallahu Alaihi Wasallam work was to go to the people.People not desirous of deen But Prophets used to convince them. 
It is most difficult Job. 
If someone is having Desire (Talab) for deen for him/her road is very easy. He can go to Madarsa/Can learn from Ulemas directly or by books.

The main Problem is for those Who dont have Desire about deen. They are immersed in the wordly life no concern of life after death..........

These Could be of two category..
1.Druncard and bad element of Society

2. Otherwise good with respect to Wordly life. But no concern of LIFE AFTER DEATH.........Not attending Prayers......Means of earning is not Halal........Allah command and the way of Prophet is not in life and he is not aware also/Desirous.
They may include highest to lowest person of Society Doctors.engineers, Big or small buisenessman...........to the ricshawpullaer and Hawkers

To bring them to Islamic way is most difficult.
Personal contact with love and mercy and passion is the most effective tool for this section. Tableeghi Jamaat effort is most suitable for these sections................Maulana Mahmudul Hasan The Grand Mufti has compared the work of Tabligh as Rain that benefit  everyone.........

HAVING NO TALAB......INABAT.


Thats why they go in the Path of Allah and do these activities and while being at home daily meeting for giving Dawah is part of their shedule. and popularly known as Five Amaal that include Mashwara,Daily Islamic learning,Mulaqat(meeting Muslims),Weekly Programme in mosque and 3 days in a month in adjoining locallity within 5-10 Km.

Then what is Role of Ijtema in this Programmae.

1. .It is actually a training camp for Islamic way of Life.Actually the Ijtema also revole around the same Objective. It is not like other conferences having formalities of President /chief guest/Posters/Banners/Decorative Stage...........

2. The focus remain in Ijtema for sending Jamaats from Ijtema, To reach the general Muslim with the Amaal e Dawat and to encourage them to do after returning home. Ijtema is a place of motivation.

3. It also serves the Purpose of Ummathood as in big Ijtema People from all parts of the world Participate for a commpn issue of Allah way of life for themselves and for whole mankind till the day of Qiyamah.


Maulana Abul Hasan Ali Nadvi R.A. Describe it in these words.And he also narrate about the first Ijtema of this kind held in 1941 in Nooh district of Haryana near Delhi.





فتوٰی تقلید ،اجماع ، قیاس ا ما م الحرمین محمد بن عبداللہ السبیل امور مسجد حرام و مسجد نبوی


آئمہ حرمین اور تقلید  

مکتوب الشیخ محمد بن عبداللہ السُبیل سربراہ مسجد حرام و مسجد نبوی
Dusra link download


عرض مترجم
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين , والعاقبة للمتقين , ولا عدوان إلا على الظالمين , والصلاة والسلام على خاتم الأنبياء والمرسلين محمد سيد بني آدم أجمعين . وآله الطاهرين , وصحابته , ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين
یہ فتوٰی مرکزی ادارہ براے امور مسجد حرام و مسجد نبوی مملکت عربیہ سعودیہ کے سربراہ کی  حیثیت سے ا ما م الحرمین  فضیلۃ الشیخ محمد بن عبداللہ السبیل امور مسجد حرام و مسجد نبوی صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے جاری کیا ہے  اورسیکرٹریٹ رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے اہتمام سے جاری ہوا ہے۔
اس تفصیلی فتوے میں دراصل ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید ،اجماع ، قیاس کی شرعی حیثیت اور اس سے جڑے تمام پہلؤں پر علما ء اہل سنت والجماعت کے موقف کو واضح کیا گیا ہے۔
یہ فتوٰی ایک ایسے وقت میں  آیا ہےجب کچھ نادان مسلمان ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی  تقلیدکرنےکی مخالفت کر رہے ہیں  اورمسلمانوں میں خلفشار کر رہے ہیں ۔     اس سے اہل سنت والجماعت کے ائمہ اربعہ کی تقلید کرنے والے مسلمان جو دنیا کےتمام  مسلمانوں میں  لگ بھگ 96 فیصد ہیں    (شیعہ حضرات کو چھوڑ کر ) پریشان ہیں ۔
ائمہ اربعہ کے تقلید کی مخالفت کرنے والے عام مسلمانوں کے دل میں شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں اور ان سے ایک حکمت عملی کے طور پر ایسے سوالات پوچھتے ہیں جس سے ایک کم پڑھا لکھا مسلمان  پریشان ہو جاتا ہے     
جیسےآپ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر چلتے ہیں یا امام ابو حنیفہؒ(یا امام شافعی ؒ ،/امام مالک ؒ /امام احمؒد /) کے دین پر
فوراجواب ملتا ہے:  یقیناً حضرت محمد ؐ کے دین پر۔
اس پر ایک دوسرا سوال پوچھا جاتا ہے : پھر  آپ اپنے کو حنفی کیوں کہتے  ہیں؟
ایک عام مسلمان جو علم نہیں رکھتا اس سوال سے پریشان ہو جاتا ہے ۔اسکا فائدہ اٹھا کر اس کے دماغ میں شکوک و شبہات پیدا کیئے جاتے ہیں ۔
اوپر دیئے گئے سوالوں کا استعمال کرکے ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت یہ غلط تصور عوام میں پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے  کہ اگر آپ  حنفی ہیں تو آپ امام ابو حنیفہ کے دین پر عمل کر رہے ہیں  ،نہ کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر۔
تقلید کی مخالفت والے بعض مششد د لوگ تو تقلید کو حرام تک قرار دے رہے ہیں اور بعض تو کفر اور شرک تک بتا رہے ہیں اور آج کے انٹر نیٹ کے زمانے میں پورے زور شور سے اس کا پرو پیگنڈۃ کر ہے ہیں ۔اللہ  ان نادان مسلمانوں کو  عقل سلیم عطا کرے  اور سلف الصالحین  کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا کرے   ۔
اللہ کی ذات  سے امید ہے کہ امام الحرمین اور مسلمانوں کے اصل مرکز سے جاری ہوا یہ فتوٰ ی نادان مسلمانوں کےپروپیگنڈہ کا موثر جواب ہوگا اور عام مسلمانوں کو شکوک و شبہات سے نکال کر اللہ اور اسکے رسو ل اللہ ﷺکی اطاعت پر جمائے گا ۔امید ہے کہ مسلمانان عالم     اپنا وقت اور صلاحیت فتنہ انگیزی اور خلفشار سے بچا کر دین کی دعوت انسانیت کی فکر اس کی بھلائی اور دین کے دوسرے مثبت کاموں میں صرف کریں گے۔
اللہ تعالیٰ سے توفیق کا سوال ہے ۔




مکتوب الشیخ محمد بن عبداللہ السُبیل سربراہ مسجد حرام و مسجد نبوی


بسم اللہ الرحمن الرحیم 

مرکزی ادارہ براے امور مسجد حرام و مسجد نبوی
مملکت عربیہ سعودیہ
(ڈاکٹر عدنان حکیم کے سوالات کا جواب)

سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، میں درودوسلام کہتا ہوں کہ محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر جو ہمارے آقا ہیں اور اس کے بندے اور رسول نیز آپ کی آل پر اور تمام اصحاب پر ۔ 

سوال نمبر1۔ کیا صحابہ کرام، تابعین عظام، اور فقہاء امت کا اجماع حجت شرعیہ ہے یا نہیں؟ اور کیا اجماع تشریع اسلامی کا تیسرا ماخذ ہے یا نہیں ؟ اجماع کے حجت ہونے کی کیا دلیل ہے ؟ اور بلکیہ اجماع کے منکر کا کیا حکم ہے ؟

جواب۔ باتفاق علماء صحابہ کرام کا اجماع حجتِ شرعیہ ہے اسی طرح تابعین اور فقہا کا اجماع بھی حجت شرعیہ ہے البتہ اس میں داؤد ظاہری نے اختلاف کیا ہے ان کی راے یہ ہے کہ غیر صحابہ کا اجماع حجت شرعیہ نہیں لیکن حجت ہونے کا قول صحیح ہے کیونکہ حجیت اجماع کے دلائل عام ہیں ، صحابہ رضی اللہ عنہ وغیر صحابہ سب کے اجماع کو شامل ہیں اس صرف صحابہ کرام کے اجماع کو حجت کہنا سینہ زوری ہے ، اس پر کوئی دلیل قائم نہیں ! کتاب و سنت کے بعد اجماع کو تشریع اسلامی کے مآخذ میں سے تیسرا ماخذ تسلیم کیا گیا ہے ۔
دلائل حجیت اجماع۔۔۔۔۔ جمہور علماء کے نزدیک اجماع حجت شرعیہ ہے اس پر عمل کرنا واجب ہے اس پر کتاب و سنت کے بہت سے دلائل ہیں ہم ان میں سے چند ایک ذکر کرتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔ فرمان خداوندی ہے " وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيراً 
 جو شخص ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول کی مخالفت کرتا ہے اور سبیل المومنین کے علاوہ کسی دوسرے راستہ پر چلتا ہے ہم اس کو ادھر پھیر دیتے ہیں جدھر وہ پھرتا ہے اور ہم اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ برا ٹھکانہ ہے ۔ (سورہ نساء115)۔

اللہ تعالیٰ نے سبیل المومنین کے ترک پر وعید فرمای ہے اگر یہ حرام نہ ہوتا تو اس پر وعید نہ وارد ہوتی۔ اور اس وعید میں سبیل المومنین کے ترک کو اور مخالفت رسول کو جو حرام ہے جمع نہ کیا جاتا اور جب غیر سبیل المومنین کی اتباع حرام ہے تو سبیل المومنین کی اتباع واجب ہوگی اور اجماعی حکم سبیل المومنین ہے لہذا اس کی اتباع واجب ہے ۔

۔ 2۔۔۔۔۔۔ اور سنت سے دلیل یہ ہے کہ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ میری امت کو یافرمایا امت محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو گمراہی پر جمع نہ کرے گا۔ (ترمذی) اور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہ کرے گا اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے اور جماعت سے کٹا وہ آگ میں پڑا۔ (ترمذی) ان سب احادیث کا اختلاف الفاظ کے باوجود مفہوم ایک ہے ۔
یعنی مجموعی طور پر امت کا خطا سے معصوم ہونا۔ اس سے ثابت ہوا کہ علماء کا اجماع حجت شرعیہ ہے۔ ہمیشہ ان احادیث سے بغیر کسی رد وقدح کے پہلے صحابہ کرام پھر ان کے بعد والے علماء عظام حجیت اجماع کو ثابت کرتے رہے ہیں۔ تاآنکہ بعد میں مخالفینِ اجماع پیدا ہو گئے۔

منکرین اجماع کا حکم۔۔۔۔ اجماع قطعی کے منکر کے بارے میں علماء کے تین قول ہیں۔
۔(1)۔ ۔مطلقاً اجماع قطعی کا انکار کفر ہے۔
۔(2)۔ مطلقاً اجماع قطعی کا انکار کفر نہیں۔
اگر اجماعی حکم کا دین میں سے ہونا امر قطعی ہو جیسے پانچ نمازیں تو اس کا انکار کفر ہے اور اگر اس کا دین میں سے ہونا امر قطعی نہ ہو تو اسکا انکار کفر نہیں۔تاہم اجماع کی مخالفت جایز نہیں جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ اجماع حجت شرعیہ ہے اس پر عمل کرنا واجب ہے ۔ 
سوال نمبر 2۔۔۔۔۔۔ قیاس کی بنیاد ظن پر ہے اس جس چیز کی بنیاد ظن پر ہو وہ ظنی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ظن کی اتباع سے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اور اس چیز کے پیچھے مت چل جسکا تجھے علم نہیں" (الاسراء۔ 36)لہذا قیاس کے ساتھ حکم بتانا درست نہیں کیونکہ یہ اتباعِ ظن ہے"۔

جواب۔۔۔۔۔ قیاس فقہ اسلامی کے ماخذ میں سے چوتھا ماخذ ہے اور اس کی حجیت کتاب و سنت اور اجماع سے ثابت ہے اس پر صحابہ کرام، تابعین اور فقہا امت نے قرنہا قرن عمل کیا ہے ۔ جمہور علماء کے نزدیک قیاس پر عمل کرنا واجب ہے جبکہ داؤد ظاہری اور ان کے پیروکاروں نے اس کا انکار کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ قیاس حجت شرعیہ نہیں ہے ، ان کے دلایل میں سے ایک دلیل ہوی ہے جس کا آپ نے سوال میں ذکر کیا ہے ۔ علماء نے ان کے دلایل کے جوابات بھی دیے ہیں ، ہم مختصر طور پر بعض جواب ذکر کرتے ہیں ۔ اور اگر آپ کو مزید وسعت درکار ہو تو کتب اصول فقہ کی طرف مراجعت کیجیے۔ مثلاً علامہ جوینیؒ کی البرھان، امام رازیؒ کی المحصول، الاحکام للآمدییؒ، شروح مختصر ابن حاجبؒ، اصول سرخسیؒ، اور عبدالعزیز بخاریؒ کی کشف الاسرار ان کتابوں میں منکرین قیاس کا تفصیلی رد ہے۔ بہرکیف وہ آیات جن میں اتباع ظن سے نہی کی گئی ہے، ان کا قیاس شرعی سے کوئی تعلق نہیں نہ اس پر منطبق ہوتی ہیں کیونکہ ان آیات میں چیز سے نہی کی گئی ہے وہ ہے ۔ عقائد میں ظن کی اتباع۔ رہے احکام عملیہ سو ان کے اکثر دلائل ظنی ہیں اگر ہم اس شبہ کا اعتبار کر لیں تو ہمیں وہ تمام دلائلِ شرعیہ ترک کرنے پڑیں گے جو ظنی الدالات ہیں اور یہ باطل ہے ۔ رہا ان کا اللہ تعالیٰ کے فرمان ہے 
وَلاَ تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ (الإسراء: 36 "سے استدلال سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے مقصود نہی ہے اس بات سے کہ کوئی انسان محلِ یقین میں امکانِ تیقن کے باوجود حصولِ یقین سے انحراف کر کے ظن و تخمین پر اعتماد کرے پس یہ نہی قیاس شرعی کو شامل نہیں کیونکہ فرع واصل کے درمیان علت جامعہ پاےئےجانے کی وجہ سے حکم کے اعتباد سے فرع کو اصل کے ساتھ لاحق کرنا اس حکم کے قبیل سے نہیں جس سے آیت میں منع کیا گیا ہے ، یعنی بغٰر علم کے قول کرنا، کیونکہ مجتہد اسی چیز کو اختیار کرتا ہے جو اس کے نزدیک راجح ہوتی ہے اور اسکا اجتہاد اس تک پہنچتا ہے۔

سوال نمبر 3۔۔۔۔۔ قیاس شرعی کے حجت ہونے کی کیا دلیل ہے؟

جواب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علماء نے قیاس کی حجیت کو کتاب و سنت اور اجماع سے نیز عقلی دلیل سے ثابت کیا ہے، ہم ان میں سے بعض ذکر کرتے ہیں اور اگر مزید دلائل معلوم کرنے کا ارادہ ہو تو ان کتب اصول کی طرف مراجعت کی جاے جن کا میں نے منکرین قیاس کے شبہات کے رد میں پہلے ذکر کیا ہے۔ کتاب اللہ سے دلیل فرمان الہیٰ ہے۔

هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ دِيَارِهِمْ ِلأَوَّلِ الْحَشْرِ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ مَانِعَتُهُمْ حُصُونُهُمْ مِنْ اللَّهِ فَأَتَاهُمْ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمْ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ (الحشر: 2
اللہ وہ ہے جس نے اہلِ کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے نکالا۔ پہلے حشر کے وقت تمہارا گمان نہیں تھا کہ وہ نکلیں گے اور انہوں نے گمان کیا کہ ان کے قلعے ان کو اللہ کے عذاب سے بچالیں گے سو ان پر اللہ کا عذاب ایسے طور پر آیا جس کا وہ گمان بھی نہیں رکھتے تھے اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا گیا وہ گراتے تھے اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں اور مومنین کے ہاتھوں، پس عبرت پکڑو اے ارباب بصیرت محل استدلال اللہ تعالیٰ کا فرمان فاعتبروایااولی الابصار ہے ۔ وجہ استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب مسلمانوں کو اس عذاب کی خبر دی جو بنو نصیر پر نازل ہوا تو ان کو حکم دیا کہ وہ عبرت پکڑیں اور الاعتبار العبور سے مشتق ہے ۔ اور العبور کا معنی ہے المجاوزۃ یعنی گذرنا۔ مقصود یہ ہے کہ اپنے نفوس کو ان پر قیاس کرو کیونکہ تم بھی ان جیسے بشر ہو اگر تم ان جیسے کام کرو گے تو تمہارے اوپر بھی وہی عذاب اتر پڑے گا جو ان پر اترا۔ پس یہ آیت تمام انواعِ اعتبار کو شامل ہے اور جب قیاس میں فرع واصل کے درمیان موجود علت جامعہ کی وجہ سے فرع سے اصل کی طرف مجاوزت ہوتی ہے تو یہ بھی اس اعتبار کے انواع میں داخل ہو گا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور
 سنت سے دلیل یہ ہے کہ
حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ان کویمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا تو دریافت فرمایا کہ آپ کیسے فیصلہ کریں گے ؟ انہوں نے جواب دیا کتاب اللہ کے ساتھ ۔ فرمایا ! اگر کتاب اللہ میں نہ ہو تو؟ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا سنت رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا اگر آپ کو سنت رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم میں بھی نہ ملے تو پھر؟ کہنے لگے میں اپنی رائےسے اجتہاد کروں گا۔ اور اسمیں کوتاہی نہ کروں گا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جس پر اللہ کا شکر ہے جس پر اللہ کا رسول راضی ہے۔ (ابوداود۔ ترمذی، مسند احمد، ابوداود طیالسی) اور اس کی بہت سے محققین نے تصحیح کی ہے ) وجہ استدلال یہ ہے کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کرنے میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے کتاب و سنت سے اجتہاد کی طرف منتقل ہونے کو درست قراردیا ہے اور قیاس بھی اجتہاد کے انواع میں سے ایک نوع ہے۔ علاوہ ازیں عمل بالقیاس پر صحابہ کرام کا اجماع ہے اور ہر وہ امر جس پر صحابہ کرام کا اجماع ہو وہ حق ہے اس کا التزام واجب ہے،

اس کی مثالوں میں سے ایک مثال یہ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اپنا مشہور حکمامہ تحریری طور پر بھیجا کہ اشباہ و نظایر کو پہچانئے اور امور میں اپنی رائے کے ساتھ قیاس کیجیے (سنن کبریٰ بیہقی، الفقیہ والمتفقہ للخطیب)
 عقلی دلیل یہ ہے کہ کتاب و سنت کی نصوص محدود اور متناہی ہیں اور لوگوں کو درپیش مسایل غیر متناہی ہیں کیونکہ ہر زمان و مکان میں نےء مسایل ظہور پذیر ہوتے ہیں سو اگر ان کے احکام معلوم کرنے کے لیے کتاب و سنت کی نصوص پر قیاس نہ کریں تو وہ بغیر حکم شرعی کے باقی رہ جائیں  گے اور یہ باطل ہے کیونکہ شریعت مقدسہ عام ہے اور تمام نے پیش آمدہ مسائل کو شامل ہے: ہر ہر واقعہ کے لیے شریعت میں حکم موجود ہے اور مجتہدین پر لازم ہے کہ وہ استنباط کے قواعد معروفہ کے موافق استنباط کریں۔

سوال نمبر 4۔۔۔۔۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے جو درست اجتہاد کرے اس کے لیے دو اجر ہیں اور جو غلط اجتہاد کرے اس کے لے ایک اجر ہے۔

جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے مراد حاکم یا قاضی یا عالم مجتہدہے ۔ جب اس نے اجتہاد کیا اور اپنی ممکنہ استطاعت کسی مسلہ کے حکم معلوم کرنے میں صرف اس کے باوجود اس سے حکم میں غلطی ہو گئی تو وہ گناہ گار نہ ہو گا بلکہ اپنے اجتہاد پر ماجور ہو گا اور اگر اس نے حق کو پالیا تو اس کے لیے دو گنا اجر ہو گا ایک اجر اجتہاد پر دوسرا صابت حق پر: بشرطیکہ وہ شرائط اجتہاد کا علم و حامل ہو اور اگر شرائط اجتہاد کا عالم و حامل نہ ہو اور محص تکلف کر کے اجتہاد کرے اور علم کا دعویٰ کرے تو یہ حدیث اسکو شامل نہیں :

سوال نمبر 5۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تمام فقہا مجتہدین کی آراء کسی واقعہ کے ایک حکم پر متفق ہوں تو کیا وہ قانون شرعی ہو جاتا ہے ؟ کیا اس کی اتباع واجب ہے ؟ یا اس کی مخالفت جائز ہے ؟

جواب۔۔۔۔ جب تمام فقہا مجتہدین کسی واقعہ کے ایک حکم پر متفق ہو جائیں تو اس کو اجماع شمار کیا جاتا ہے جس کی مخالفت ناجائز اور اتباع واجب ہے اور جو اس اجماع کی مخالفت کرتا ہے وہ اس وعید کی زد میں آتا ہے جس کو ہم نے حجیت اجماع کے دلائل میں ذکر کیا ہے :۔

سوال نمبر 6۔۔۔۔۔۔ کیا احکامِ شرعیہ کے لیے قیاس کا چوتھے ماخذ کے طور پر اعتبار کیا جاتا ہے ؟

جواب۔۔۔۔۔کتاب و سنت اور اجماع کے بعد احکامِ شرعیہ معلوم کرنے کے لیے قیاس چوتھا ماخذ ہے۔ اس کے ذریعے احکامِ شرعیہ معلوم کئے جاتے ہیں۔ علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں امام بخاریؒ نے کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ میں فرمایا ہے، مطلب یہ ہے کسی کے لیے بچاؤ نہیں مگر کتاب اللہ میں یا سنت نبویہ میں یا علماء کے اجماع میں جبکہ ان میں حکم موجود ہو پس اگر ان میں حکم موجود نہ ہو تو پھر قیاس ہے ۔ اس پر امام بخاری نے ترجمۃ الباب قائم کیا باب الاحکام التی تعرف بادلایل وکیف معنی الدلالۃ و تفسیر ھا۔ یعنی یہ باب ہے ان احکام کے بیان میں جو دلایل سے معلوم کئے جاتے ہیں اور دلالت کیسے ہوتی ہے اور اس کی کیا تفسیر ہے ؟
(احکام القرآن 7۔172)


سوال نمبر7۔۔۔۔۔۔۔ اس آدمی کا کیا حکم ہے جو کہتا ہے کہ سب سے پہلے شیطان نے قیاس کیا ہے ؟

جواب۔۔۔۔۔ اگر قائل کی مراد "انا خیر منہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین" والا قیاس ہے تو قائل کا یہ قول درست ہے کیونکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ حسن بصری اور ابن سیرین سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا سب سے پہلے شیطان نے قیاس کیا اور غلط قیاس کیا اور حکماء نے کہا ہے کہ اللہ کے دشمن نے غلط کہا کیونکہ اس نے آگ کو مٹی پر فضیلت دی حالانکہ وہ دونوں ایک درجہ میں ہیں کہ وہ دونوں بے جان مخلوق ہیں۔ اور اگر قائل کا مقصد قیاس شرعی کا انکار و رد ہے اور اس پر طعن! تو یہ نا جایز ہے، کیونکہ ماہرین علماء کا اجماع ہے اخذ بالقیاس پر: اور اجماع مخالفت حرام، جبکہ شاذ اقوال کا کوی اعتبار نہیں۔

سوال نمبر8۔۔۔۔۔ اسلامی شریعت میں ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام کی تقلید (یعنی تقلید شخصی) کا کیا حکم ہے ؟

جواب۔۔۔۔۔ مسئلہ تقلید کے اعتبار سے مسلمانوں کی دو قسمیں ہیں ۔

۔(ایک)۔ مجتہدین یعنی وہ علماء جو دلائل سے مسائل مستنبط کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ان کے لیے تقلید جائز نہیں بلکہ ان پر اجتہاد واجب ہے ۔

(
دو) عوام، یعنی وہ لوگ جو اجتہاد کی قدرت و اہلیت نہیں رکھتے ان کے لیے آئمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید جائز ہے۔ اور تقلید سے مراد یہ ہے کہ فقہی مسائل میں دلیل جانے بغیر مجتہد کے قول کی اتباع کرنا۔ اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے۔
وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلاَّ رِجَالاً نُوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ (الأنبياء:
پس پوچھو اہل علم سے اگر تم نہیں جانتے۔ (الانبیاء-7) اور
 رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا فرمان زخمی صحابی کے مشہور واقعہ میں کہ " جب وہ نہیں جانتے تھے تو انہوں نے پوچھ کیوں نہ لیا: عاجز آدمی کے لیے بجز سوال کے کسی بات میں شفا نہیں"( ابوداؤد۔ ابن ماجہ، احمد ، حاکم، طبرانی)اور عامۃ الناس کو اجتہاد کا مکلف بنانا متعدذ ہے، کیونکہ اجتہاد کا تقاضا ہے کہ مجتہد میں خاص ذہنی صلاحیت ہو۔ علم میں پختگی ہو اور لوگوں کے احوال اور وقایع کی معرفت اور طلب علم اور اس پر صبر کی عادت اور اگر سب لوگ ان شرائط کو پورا کرنے کے لیے ان کے حصول میں مشغول ہو جائیں تو کاروبار معشیت باطل ہو جائیں گے اور نظام دنیا درہم برہم ہو جاے گا ۔

سوال نمبر 9۔۔۔۔۔۔ کیا یہ آیت کریمہ "اتخذو احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ " آئمہ اربعہ یعنی امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعی، امام احمد بن حنبلؒ کی تقلید پر منطبق ہوتی ہے یا نہیں ؟

جواب
۔۔۔۔۔ آیت سے مقصود یہ ہے کہ انہوں نے اپنے احبار کو ارباب کی طرح بنالیا کیونکہ انہوں نے ان کی ہر چیز میں اطاعت کی چناچہ امام ترمذی نے عدی بن حاتم سے روایت نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں میں نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حالت میں آیا کہ میری گردن میں سونے کی صلیب تھی آپ نے فرمایا اے عدی اس کو اتار پھینک۔ یہ بت ہے اور میں نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے سورہ براءۃ کی یہ آیت تلاوت کی اتخذو احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ والمسیح بن مریم(توبہ۔31) پھر فرمایا خوب سن لو وہ ان کی عبادت نہیں کرتے تھے ، لیکن جب وہ کسی چیز کو حلال قرار دیتے یہ اس کو حلال سمجھتے اور جب وہ ان پر کویئ چیز حرام کرتے تو یہ اس کو حرام سمجھتے۔ سو کہاں آئمہ اربعہ اور کہاں وہ احبار جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں اور اللہ کی حلال ٹھہرائ ہوئ چیز کو حرام ٹھہراتے ہیں ۔ اللہ کی پناہ اس بات سے کہ ائمہ اعلام کو ان احبار جیسا سمجھا جائے کیونکہ ان ائمہ نے شریعت اسلامیہ کی خدمت میں اپنی پوری قوت صرف کی اور اس میں اپنی زندگیاں لگا دیں ان کے درمیان جو مسائل میں اختلاف ہے وہ درحقیقت اختلاف اجتہادات کی وجہ سے ہے ۔ ان کا یہ اختلاف باعث اجر ہے ۔ اور یہ کہنا کہ مذکورہ بالا آیت ائمہ اربعہ کو بھی شامل ہے جھوٹ ہے ، بہتان ہے ۔ اسکا سبب جہالت عظیمہ ہے ۔

سوال نمبر 10۔۔۔۔۔۔ کیا ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید شرک و کفر کے زمرہ میں داخل ہے ؟؟

جواب۔۔۔۔۔ ائمہ اربعہ کی تقلید غیر مجتہد کے لیے جائز ہے اس کا کفر و شرک کے ساتھ کویئی تعلق نہں آئمہ اربعہ حق اور دین کے داعی ہیں ۔ انہوں نے اپنے نفوس کو علم شریعت کے سیکھنے سکھانے کے لیے وقف کر دیا۔ حتیٰ کہ اس علم کا بڑا حصہ پایا۔ جس کی وجہ سے ان میں اجتہاد کی قدرت و صلاحیت پیدا ہو گیء۔ سو عامۃ المسلمین جو ان کے مقلد ہیں وہ راہِ ہدایت اور راہِ نجات پر ہیں انشاللہ۔

سوال نمبر 11۔۔۔۔۔۔۔ اور جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ مقلدین شرک اور کفر کرتے ہیں اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب۔۔۔۔۔۔۔ جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا یہ عقیدہ غلط ہے اس کی قطعاً کوی بنیاد نہیں اور یہ عقیدہ دلالت کرتا ہے شریعت اسلامیہ سے بڑی جہالت پر کیونکہ شریعت اسلامیہ نے کفروایمان شرک وتوحید کے درمیان فرق کیا ہے ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہ دین کا اتنا حصہ ضرور سیکھے جس کے ساتھ وہ شرک و کفر اور اجتہاد کے درمیان فرق کر سکے۔

سوال نمبر 12۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا لوگ ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام کی تقلید کے محتاج ہیں یا نہیں؟ اور جس مسئلہ میں نص نہ ہو اس میں تقلید گمراہی ہے یا نہیں ؟۔
جواب۔۔۔۔۔۔ اسکا جواب ویسا ہی ہے جیسا ہم نے پہلے تفصیلاً لکھا ہے کہ غیر مجتہد محتاج ہے مجتہد کی تقلید کی طرف اور مجتہد کی تقلید خواہ غیر منصوص مسئلہ میں ہو یا نص کے سمجھنے میں ہو جائزہے یہ تقلید گمراہی کی طرف مفضی نہیں ہے بلکہ اسکا گمراہی سے کوی تعلق نہیں۔
اللہ تعالیٰ سے توفیق کا سوال ہے ۔  




******************************